نان کیش بینکنگ ٹرانزیکشنز پر وِد ہولڈنگ ٹیکس 21 فیصد اضافے سے 7 ارب روپے ریکارڈ

ٹیکس وصولیوں میں اضافہ بینکوں کے ڈیپازٹس بڑھنے سے ہوا، ڈیپازٹس کا حجم 15 کھرب 10 ارب روپے سے 17 کھرب 90 ارب روپے تک جا پہنچا

185

اسلام آباد: رواں مالی سال 2020-21ء کے دوران نان کیش بینکنگ ٹرانزیکشنز پر وِد ہولڈنگ ٹیکس وصولیوں میں 21 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

جولائی تا مارچ 2020-21ء کے دوران نان کیش بینکنگ ٹرانزیکشنز کی مد میں ٹیکس محصولات کا حجم سات ارب روپے تک بڑھ گیا۔

لارج ٹیکس پیرز آفس (ایل ٹی او) کراچی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے دوران پانچ ارب 60 کروڑ روپے کی ٹیکس وصولیاں کی گئی تھیں۔

اس طرح گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں جاری مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران نان کیش بینکنگ ٹرانزیکشنز پر ود ہولڈنگ ٹیکس محصولات میں 1.2 ارب روپے یعنی 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مارچ 2020ء کے مقابلہ میں مارچ 2021ء کے دوران نان کیش بینکنگ ٹرانزیکشنز پر وِدہولڈنگ ٹیکس محصولات میں 57 فیصد اضافہ ہوا اور اس کا حجم مارچ 2020ء کے دوران 93 کروڑ 20 لاکھ روپے جبکہ مارچ 2021ء کے دوران ایک ارب 46 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔

رپورٹ کے مطابق ٹیکس وصولیوں میں اضافے کا بنیادی سبب بینکنگ سسٹم کے ڈیپازٹس میں ہونے والا اضافہ ہے اور گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں رواں مالی سال میں ڈیپازٹس میں 18.3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

واضح رہے کہ مارچ 2020ء کے اختتام پر بینکنگ سسٹم کے ڈیپازٹس کا حجم 15 کھرب 10 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا تھا جو 31 مارچ 2021ء کو 17 کھرب 90 ارب روپے تک بڑھ گیا۔

ڈیوڈنڈ آمدن پر وِد ہولڈنگ ٹیکس میں 20 فیصد اضافہ

لارج ٹیکس پیئرز آفس (ایل ٹی او) کراچی کی رپورٹ کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے 9 ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران ڈیوڈنڈز سے حاصل ہونے والی آمدنی پر ود ہولڈنگ ٹیکس وصولیاں 11.76 ارب روپے تک بڑھ گئیں۔

گزشتہ مالی سال میں جولائی تا مارچ 2019-20ء کے دوران محصولات کا حجم 9.57 ارب روپے رہا تھا، اس طرح گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں جاری مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران ڈیوڈنڈ آمدن پر ود ہولڈنگ ٹیکس محصولات میں 2.19 ارب روپے یعنی 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مارچ 2020ء کے مقابلہ میں مارچ 2021ء کے دوران ڈیوڈنڈ آمدن پر وِد ہولڈنگ ٹیکس وصولیوں میں 11 فیصد کمی ہوئی ہے اور محصولات کا حجم 1.03 ارب روپے کے مقابلہ میں 91 کروڑ 20 لاکھ روپے تک کم ہوا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here