’گزشتہ 15 سال میں پہلی مرتبہ پاکستان کی معاشی ترقی ہدف سے زیادہ رہی‘

رواں مالی سال کے دوران جی ڈی پی کا حجم 299 ارب ڈالر اور معاشی شرح نمو 3.94 فیصد ریکارڈ کی گئی، صنعتی شعبہ میں 8.7 فیصد، تعمیرات 8.3 فیصد، سروسز سیکٹر 4.4 فیصد، زراعت میں 2.8 فیصد ترقی ہوئی ، اکنامک سروے رپورٹ جاری

308
اسلام آباد: وزیر خزانہ شوکت ترین اکنامک سروے رپورٹ برائے مالی سال 2020-21ء پیش کر رہے ہیں (تصویر: پی آئی ڈی)

اسلام آباد: وفاقی حکومت کی جانب سے اقتصادی جائزہ رپورٹ برائے مالی سال 2020-21ء میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 15 سال میں پہلی مرتبہ پاکستان کی معاشی ترقی ہدف سے زیادہ رہی ہے۔

جمعرات کو جاری کی گئی اقتصادی جائزہ رپورٹ کے مطابق دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلہ میں پاکستان کی معیشت زیادہ تیزی سے بحال ہوئی ہے، حکومت کے بروقت دانشمندانہ مالیاتی و زری فیصلوں سے قومی معیشت تیزی سے کووڈ-19 سے پہلے کی سطح میں داخل ہو رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں ‘وی شیپ’ بحالی کا عمل جاری ہے اور رواں مالی سال کے دوران قومی معیشت میں 3.94 فیصد کی شرح نمو ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ گزشتہ مالی سال میں معاشی ترقی منفی0.47 فیصد رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیے:

پاکستان کی معاشی بڑھوتری کی شرح 4 فیصد تک رہنے کا امکان، فوربز

پاکستان کی معاشی شرح نمو 4.6 فیصد تک بڑھنے کی توقع، نئی رپورٹ جاری

رپورٹ کے مطابق ’یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ 15 سال میں پہلی مرتبہ قومی معیشت کی شرح نمو ہدف سے زیادہ رہی ہے، جاری مالی سال میں معیشت کے تقریباً تمام شعبوں کی شرح نمو میں نمایاں بڑھوتری ریکارڈ کی گئی ہے جو مختلف شعبہ جات کے لئے حکومت کے خصوصی اقدامات کی عکاسی کرتی ہے۔‘

اکنامک سروے رپورٹ کے مطابق زراعی شعبہ کی ترقی کے اقدامات سے پیداوار میں اضافہ ہوا، بڑے صنعتی اداروں کے شعبہ، تعمیرات اور برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا، کرنٹ اکائونٹ سرپلس رہا جبکہ مالیاتی خسارہ میں کمی واقع ہوئی جس سے پاکستان کا پرائمری بیلنس بھی سرپلس میں چلا گیا، روپے کی قدر بڑھ رہی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر 22 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حکومت نے قومی معیشت کو کووڈ-19 کے اثرات سے محفوظ بنانے اور معاشی بحالی کے لئے جامع اقدامات کے ساتھ ساتھ معاشرے کے کم آمدن طبقات کے لئے سماجی تحفظ کے پروگرام کے علاوہ زراعت، صنعت اور تعمیرات کے شعبوں کے لئے خصوصی پیکج متعارف کرائے جن کے نتیجہ میں زرعی شعبہ میں مجموعی طور پر 2.8 فیصد شرح نمو ریکارڈ کی گئی جبکہ بڑی فصلوں کی پیداوار میں 2.5 فیصد، لائیوسٹاک 3.1 فیصد، جنگلات میں 1.4 فیصد اور ماہی گیری کے شعبہ کی شرح نمو میں 0.7 فیصد اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال میں صنعتی شعبہ میں 8.7 فیصد شرح نمو ریکارڈ کی گئی، تعمیراتی شعبہ میں 8.3 فیصد اضافہ ہوا، خدمات کے شعبہ کی مجموعی شرح نمو 4.4 فیصد رہی جس میں سرکاری خدمات کے شعبہ میں 2.2 فیصد اور غیر سرکاری خدمات میں 4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

آئندہ مالی سال کیلئے جی ڈی پی کی شرح نمو 4.8 فیصد مقرر

عالمی بینک، آئی ایم ایف کے تخمینے کے برعکس پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.94 فیصد رہنے کا امکان

اقتصادی جائزہ رپورٹ کے مطابق موجودہ قیمتوں کے حساب سے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی ) میں 14.8 فیصد اضافے سے رواں مالی سال میں جی ڈی پی کا حجم 47 ہزار 709 ارب روپے تک بڑھا جبکہ گزشتہ مالی سال میں جی ڈی پی کا حجم 41 ہزار 556 ارب روپے رہا تھا۔ ڈالر کی قدر میں جی ڈی پی 263 ارب ڈالر کے مقابلہ میں 299 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2004ء کے بعد حقیقی مجموعی آمدنی میں سب سے زیادہ 7.1 فیصد اضافہ ہوا، ترسیلات زر میں 28 فیصد شرح نمو ریکارڈ کی گئی۔ مزید برآں وفاقی حکومت نے احساس پروگرام کو 181 ارب روپے سے 208 ارب روپے تک توسیع دی۔

اسی طرح رواں مالی سال میں جولائی تا مارچ کے دوران کل محاصل 6.5 فیصد اضافہ سے 4992.6 ارب روپے تک بڑھ گئے جبکہ ٹیکس محاصل 11.9 فیصد اضافہ سے 3365.5 ارب روپے کے مقابلہ میں 3765 ارب روپے تک پہنچ گئے۔

اقتصادی جائزہ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال 2021 کے آغاز پر کے ایس ای 100 انڈیکس 34 ہزار 421 پوائنٹس پر کھلا اور 31 مئی 2021 کو  47 ہزار 896 پوائنٹس پر بند ہوا اور اس میں 39.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اسی طرح سٹاک مارکیٹ میں کی جانے والی سرمایہ کاری میں 1737 ارب روپے کے اضافہ سے سرمایہ کاری کا حجم رواں مالی سال کے آغاز پر 6529 ارب روپے کے مقابلہ میں 8267 ارب روپے تک بڑھ گیا۔ افراط زر کی شرح 10.9 فیصد کے مقابلہ میں 8.8 فیصد تک کم ہوئی ہے جبکہ قومی برآمدات میں 13.6 فیصد اضافہ سے برآمدات کی مالیت جولائی تا اپریل 2020-21ء میں 20.9ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اپریل 2021ء کے اختتام پر زرمبادلہ کے قومی ذخائر 22.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جس میں سٹیٹ بینک کے پاس 15.6 ارب ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس 7.1 ارب ڈالر کے ذخائر موجود تھے۔ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت تعلیم، صحت اور غذائیت سمیت عام آدمی کی فلاح و بہبود کے لئے بھی جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کو یقینی بنا رہی ہے ۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here