عالمی بینک، آئی ایم ایف کے تخمینے کے برعکس پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.94 فیصد رہنے کا امکان

رواں سال زرعی سیکٹر کی شرح نمو 2.77 فیصد، صنعتی سیکٹر 3.57 فیصد، سروسز سیکٹر کی 4.43 فیصد رہی، فی کس آمدن 13.4 فیصد اضافہ سے 1543 ڈالر تک رہی، مجموعی قومی پیداوار 236 ارب ڈالر سے بڑھ کر 296 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی

831

اسلام آباد: عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو کے حوالے سے اندازوں کے برعکس قومی اکائونٹس کمیٹی نے رواں مالی سال 21-2020ء کیلئے جی ڈی پی کی شرح نمو کا تخمینہ 3.94 فیصد لگایا ہے۔

قومی اکائونٹس کمیٹی (این اے سی)  کا مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 3.94 فیصد رہنے کا تخمینہ زرعی شعبے کی 2.77 فیصد شرح نمو، صنعتی شعبے کی 3.57 فیصد اور سروسز سیکٹر کی 4.43 فیصد شرح نمو پر مبنی ہے۔

قومی اکائونٹس کمیٹی کا مجموعی قومی پیداوار کے جائزہ کے حوالہ سے 103واں اجلاس گزشتہ روز سیکرٹری وزارت منصوبہ بندی، ترقیات اور خصوصی اقدامات کی صدارت میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں رواں مالی سال کیلئے پیش کئے گئے جی ڈی پی اور گراس فکسڈ کیپیٹل فارمیشن (جی ایف سی ایف) کے عارضی تخمینہ جات 6 اور 9 ماہ کے تخفیف شدہ تازہ ترین اعدادوشمار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

ان تخمینہ جات کے مطابق رواں مالی سال 21-2020ء کے لئے جی ڈی پی کی عارضی شرح نمو کا تخمینہ 3.94 فیصد لگایا گیا ہے جو زرعی، صنعتی اور خدمات کے شعبوں کی بالترتیب 2.77 فیصد ، 3.57 فیصد اور 4.43 فیصد کی شرح نمو پر مبنی ہے۔

اس سے قبل حکومت نے رواں مالی سال کیلئے جی ڈی پی کی شرح نمو 2.1 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی تھی، آئی ایم ایف اور عالمی بینک نے رواں سال معاشی شرح نمو 1.5 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا تھا جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک نے شرح نمو 2 فیصد تک جانے کی توقع ظاہر کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے:

’پاکستان مکمل ویکسی نیشن کرکے جی ڈی پی میں 6.7 فیصد تک اضافہ کر سکتا ہے‘

حکومت کو مالی سال 2022ء میں جی ڈی پی کی شرح نمو 4.2 فیصد رہنے کی توقع

زرعی شعبہ کے اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال 21-2020ء میں زراعت میں 2.77 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جب کہ گزشتہ مالی سال 20-2019ء میں یہ اضافہ 3.31 فیصد تھا۔ جاری مالی سال کے دوران اہم فصلوں کی شرح نمو گندم، چاول اور مکئی کی زیادہ پیداوار کے نتیجہ میں 4.65 فیصد رہی ہے جبکہ گنا کی اب تک کی سب سے زیادہ پیداوار حاصل کی گئی ہے۔

رواں سال گندم کی پیداوار میں 8.1 فیصد، چاول کی پیداوار میں 13.6 فیصد، گنے کی پیداوار میں 22 فیصد اور مکئی کی پیداوار 7.38 فیصد اضافہ ہوا تاہم کپاس کی پیداوار میں 22.8 فیصد کی منفی شرح نمو ریکارڈ کی گئی ہے جس کے نتیجہ میں کپاس کی جننگ میں بھی 15.6 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔

دوسری فصلوں (سبزیاں، پھل اور سبز چارہ جات وغیرہ) میں 1.41 فیصد کی مثبت شرح نمو ہوئی ہے، اس کی بنیادی وجہ سبزیوں کی پیداوار کا نمایاں اضافہ ہے۔ لائیوسٹاک سیکٹر میں 3.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ جنگلات میں 1.4 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

رواں مالی سال کے دوران صنعتی شعبہ میں 3.57 فیصد کی مثبت شرح نمو ریکارڈ کی گئی ہے، کان کنی کے شعبہ میں 6.5 فیصد کمی واقع ہوئی، بڑے پیمانے میں مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) سیکٹر نے غیرمعمولی 9.29 فیصد کی مثبت شرح نمو ظاہر کی ہے۔

اس نمو میں اہم شراکت دار ٹیکسٹائل 5.9 فیصد، فوڈ بیوریجز اینڈ ٹوبیکو 11.73 فیصد، پیٹرولیم مصنوعات 12.71 فیصد، ادویہ سازی 12.57 فیصد ، کیمیکلز 11.65 فیصد، غیر دھاتی معدنی مصنوعات کی شرح ترقی 24.31 فی صد رہی۔

اسی طرح آٹوموبائلز سیکٹر کی شرح نمو 23.38 فیصد اور کھاد سازی کی شرح نمو 5.69 فیصد ریکارڈ کی گئی، بجلی اور گیس کے ذیلی شعبہ میں 22.96 فیصد کی کمی واقع ہوئی جس کی بنیادی وجہ ڈسکوز کو حکومت کی طرف سے سبسڈی میں کمی ہے۔

رواں مالی سال کے دوران تعمیراتی سرگرمیوں میں 8.34 فیصد اضافہ ہوا جس کی بنیادی وجہ عام سرکاری اخراجات اور نجی شعبہ کے تعمیراتی کاموں سے متعلق اخراجات میں اضافہ ہے۔

اسی طرح سروسز سیکٹر کئی سالوں تک ترقی کا ایک اہم عنصر رہا ہے اور رواں سال بھی اس شعبہ کے عارضی تخمینہ میں 4.43 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ تجارت کے شعبہ میں 8.37 فیصد کا اضافہ ہوا اور بنیادی طور پر اس کی وجہ سے مارکیٹ میں اضافہ ہوا ہے۔

ٹرانسپورٹ، سٹوریج اور مواصلات کے شعبہ میں 0.61 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ فنانس اور انشورنس سیکٹر کی شرح ترقی میں 7.84 فیصد کا اضافہ ہوا۔ خدمات کے بقیہ حصوں یعنی رہائش، عام حکومت اور دیگر نجی خدمات میں بالترتیب 4.01 فیصد، 2.20 فیصد اور 4.64 فیصد کی مثبت شرح نمو ظاہر ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے:

2021ء پاکستانی معیشت کیلئے کیسا ہو گا؟ آئی ایم ایف کی امید افزا رپورٹ سامنے آ گئی

آئندہ پانچ برسوں میں پاکستان کی جی ڈی پی 6 فیصد ہونا معمول کی بات ہو گی، خلیج ٹائمز

مارکیٹ کی موجودہ قیمتوں کے لحاظ سے بھی جی ڈی پی کا بھی جائزہ لیا گیا، جاری مالی سال 21-2020ء کیلئے اس کا حجم 47.70 کھرب روپے بنتا ہے جو گزشتہ مالی سال 2019-20ء کے 41.55 کھرب روپے سے 14.8 فیصد زیادہ ہے۔

جاری مالی سال21-2020ء کیلئے پاکستان میں فی کس آمدنی کا حساب دو لاکھ 46 ہزار 414 روپے لگایا گیا ہے اور اس میں 14.6 فیصد کی شرح نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔

گزشتہ مالی سال 20-2019ء کے دوران فی کس آمدن کا حجم دو لاکھ 15 ہزار 60 روپے رہا تھا،  ڈالر کی قدر میں فی کس آمدنی گزشتہ مالی سال 20-2019ء میں 1316 ڈالر رہی تھی جو 13.4 فیصد اضافہ سے جاری مالی سال 21-2020 میں 1543 ڈالر تک بڑھ گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق قومی اکائونٹس کمیٹی کے بعد وزارت منصوبہ بندی میں اینول پلان کوآرڈی نیشن کمیٹی (اے پی سی سی) کا اجلاس آئندہ ہفتے (26 مئی) متوقع ہے جس میں آئندہ سال کا معاشی منظر نامہ تشکیل دیا جائے گا۔ اس دوران مالی سال 2020-21ء کے سالانہ پلان کا جائزہ لیا جائے گا اور آئندہ مالی سال کیلئے تجاویز مرتب کی جائیں گی۔

قومی اکائونٹس کمیٹی اور اینول پلان کوآرڈی نیشن کمیٹی کی جانب سے سامنے آنے والی حتمی تجاویز کو نیشنل اکنامک کونسل (این ای سی) کو بھیجا جائے گا۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نیشنل اکائونٹس کمیٹی نے جی ڈی پی میں نمو کے اندازے کو حتمی شکل دیتے ہوئے اس کے 3.94 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے۔

اپنے ٹویٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ یہ شرح نمو کورونا کی وبا پر قابو پاتے ہوئے اختیار کی گئی اور ہماری معاشی پالیسیوں کی کامیابی کی عکاس ہے۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ ہماری “V” (وکٹری) شکل کی معاشی بحالی زراعت، صنعت اور خدمات جیسے تین  بڑے شعبوں کے درمیان توازن پر محیط ہے۔

ادھر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات اسد عمر نے کہا ہے کہ شرح نمو میں اضافے اور ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر مستحکم ہونے پر رواں سال فی کس آمدنی میں 13.4 فیصد نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ٹوئٹر پر ایک بیان میں اسد عمر کا کہنا تھا کہ فی کس آمدنی 1361 ڈالر سے بڑھ کر 1543 ڈالر ہو گئی ہے۔ معاشی پیداوار میں اضافہ روپے کی بڑھتی قدر بڑی وجہ ہے۔ مجموعی قومی پیداوار 236 ارب ڈالر سے بڑھ کر 296 ارب ڈالر ہو گئی ہے۔

وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ نیشنل اکاﺅنٹس کمیٹی نے رواں سال کی جی ڈی پی شرح نمو کا تخمینہ تقریبا چار فیصد لگایا ہے جو شاندار معاشی بحالی کی اعلیٰ مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی کے برعکس معیشت کی تیزی سے ترقی بڑھتے بیرونی خسارے اور کم ہوتے زرمبادلہ کا باعث نہیں بنی، مستقبل میں انشاءللہ معاشی ترقی کی رفتار مزید تیز ہو گی۔

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم اقتصادی شرح نمو میں اضافہ پر مبارکباد کی مستحق ہے۔

اپنے ایک ٹویٹ میں وزیر خزانہ نے لکھا کہ آئی ایم ایف کے کڑے پروگرام کے باوجود مستحکم شرح نمو خوش آئند ہے، کرنٹ اکائونٹ خسارہ، زر مبادلہ کے کم ذخائر اور کورونا وبا کے باوجود معاشی ترقی کی شرح میں اضافہ قابل قدر ہے۔

چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل )ر( عاصم سلیم باجوہ کا کہنا ہے کہ کورونا وبا کے باوجود رواں مالی سال کے دوران جی ڈی پی کا 3.94 فیصد رہنا بہت خوش آئند ہے۔

اپنے ٹویٹ میں عاصم باجوہ نے کہا کہ کورونا کے باوجود جی ڈی پی گروتھ بہت اچھی ہے، یہ بے حد محنت کے بغیر ممکن نہیں۔ ملکی معیشت توقع سے بڑھ کر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here