پاکستان کی معاشی بڑھوتری کی شرح 4 فیصد تک رہنے کا امکان، فوربز

سال 2020ء کے دوران پاکستان کے قرضوں میں جی ڈی پی کے تناسب سے کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوئی جبکہ ابھرتی ہوئی معیشتوں میں وبا کی وجہ سے جی ڈی پی کے لحاظ سے قرضوں کی شرح 10 فیصد بڑھی، فوربز میگزین کی رپورٹ

507

اسلام آباد: امریکا کے معروف بزنس میگزین فوربز نے کورونا وبا سے نمٹنے اور پاکستانی معیشت کے استحکام اور بڑھوتری کیلئے حکومت کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دانش مندانہ پالیسیوں کے ذریعہ پاکستان اپنی معیشت کی بحالی میں کامیاب رہا ہے اور معاشی بڑھوتری کی شرح 4 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔

میگزین نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ایسے وقت میں جب امریکہ اور بھارت جیسے ممالک کو بھی کورونا وائرس سے نمٹنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ اس صورت حال میں پاکستان اپنی معیشت کی بحالی میں کامیاب رہا ہے جو توقع ہے کہ 2021ء میں ابتدائی تخمینوں سے تجاوز کر کے تقریباََ 4 فیصد کی شرح سے ترقی کرے گی۔

رپورٹ کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ابتدائی طور پر جی ڈی پی میں 3 فیصد جبکہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے بالترتیب 1.5 فیصد اور 1.3 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی تھی۔ تاہم یہ 4 فیصد رہنے کی توقع ہے اور ملک کی فی کس آمدنی بھی 14.6 فیصد اضافے سے 2020ء کی 1405 ڈالر سے بڑھ کر 2021ء کے اختتام تک 1610 ڈالر ہو جائے گی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خدمات کا شعبہ، جس کے بارے میں پیش گوئی کی گئی کہ وہ 2020-21ء میں 4.43 فیصد کی شرح سے ترقی کرے گی، اس کا مجموعی ترقی میں اہم حصہ رہا ہے، یہ یقینی طور پر پاکستان جیسے ملک کے لئے انتہائی قابل ذکر ہے جو اپنے سروسز سیکٹر کو وسعت دینے میں کامیاب ہو رہا ہے۔ زرعی شعبے کی شرح نمو کا اندازہ 2.77 فیصد جبکہ صنعتی شعبے کا 3.57 فیصد لگایا گیا ہے۔

فوربز نے لکھا ہے کہ بھارت میں کورونا کی صورت حال کافی خراب رہی ہے جہاں ساڑھے تین لاکھ کے لگ بھگ اموات ہو چکی ہیں، تاہم پاکستان میں سوشل میڈیا کی وجہ سے شعور میں اضافہ ہوا، شہریوں نے وائرس سے بچاؤ کے لیے ماسک پہننا شروع کئے۔ پچھلے سال عید کے موقع پر کیسز میں اضافے کا رجحان دیکھنے میں آیا، لیکن رواں سال حکومت نے جزوی لاک ڈاون لگانے، غیر ضروری کاروباروں کو بند کرنے اور سیاحت پر پابندی عائد کرنے جیسے اقدامات کیے، جس سے کورونا کیسز میں اضافہ نہیں ہو سکا۔

یہ بھی پڑھیے:

پاکستان کی معاشی شرح نمو 4.6 فیصد تک بڑھنے کی توقع، نئی رپورٹ جاری

عالمی بینک، آئی ایم ایف کے تخمینے کے برعکس پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.94 فیصد رہنے کا امکان

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتہ یعنی 26 مئی اور27 مئی کو پاکستان سٹاک مارکیٹ میں بالترتیب 1.56 ارب حصص اور 2.21 ارب حصص کی اب تک کی بلند ترین خریدوفروخت ہوئی ہے۔

پاکستان میں سرمایہ کار اور تاجر عوامی بجٹ اور زیادہ بڑھوتری کی تجاویز کے حوالہ سے پرامید اور پرجوش ہیں، گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر کے مطابق لچک دار زری اور مالیاتی پالیسی کی وجہ سے جی ڈی پی میں غیرمتوقع بڑھوتری ہو رہی ہے، سٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ میں 625 بیسس پوائنٹس کمی کی اور اسے سات فیصد کی سطح پر لایا گیا۔

رضا باقر کے مطابق ’حکومت نے کورونا سے پیدا شدہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے مجموعی قومی پیداوار کے پانچ  فیصد کے مساوی امدادی پیکج دیا، وبا پر بھی قابو پایا گیا، پاکستان میں نئے کیسز کی شرح 12 افراد فی ملین ہے جبکہ دنیا بھر میں یہ شرح 62 کیسز فی ملین ہے۔‘

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کی ورلڈ اکنامک آئوٹ لک کے مطابق پاکستان کے سرکاری قرضوں کی شرح میں جی ڈی پی کے تناسب سے سال 2020ء کے دوران گزشتہ سال کے مقابلے میں بڑی حد تک کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوئی، بلوم برگ نے بھی یہی رپورٹ دی ہے جبکہ ابھرتی ہوئی معیشتوں میں وبا کی وجہ سے جی ڈی پی کے لحاظ سے قرضوں کی شرح 10 فیصد بڑھی ہے۔

رضا باقر نے بتایا کہ حکومت کی دانشمندانہ مالیاتی اور زری پالیسی کی وجہ سے جی ڈی پی کے لحاظ سے قرضوں کی شرح نہیں بڑھی۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں رواں سال کے اختتام تک مہنگائی کی شرح 7 فیصد سے 9 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، گورنر سٹیٹ بنک کے مطابق مہنگائی میں حالیہ اضافہ زیادہ تر توانائی اور غذائی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف نے 6 ارب ڈالر کے توسیع شدہ فنڈ کی سہولت دی۔ گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان استحکام سے نمو کی طرف جا رہا ہے، حکومت 19 ارب ڈالر کے حسابات جاریہ کے خسارہ کو 90 کروڑ ڈالر کے سرپلس میں بدلنے میں کامیاب ہوئی ہے، یہ اعلیٰ معیار کے اقدامات کی بدولت ممکن ہوا۔ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 7.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 16 ارب ڈالر ہو گئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ کورونا وباء سے نمٹنے کے لیے کامیاب اقدامات اور آئی ایم ایف پروگرام کی کامیابی، جیسا کہ 4 فیصد کی جی ڈی پی نمو سے ظاہر ہے، پاکستان کی نمو کرنے کی صلاحیت اور اچھی سرمایہ کاری کے مواقع پیش کرنے کی غماز ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here