مہنگائی کی شرح میں سالانہ بنیادوں پر 16.12 فیصد اضافہ

3 جون 2021ء کو ختم ہونے والے ہفتہ کے دوران 20 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ، 7 کی قیمتوں میں کمی اور 24 کی قیمتوں میں استحکام رہا، ادارہ برائے شماریات

177

اسلام آباد: ملک میں مہنگائی کی شرح میں گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ہفتہ وار بنیادوں پر 0.61 فیصد کمی جبکہ سالانہ بنیادوں پر 16.12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ادارہ برائے شماریات پاکستان (پی بی ایس) کے مطابق 3 جون 2021ء کو ختم ہونے والے ہفتہ کے دوران 20 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ، 7 کی قیمتوں میں کمی اور 24 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

قیمتوں کے حساس اعشاریے کے مطابق ہفتہ رفتہ میں میں چکن کی قیمتوں میں 16.75 فیصد، کیلا 9.80 فیصد، دال مونگ 1.71 فیصد، آٹا 0.75 فیصد، اری سِکس نائن چاول 0.73 فیصد، دال چنا 0.14 فیصد اور دال ماش کی قیمتوں میں 0.12 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

پی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق سب سے کم یعنی 17 ہزار 732 روپے ماہانہ آمدنی رکھنے والے گروپ کیلئے مہنگائی کی شرح میں 0.47 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

17 ہزار 733  روپے سے لے کر 22 ہزار 888 روپے آمدن رکھنے والے گروپ کیلئے مہنگائی کی شرح میں 0.65 فیصد کمی ہوئی، 22 ہزار 889 روپے سے لے کر 29 ہزار 517 روپے آمدنی والے گروپ کے لیے 0.66 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

اسی طرح 29 ہزار 518 روپے سے لے کر 44 ہزار 175 روپے آمدنی والے گروپ کیلئے مہنگائی کی شرح میں 0.75 فیصد اور اس سے زیادہ ماہانہ آمدنی رکھنے والے گروپ کیلئے 0.55 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تاہم ہفتہ رفتہ میں سالانہ بنیادوں پر افراط زر کی شرح میں 16.12 فیصد اضافہ ہوا۔

دوسری جانب وفاقی وزارت خزانہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ حالیہ ڈیٹا کے اجراء سے مہنگائی کے منظرنامہ میں بہت بہتری آئی ہے اور مہنگائی کے دباﺅ میں کمی کے واضح اشارے موجود ہیں۔

وزارت خزانہ کے ترجمان نے کے مطابق مئی میں صارفین کیلئے قیمتوں کا حساس اشاریہ (سی پی آئی ) 10.9 فیصد ریکارڈ کیا گیا جو ایک ماہ قبل (اپریل میں) 11.2 فیصد تھا۔ یہ مہنگائی کے دباﺅ میں کمی کا واضح اشارہ ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ مزید دو طرح کی پیشرفت سے اس دعویٰ کی تائید ہو رہی ہے، پہلا یہ کہ ماہانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 0.1 فیصد گر گئی جو اپریل میں ایک فیصد تھی۔ دوسرا یہ کہ مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں اوسط افراط زرکی شرح 8.8 فیصد تک گر گئی جو قبل ازیں دو ہندسی یعنی 10.9 فیصد تھی۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اشیائے خوراک کی مہنگائی میں بھی کمی آ رہی ہے، شہری علاقوں میں اشیائے خوراک کی افراط زر جو اپریل میں 2.7 فیصد تھی، مئی میں کم ہو کر 1.1 فیصد تک گر گئی۔ اسی طرح دیہی علاقوں میں اشیائے خوراک کی افراط زر جو اپریل میں 14.1 فیصد تھی، مئی میں کم ہو کر 12.8 فیصد ہو گئی ہے۔

اسی طرح کے رحجانات بنیادی افراط زر میں بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں، شہری اور دیہی علاقوں میں بنیادی افراط زر کی شرح بالترتیب سات فیصد سے کم ہو کر 6.8 فیصد اور 7.7 فیصد سے کم ہو کر 7.6 فیصد ہو گئی ہے۔

ترجمان وزارت خزانہ کے بقول ‘اچھی فصلوں، رسد کی بہتر صورت حال اور منڈیوں میں قیمتوں کی موثر نگرانی کے نتیجہ میں افراط زر کے دباﺅ میں مزید کمی آئے گی۔’

انہوں نے بتایا کہ صارفین کیلئے قیمتوں کے حساس اشاریہ (ایس پی آئی ) میں گزشتہ ہفتہ کے مقابلہ میں 0.63 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، اسی طرح سالانہ بنیادوں پر قیمتوں کا حساس اشاریہ (ایس پی آئی ) 17.23 فیصد سے گر کر 16.34 فیصد ہو گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here