’دنیا بھر میں مزید 10 کروڑ کارکنوں کو غربت کے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے‘

کووڈ۔19 نے معاشی ترجیحات بدل ڈالیں، معیشت کے بعض شعبوں میں روزگار کی دستیابی کم ہوئی جبکہ کہیں تو روزگار بالکل ختم ہو کر رہ گیا جس کی دوبارہ بحالی کی توقع عبث ہے، رپورٹ

342

اسلام آباد: کووڈ۔19 کی عالمی وبا سے دنیا بھر میں مزید 10 کروڑ سے زائد کارکنوں کو غربت کے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وبا کی وجہ سے عالمی لیبر مارکیٹ کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے اور 2023ء سے قبل لیبر مارکیٹ کا وبا سے قبل کی صورت حال کے مطابق بحال ہونا متوقع نہیں۔

آئی ایل او کی ’ایمپلائمنٹ اینڈ سوشل آﺅٹ لک رپورٹ‘ میں کہا گیا ہے کہ اگر کووڈ۔19 کی وبا پر قابو نہ پایا جا سکا تو رواں سال 2021ء کے اختتام تک دنیا میں روزگار کے مزید ساڑھے سات کروڑ مواقع کی کمی کا خدشہ ہے جبکہ آئندہ سال 2022ء میں روزگار کے دو کروڑ 30 لاکھ سے زائد مواقع میں کمی کا امکان ہے۔

آئی ایل او نے کہا ہے کہ کووڈ۔19 کی وبا صرف صحت کے شعبہ کا بحران نہیں ہے بلکہ روزگار اور انسانی بحران بھی ہے۔ 2022ء کے اختتام تک دنیا بھر میں بے روزگار ہونے والے کارکنوں کی تعداد 20 کروڑ 50 لاکھ سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

وبا کی وجہ سے 10 کروڑ سے زائد افراد انتہائی غربت کا شکار

چین کا 246 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے 80 کروڑ افراد کو غربت سے نکالنے کا دعویٰ

آئی ایل او کے سربراہ گائے رائیڈر (Guy Reder) کا کہنا ہے کہ روزگار کے زیادہ مواقع پیدا کرنے، شدید متاثرہ طبقات کے تحفظ اور معاشی شعبہ کے نقصانات کے خاتمہ کے لئے عالمی سطح پر جامع اور مربوط کاوشوں کی اشد ضرورت ہے، ورنہ آئندہ کئی سالوں تک دنیا کو انسانی وسائل اور معاشی شعبے سے استفادہ کے مسائل کا سامنا رہے گا جس کے نتیجہ میں غربت اور معاشی عدم مساوات میں اضافہ کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ لیبر مارکیٹ کے لیے کورونا وبا قیامت خیز ثابت ہوئی ہے، اس کی وجہ سے دنیا بھر میں روزگار کا ایسا بحران پیدا ہو چکا ہے جو 2008ء کی عالمی کساد بازاری کے وقت پیدا ہونے والے روزگار کے بحران سے چار گنا زیادہ خوفناک ہے۔

دوسری جانب عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا اپنی ’ورلڈ اکنامک آﺅٹ لک‘ نامی رپورٹ میں کہنا ہے کہ گزشتہ سال 2020ء کے دوران کورونا وبا کے نتیجہ میں عالمی سطح پر ریکارڈ تعداد میں روزگار کے مواقع متاثر ہوئے اور وبا کے بعد معاشی بحالی کے مرحلہ میں روزگار کے مواقع کی بحالی کا امکان کم ہی ہے۔

آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ کہ کووڈ۔19 نے معاشی ترجیحات بھی بدل دی ہیں جس کا اثر روزگار کی فراہمی اور اس کے مواقع پر بھی پڑا ہے، وبا سے معیشت کے بعض شعبوں میں سکڑاﺅ اور بعض میں پھیلاﺅ آیا ہے، سکڑاﺅ کے شکار معاشی شعبوں میں روزگار کی دستیابی کی شرح کم ہوئی ہے اور کہیں تو روزگار بالکل ختم ہو گیا ہے جس کی دوبارہ بحالی کی توقع عبث ہے۔

دوسری جانب عالمی معیشت کے پھیلائو والے شعبوں میں روزگار کے کئی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ جیسا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، ای کامرس اور فری لانسنگ جیسے شعبوں میں روزگار کے مواقع بڑھ گئے ہیں گو کہ ترجیحات بدل کر ورک فرام ہوم کی جانب منتقل ہو چکی ہیں۔

عالمی مالیاتی فنڈ نے خبردار کیا ہے کہ کووڈ۔19 سے بے روزگار ہونے والے کارکن ابھی تک وبا سے قبل کمائے جانے والے اپنے معاوضہ کے حصول کی جدوجہد میں مصروف ہیں جبکہ روزگار حاصل کرنے والے کارکنوں کو کم اجرت مل رہی ہے۔

آئی ایم ایف نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کارکن طبقہ کی آمدنی میں عدم مساوات کے خاتمہ کے لئے پالیسی اقدامات پر توجہ دی جائے تاکہ وبا کے بعد معاشی بحالی کے ساتھ روزگار کی عالمی مارکیٹ بھی بحال ہو سکے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here