وبا کی وجہ سے 10 کروڑ سے زائد افراد انتہائی غربت کا شکار

گزشتہ 30 سال کے دوران غربت کی شرح میں اتنی تیزی سے اضافہ نہیں دیکھا گیا جتنی تیزی سے 2020ء کے دوران غربت بڑھی، اقوام متحدہ

220

اسلام آباد: کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے بے روزگاری، کام کے اوقات اور اجرت میں کمی کی وجہ سے سال 2020ء کے دوران دنیا بھر میں دس کروڑ سے زیادہ افراد انتہائی غربت کا شکار ہو گئے ہیں۔

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا بھر کے غریب طبقات پر کووڈ۔19 کے اثرات بے حد زیادہ پریشان کن ہیں۔ پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے کیلئے پوری دنیا کو مل کر کاوشیں کرنا ہوں گی۔

رپورٹ کے مطابق حالیہ بحران سے بنیادی ترقی کے اہداف متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ کم آمدنی والے اور غریب ممالک کے پاس عوامی تحفظ کے لئے ضروری فنڈز کی دستیابی بھی ایک مسئلہ ہے اور وہ اپنے عوام کی فلاح و بہبود اور زندگیوں کے تحفظ سمیت صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچہ سمیت دیگر اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے حوالہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

چین کا 246 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے 80 کروڑ افراد کو غربت سے نکالنے کا دعویٰ

’کورونا وباء، 10 کروڑ انسانوں کو انتہائی غربت، ساڑھے 26 کروڑ کو بھوک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے‘

آئی ایم ایف نے تجویز پیش کی ہے کہ طویل المدتی بہتر شرح نمو، زیادہ محصولات کے حصول اور پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لئے نجی سرمایہ کاری کے فروغ کی حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔

تاہم رپورٹ میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ کم آمدنی والے ممالک بنیادی ضروریات کے اہم منصوبوں کے لئے فنڈز اکٹھے نہیں کر سکیں گے، اس حوالہ سے عالمی سطح پر مربوط کوششوں کے تحت پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کو یقینی بنانے کے لئے عالمی برادری کو باہم مل کر کوشش کرنی ہو گی تاکہ کروڑوں افراد کو غربت سے نکالا جا سکے۔

اقوام متحدہ نے اس حوالہ سے کہا ہے کہ گزشتہ 30 سال کے دوران غربت کی شرح میں اتنی تیزی سے اضافہ نہیں دیکھا گیا جتنی تیزی سے 2020ء کے دوران غربت بڑھی ہے۔

گزشتہ برس ستمبر میں اقوام متحدہ میں 60 ممالک کے وزرائے خزانہ اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے نمائندوں کی ایک وڈیو کانفرنس میں بھی یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ  کورونا کے پیدا کردہ بحران کے نتیجے میں 7 سے 10 کروڑ انسان انتہائی غربت کا شکار ہو سکتے ہیں جبکہ ساڑھے 26 کروڑ افراد کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

کانفرنس میں اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکریٹری جنرل آمنہ محمد نے کہا تھا کہ ایک اندازے کے مطابق 40 کروڑ ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں جس سے سب سے زیادہ خواتین متاثر ہوئی ہیں۔ تقریباً ایک ارب 60 کروڑ بچوں کی تعلیم میں خلل پڑا ہے، اس لئے ہمیں فوری اور دیرپا حل تلاش کرنا ہو گا۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب دنیا میں کورونا وائرس سے بچائو کیلئے ویکسین کی تیاری کی تگ و دو جاری تھی، کئی ممالک میں لاک ڈائون کی صورت سخت پابندی نافذ تھیں، صنعتی اور تجارتی ادارے بند تھے اور دنیا تیزی سے کساد بازاری کی جانب بڑھ رہی تھی۔

تاہم 2021ء کے دوران جب بیشتر ممالک تیزی سے کورونا سے بچائو کی ویکسی نیشن کر رہے ہیں اور دنیا بھر میں صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں ناصرف بحال ہو چکی ہیں بلکہ کئی ممالک میں معاشی بحالی کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے اس کے باوجود غربت میں اضافے کے خدشات عالمی رہنمائوں کی توجہ کے متقاضی ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here