چین کا 246 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے 80 کروڑ افراد کو غربت سے نکالنے کا دعویٰ

91

بیجنگ: چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے گزشتہ آٹھ سالوں کے دوران غربت میں کمی لانے کیلئے 16 کھرب یوآن (246 ارب ڈالر) کی سرمایہ کاری کی ہے۔

صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین نے مختصر وقت میں اپنے کروڑوں شہریوں کو غربت سے نکالا ہے اور یہ کامیابی ابھی تک کوئی اور ملک حاصل نہیں کر سکا۔

دیہی علاقوں میں فرائض سرانجام دینے والے سرکاری افسران میں ایوارڈز تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر نے کہا کہ وہ مختصر وقت میں کروڑوں شہریوں کو غربت سے نکالنے کے تاریخی تجربہ، جسے ایک معجزہ قرار دیا جا سکتا ہے، کو دیگر ترقی پذیر ممالک کے ساتھ شیئر کرنے کو تیار ہیں۔

واضح رہے کہ چین میں یومیہ 2.30 ڈالر سے کم آمدن والوں کو غریب تصور کیا جاتا ہے۔ عالمی بینک کے ماہرین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ چین نے 1970ء کے عشرے سے متعارف کرائی جانے والے اقتصادی اصلاحات کی مدد سے 80 کروڑ شہروں کو انتہائی غربت سے نکالا ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے 2015ء میں اپنی حکومت کے اس ہدف کا اعلان کیا تھا جس کے تحت پانچ سال کے عرصہ میں ملک کے انتہائی محدود آمدن والے علاقوں میں غربت میں خاطر خواہ کمی لانا تھا ۔

چین کی حکومت کے مطابق یہ ہدف ایک سال قبل 2019ء میں ہی حاصل کر لیا گیا تھا اور اب چین دنیا کے متعدد مالک کو اپنے ہاں غربت میں کمی لانے کیلئے مالی امداد فراہم کر رہا ہے۔

چینی حکومت کے مطابق غربت میں کمی لانے کیلئے سڑکوں اور جدید رہائشی عمارتوں کی تعمیر میں بھاری سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں کے مکینوں کو ٹیکس میں چھوٹ اور سبسڈی دینے کی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ زرعی علاقوں میں کاشت کاری کا صدیوں پرانا طریقہ کار تبدیل کرکے جدید مشینری اور زرعی ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا گیا ہے جس کے باعث چین کے زراعت سے وابستہ علاقوں کی قسمت بدلنے میں محض چند سال لگے ہیں۔

چین کی تخفیف غربت کی حکمت عملی کو ورلڈ بینک جیسے عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے بھی سراہا جا رہا ہے اور اب چین اپنی تاریخ کے سب سے بڑی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے ذریعے ایک درجن سے زائد ممالک میں سرمایہ کاری کر کے چینی افرادی قوت کو وہاں زیادہ سے زیادہ کھپا رہا ہے جس سے ملازمت پیشہ اور ہنرمند چینیوں کے معیار زندگی کو مزید بلند کرنے میں مدد مل رہی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here