‘پاکستان ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک سے 20 ارب ڈالر حاصل کرنے کی کوشش کرے گا’

آئندہ مالی سال جی ڈی پی 4.5 فیصد سے 5 فیصد اور 2022-23ء  میں 6 فیصد تک لے جانے کی کوشش کریں گے،  بنیادی ڈھانچہ کے منصوبوں پر چھ ارب ڈالر خرچ ہوں گے، ٹیکس ہدف 6 کھرب روپے مقرر کیا جائے گا: وزیر خزانہ کا بلوم برگ کو انٹرویو

561
تصویر: بلوم برگ ویب سائٹ

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر سال روزگار کے 20 لاکھ مواقع بڑھانے کی ضرورت ہے۔

عالمی جریدے بلوم برگ کو انٹرویو میں وزیر خزانہ نے کہا کہ روزگار اور معاشی ترقی کیلئے حکومت آئندہ مالی سال میں بنیادی ڈھانچہ کے بڑے منصوبوں پر چھ ارب ڈالر خرچ کرنا چاہتی ہے، وبا کی وجہ سے پیدا شدہ حالات بہتر ہوئے تو آئندہ مالی سال میں 4.5 فیصد سے لے کر 5 فیصد اور 2022-23ء  میں 6 فیصد بڑھوتری کی کوشش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سائز اور تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ نوجوانوں کی موجودگی کے تناظر میں معاشی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ ہر سال روزگار کے 20 لاکھ مواقع پیدا کیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیے:

ٹیکس نہیں بڑھائیں گے، پاکستان کا آئی ایم ایف کو انکار

حکومتی دعوئوں کے برعکس اپریل میں مہنگائی دوہرے ہندسے میں داخل

’آئی ایم ایف کی تلوار صرف ہم پر لٹک رہی ہے‘، وزیر خزانہ کا دوبارہ مذاکرات کا عندیہ

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم بڑھوتری کی طرف نہ گئے تو ہمیں بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، پہلے محصولات میں اضافہ کرنا ہو گا، جاری مالی سال میں محصولات کا ہدف چار کھرب 75 ارب ارب روپے رکھا گیا، آئندہ مالی سال یہ ہدف 6 کھرب روپے رکھا جائے گا، اگر ہم نے ریونیو میں اضافہ نہ کیا تو پھر معیشت کو ترقی دینے کیلئے سہولیات کو بھولنا ہو گا۔‘

آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بارے میں سوال پر وزیر خزانہ نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ محصولات میں اضافہ اور توانائی کے قرضوں میں کمی سمیت اہم اہداف کو متبادل طریقوں سے حاصل کر سکتے ہیں۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ یہ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کیلئے آخری بیل آوٹ پیکج ہو۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک سے 20 ارب ڈالر کے وہ مختص فنڈز حاصل کرنے کی کوشش کرے گا جو ابھی تک پاکستان نے حاصل نہیں کئے۔ گلوبل سکوک بانڈز جاری کئے جائیں گے۔ آئندہ مالی سال میں مالیاتی خسارہ جاری مالی سال کے مقابلہ میں ایک یا 1.5 فیصد کم ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکنالوجی کی برآمدات کا ہدف دو ارب ڈالر تک مقرر کیا جائے گا، ہمارا ارادہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی برآمدات کو دو سالوں میں 8 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچایا جائے، حکومت اس شعبہ کو بھرپور معاونت فراہم کرنا چاہتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here