’آئی ایم ایف کی تلوار صرف ہم پر لٹک رہی ہے‘، وزیر خزانہ کا دوبارہ مذاکرات کا عندیہ

عالمی مالیاتی فنڈ کو بجلی کے شعبے کا گردشی قرض کم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن اس کا قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ بالکل ناجائز ہے، اس سے مہنگائی بڑھے گی: شوکت ترین

432

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے دوبارہ مذاکرات کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ 

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کے دوران شوکت ترین نے کہا کہ آئی ایم ایف کا بجلی مہنگی کرنے کا مطالبہ غیرمنصفانہ ہے، پاور ٹیرف میں اضافے سے صرف بدعنوانی میں اضافہ ہو گا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پاور ٹیرف میں اضافہ صرف اور صرف مہنگائی کا پیش خیمہ ثابت ہو گا جبکہ کورونا وائرس کی تیسری لہر کی وجہ سے ملک کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ “ہم نے آئی ایم ایف کو بجلی کے شعبے کا گردشی قرض کم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ بالکل ناجائز ہے۔”

یہ بھی پڑھیے:

آئی ایم ایف کی تجویز پر حکومت کا انکم ٹیکس سلیبس کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ

آئی ایم ایف کا پاکستان سے سرکاری محکموں میں اصلاحات کا عمل تیز کرنے کا مطالبہ

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ اگر حکومت بجلی مہنگی کرے کی بجائے دیگر ذرائع سے گردشی قرض پر قابو پا لیتی ہے تو عالمی قرض دہندہ کی شرائط کو پورا کیا جا سکتا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ وہ ٹیکسوں میں بھی اضافہ نہیں کرنا چاہتے، اس کی بجائے مزید لوگوں کو ٹیکس کے دائرے میں لانے کو ترجیح دیں گے، سیلز ٹیکس اور آڈٹ کے نظام کو بھی بہتر بنایا جائے گا، 17 فیصد جنرل سیلز ٹیکس بہت زیادہ ہے، اس میں کمی کیلئے طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ “دنیا بھر میں فنانشل اور مانیٹری والٹس کام کر رہے ہیں ہیں لیکن آئی ایم ایف کی تلوار صرف ہم پر لٹک رہی ہے۔”

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت جن سرکاری اداروں (ایس او ایز) کو پبلک سیکٹر میں چلانے کے قابل نہیں، ان اداروں کی نجکاری کی جائے گی۔

معاشی استحکام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شوکت ترین کا کہنا تھا کہ 4 فیصد سے 5 فیصد اقتصادی شرح نمو ملک کیلئے کافی ہے اور حکومت کو یہ ہدف حاصل کرنے کے لیے نتیجہ خیز کوششیں کرنا ہوں گی، حکومت 85 فیصد آمدن صرف 9 شہروں پر خرچ کر رہی ہے اور بمشکل صحت اور تعلیم پر سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک ملک کی معیشت ترقی نہیں کرتی تب تک کچھ بھی بہتری نہیں آئے گی۔ اور اگر ہم یوں ہی جمود کے شکار رہے جیسے کہ دو سالوں سے چل رہا ہے تو ملک میں ریونیو ہو گا نہ ہی روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

وزیر خزانہ نے پالیسی ریٹ زیادہ رکھنے پر سٹیٹ بینک آف پاکستان کو بھی ہدف تنقید بنایا، انہوں نے کہا کہ ماضی میں شرح سود 13.25 پر برقرار رکھنا سراسر غلطی تھی۔ حکومت آئندہ بجٹ میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے بجٹ میں اضافہ کرے گی اور تمام صوبوں کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرے گی۔

شوکت ترین نے کہا کہ پاکستان میں مناسب منصوبہ بندی کا فقدان ہے، اس لیے انہوں نے 10 سے 12 شعبوں کو منتخب کیا ہے جن کیلئے طویل المدتی منصوبہ بندی کی  جائے گی اور اقتصادی ماہرین نے پہلے ہی اس پر کام کا آغاز کر دیا ہے۔ اس طرح قیمتوں کے استحکام، زراعت، صنعت، ریونیو، ہاؤسنگ، سماجی بہبود، ڈیبٹ مینجمنٹ اور خسارہ زدہ سرکاری اداروں سے متعلق منصوبہ کی جائے گی۔

اس موقع پر قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی رکن عائشہ پاشا نے بجٹ سٹریٹیجی پیپر پر نظرثانی کرنے کی ضرورت پر زور دیا جس سے وزیر خزانہ نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام ارکان کے مابین اتفاقِ رائے کے لیے بجٹ سٹریٹیجی پیپر پر نظرثانی کریں گے۔

چئیرمین کمیٹی نے وزیرخزانہ کو تمام اراکینِ کمیٹی کی طرف سے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here