حکومتی دعوئوں کے برعکس اپریل میں مہنگائی دوہرے ہندسے میں داخل

206

اسلام آباد: حکومتی دعوئوں کے برعکس اپریل کے دوران ملک بھر میں مہنگائی کی شرح 11.1 فیصد پر پہنچ گئی۔

ملک میں گزشتہ کئی مہینوں سے افراطِ زر کی شرح میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہانہ بنیاد پر کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی ائی) کے ذریعے ریکارڈ کی مہنگائی کی شرح میں مارچ کے 9 فیصد کے مقابلے میں اپریل میں 11.1 فیصد تک جا پہنچی جو گزشتہ 12 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔

صارفین کے لیے افراطِ زر کی شرح میں اضافے کی بنیادی وجہ چکن، کوکنگ آئل، گھی، چینی، گندم اور دالوں کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ بجلی کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے بھی گزشتہ کچھ ماہ سے نان فوڈ آئٹمز پر افراطِ زر میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ ماہ اپنی اقتصادی ٹیم میں کئی تبدیلیاں بھی کی تھیں جس کا مقصد افراطِ زر بڑھنے کے رجحان کو قابو کرنے کے لیے پالیسیاں لانا تھا، انہوں نے حفیظ شیخ کی جگہ حماد اظہر کو وزیر خزانہ کا منصب دیا تھا جنہیں بعد میں ہٹا کر شوکت ترین کو وزیر خزانہ بنا دیا گیا۔

نومنتخب وزیر خزانہ شوکت ترین نے 26 اپریل کو منعقد ہونے والے نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی (این پی ایم سی) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو صوبائی حکومتوں کی مدد سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو قابو کرنے کے لیے تمام اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔

تاہم اپریل کے وسط میں ماہِ رمضان کا آغاز ہوتے ہی بالخصوص پنجاب میں سبزیوں، پھلوں، چکن اور گھی کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ مہنگائی کی یہ لہر سندھ، بلوچستان، اسلام آباد اور خیبرپختونخوا تک میں دیکھی گئی۔

شہری علاقوں میں اپریل میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مارچ کی نسبت نمایاں اضافہ دیکھا گیا، مارچ کے مقابلے میں اپریل میں ٹماٹر 67.70 فیصد، سبزیاں 29.55 فیصد، پھل 22.32 فیصد، آلو 15.81 فیصد، چکن 7.31 فیصد، خوردنی تیل 2.99 فیصد، خوردنی گھی 2.01 فیصد، گوشت 1.64 فیصد، مصالحہ جات 1.54 فیصد اور مرچوں کی قیمت میں 1.25 فیصد تک اضافہ ہوا۔

شہری علاقوں میں جن اشیاء کی قیمتوں میں کمی آئی، ان میں گندم کی قمیت میں 9.14 فیصد، پیاز 8.33 فیصد، گندم آٹا 1.94 فیصد، چینی 1.83 فیصد اور دال مونگ کی قیمت میں 1.59 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

اسی طرح اپریل 2021ء کے دوران دیہی علاقوں میں ٹماٹر کی قیمت میں 55.54 فیصد، پھل 25.20 فیصد، سبزیان 21.71 فیصد، آلو 12.15 فیصد، خوردنی تیل 2.25 فیصد، ویجیٹیبل گھی 1.83 فیصد، گوشت 1.59 فیصد اور مسٹرڈ آئل کی قیمتوں میں 1.15 فیصد اضافہ ہوا۔

تاہم دیہی علاقوں میں پیاز کی قیمتوں میں 14.47 فیصد، گندم 10.23 فیصد، چینی 3.13 فیصد، دال مسور 2.57 فیصد، بیسن 2.24 فیصد، دال مونگ 1.68 فیصد، گندم آٹا 1.56 فیصد اور چکن کی قیمت میں 1.12 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

شہری علاقوں میں سالانہ اعتبار سے نان فوڈ آئٹمز پر مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد اور ماہانہ لحاظ سے 0.5 فیصد بڑھی جبکہ دیہی علاقوں میں یہ بالترتیب 8.9 فیصد اور 0.3 فیصد بڑھی۔ سالانہ لحاظ سے نان فوڈ آئٹمز پر افراطِ زر بڑھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں آئندہ ماہ مزید اضافہ ہو گا۔

قیمتوں کے حساس اعشاریے کے ذریعے 35 شہروں میں 356 اشیاء کی قیمتوں کو دیکھا گیا جبکہ دیہی علاقوں میں 27 مقامات پر 244 مصنوعات کی قیمتیں دیکھی گئیں، اپریل میں شہری مقامات پر سالانہ اعتبار سے سی پی آئی 11 فیصد اور دیہی مقامات پر 11.3 فیصد بڑھتی دیکھی گئی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here