بڑی خبر! اب پاکستانی ایمازون پر براہ راست کاروبار کر سکیں گے

1696

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ ایمازون کچھ ہی دنوں میں پاکستان کو اپنے فروخت کنندگان کی فہرست میں شامل کر لے گا۔

جمعرات کو ایک ٹویٹ میں رزاق دائود کا کہنا تھا کہ ‘ہم گزشتہ سال سے ایمازون کے ساتھ منسلک ہیں، یہ ہمارے نوجوانوں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) اور کاروبار کرنے والی خواتین کے لئے ایک بہترین موقع ہے۔

انہوں نے کہا کے ای کامرس پالیسی کا ایک اہم سنگ میل پوری دنیا کے بہت سارے لوگوں نے ٹیم ورک کے ذریعے حاصل کیا ہے۔

مشیر تجارت وقتاََ فوقتاََ معیشت کی ترقی اور فروغ کیلئے ای کامرس کے اہم ترین کردار کو اجاگر کرتے رہتے ہیں، خاص طور پر کورونا وبا کے باعث معاشی بحران کے زمانے اس کی اہمیت اور بھی بڑھ چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

پاکستانی ای کامرس مارکیٹ کا حجم 96 ارب روپے ہو گیا

وزارت تجارت نے ای کامرس کے حوالے سے نئے قوانین متعارف کرا دیے

سال 2020ء: وبا کے باوجود ای کامرس کا عالمی حجم 26 کھرب 70 ارب ڈالر ریکارڈ

رپورٹس کے مطابق پاکستان کو ایمازون کی تصدیق شدہ سیلر لسٹ میں رجسٹر ہونے کی منظوری مل چکی ہے اور اس حوالے سے تفصیلات ایک آدھ دن میں ایمازون کی ویب سائٹ پر جاری کر دی جائیں گی۔

وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل نے بھی کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں جو کام پچھلے دس سالوں سے نہ ہو سکا وہ بالآخر موجودہ حکومت نے کر دکھایا، ایمازون نے پاکستان کو سیلر لسٹ میں شامل کر لیا ہے۔

شہباز گل کا کہنا تھا کہ ایمازون کی سیلر لسٹ کا حصہ بننے سے پاکستان عالمی منڈی میں شامل ہو گیا ہے، یوں اربوں روپے کی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

مقامی میڈیا کی رپورٹس اور ٹیکنالوجی انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق ایمازون کے تصدیق شدہ ممالک کی فہرست کا حصہ بننے کے بعد پاکستانی اب اپنی تفصیلات استعمال کرتے ہوئے ایمیزون پر اکائونٹ بنا سکیں گے۔

جمعرات کو پاکستان کے امریکی ریاست لاس اینجلس میں قونصلیٹ نے وزارت تجارت اور کچھ پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کے اشتراک سے ایک سیمینار کا انعقاد بھی کیا جس کے شرکاء کو بتایا گیا کہ ایمازون پر کاروبار کیلئے کس قسم کے مواقع موجود ہیں، کون سی مصنوعات کی طلب زیادہ ہے اور کیسے آن لائن ریٹیل بزنس کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمازون اپنا کاروبار دنیا بھر میں پھیلانے کی پالیسی پر کاربند ہے اور اس وقت کئی ممالک میں کام کر رہی ہے جن میں امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا، جرمنی، میکسیکو، برازیل، کینیڈا، فرانس، بھارت، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، جاپان اور دیگر کئی ممالک شامل ہیں۔

تاہم پاکستان ان ممالک میں شامل نہیں تھا اور پاکستانی سیلرز کو کسی دوسرے ملک سے خود کو رجسٹر کروانا پڑتا تھا، لیکن ایمازون کی سیلر لسٹ میں پاکستان کی شمولیت سے مقامی ای کامرس سیکٹر میں یقیناََ انقلاب  آئے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here