’برآمدات کو بڑھانا اور درآمدات کے متبادل کی طرف جانا ہو گا‘

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت سی پیک پر پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے اعلیٰ سطحی اجلاس، مختلف منصوبوں پر بریفنگ دی گئی

196

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے اس امر پر زور دیا ہے کہ برآمدات کو بڑھانا اور درآمدات کے متبادل کی طرف جانا ہو گا اور پالیسیاں اسی کے مطابق تشکیل دینا ہوں گی۔

جمعہ کو وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) پر پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، وزیراعظم کو سی پیک کے تحت مختلف منصوبوں پر پیشرفت کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ موجودہ حکومت نے ناصرف سابق حکومت کی طرف سے شروع کئے گئے منصوبوں کی تکمیل کی بلکہ محض اڑھائی سال کے اندر بہت سے اہم منصوبوں کو بھی مکمل کیا۔

یہ بھی پڑھیے:

53.6 ارب سرمایہ کاری کے ساتھ سی پیک کے دوسرے اقتصادی زون میں صنعتکاری کا آغاز

سی پیک کے تحت 7 ارب 70 کروڑ ڈالر سرمایہ کاری سے بجلی کے 4 منصوبے شروع

اجلاس میں بتایا گیا کہ رشکئی، دھابیجی، علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی اور گوادر انڈسٹریل زونز سمیت خصوصی اقتصادی زونز میں غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاری میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ چین کی طرف سے زرعی شعبہ اور لائیو سٹاک میں تعاون کو فروغ مل رہا ہے۔ وزیراعظم نے جاری منصوبوں پر کام کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سی پیک کو ہر قیمت پر مکمل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سی پیک پاکستان اور چین کی گہری اور آزمودہ دوستی کا مظہر ہے اور ہماری ترقیاتی حکمت عملی میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے بالخصوص اس امر پر زور دیا کہ صنعتکاری میں ہماری توجہ کا مرکز برآمدات بڑھانا اور درآمدات کے متبادل کی طرف جانا ہونا چاہئے اور اپنی پالیسیاں تشکیل دیتے وقت اس کو مدنظر رکھا جائے۔

وزیراعظم نے ملک میں لگنے والی صنعتوں اور اعلیٰ معیار کے زرعی فارمز سے پیدا ہونے والے نئے روزگار کے مواقع کے مطابق نوجوانوں کو تیار کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں وفاقی وزراء شاہ محمود قریشی، حماد اظہر، شوکت ترین، خسرو بختیار، اسد عمر، مشیران عبدالرزاق داﺅد، ڈاکٹر معید یوسف، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ عاطف بخاری، چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here