انٹلکچوئل پراپرٹی رائٹس کا تحفظ کرکے پاکستان کیسے بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ کر سکتا ہے؟

پاکستان میں عالمی سطح کے آئی پی آر قوانین موجود لیکن اُن پر موثر عمل درآمد کا فقدان ہے حالانکہ پشاوری چپل، اجرک پرنٹ، باسمتی چاول، گلابی نمک اور سندھڑی آم جیسے متعدد جیوگرافیکل ٹیگز (جی آئی) کی مصنوعات مارکیٹ میں موجود ہیں

271

کراچی: پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب اور برقرار رکھنے کیلئے اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) نے انٹلکچوئل پراپرٹی رائٹس کے تحفظ پر زور دیا ہے۔

’’انٹلکچوئل پراپرٹی رائٹس کا عالمی دن‘‘ ہر سال 26 اپریل کو منایا جاتا ہے، اس حوالے سے صدر او آئی سی سی آئی عرفان صدیقی نے کہا کہ پاکستان میں آئی پی آر رجیم کی کڑی نگرانی ہمیشہ سے او آئی سی سی آئی کے ایجنڈے کا بنیادی حصہ رہا ہے، دانشورانہ املاک کے حقوق (آئی پی آر) کو تحفظ دینے والے قوانین لوگوں اور معاشرے میں جدت اور تخلیقی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

اس حوالے سے او آئی سی سی آئی کی طرف جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال انٹلکچوئل پراپرٹی رائٹس کے عالمی دن کا مرکزی خیال “آئی پی اینڈ ایس ایم ایز: اپنے خیالات کو مارکیٹ تک لے جانے” کے بارے میں ہے، یوں اس حقیقت کو اجاگر کرنے میں مدد ملے گی کہ ایک مضبوط آئی پی آر نہ صرف ملٹی نیشنل کمپنیوں بلکہ تمام تجارتی اداروں اور صارفین کی اہم ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

باسمتی چاول کے بعد گلابی نمک کو بھی رجسٹرڈ کرنے کا فیصلہ

باسمتی چاول کے جی آئی ٹیگ کیلئے یورپی کمیشن میں پاکستانی برآمدکنندگان کی درخواست منظور

میڈرڈ پروٹوکول کے ساتھ پاکستان کے حالیہ الحاق نے مقامی کاروبار خاص طور پر برآمدکنندگان کو 196 ممالک میں اُن کے ٹریڈ مارکس پر تحفظ فراہم کیا ہے، پاکستان میں پشاوری چپل، اجرک پرنٹ اور سندھڑی آم جیسے متعدد جیوگرافیکل ٹیکس (جی آئی) کی مصنوعات موجود ہیں۔

جی آئی ( رجسٹریشن اینڈ پروٹیکشن) ایکٹ 2020ء پاکستان کی مصنوعات کو عالمی سطح پر تسلیم کرنے کے حوالے سے بہت اہم ہے اور اس ایکٹ نے پاکستان میں جی آئی کے حقوق کے تحفظ اور رجسٹریشن کیلئے ایک مربوط نظام قائم کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔

اس موقع پر او آئی سی سی آئی (آئی پی آر) سب کمیٹی کی چیئر پرسن ارم شاکر نے کہا کہ آئی پی آر پروٹیکشن موجدوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، کاروبار میں اضافے کو فروغ دیتا ہے ، روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہے اور صارفین کو دستیاب مصنوعات کے انتخاب میں وسعت دیتا ہے۔ آئی پی آر کے قانونی ڈھانچے کی مضبوطی اور موثر نفاذ سے صارفین کو فائدہ ہوتا ہے کیونکہ انہیں محفوظ اور گارنٹی شدہ مصنوعات دستیاب ہوتی ہیں۔

پاکستان میں آئی پی آر کے نظام کر بہتربنانے کیلئے تجربے اور آگے بڑھنے کیلئے او آئی سی سی آئی کے ممبران جو پاکستان میں 200 سے زائد غیر ملکی سرمایہ کاروں کی اجتماعی آواز ہے، نے مشاہدہ کیا ہے کہ پاکستان میں عالمی سطح کے آئی پی آر قوانین موجود ہیں لیکن ان پر موثر عمل درآمد نہیں ہوتا۔

پاکستان میں آئی پی آر ریگولیٹر کے متعدد اقدامات کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انٹلکچوئل پراپرٹی کے تحفظ کی سہولت فراہم کرنے اور اس سے وابستہ اخراجات کو معقول بنانے کیلئے پاکستان کی انٹلکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن (آئی پی او۔پی) کو آئی پی آر کے اندراج کے عمل (کاپی رائٹس، پیٹنٹ اور ٹریڈمارکس) کو مکمل طو پر ڈیجیٹلائز کرنے اور آئی پی آر مالکان کی سہولت کیلئے اس پورے عمل میں درکار وقت میں کمی لانے کی ضرورت ہے۔

آئی پی رجسٹریشن کا انتخاب کرنے کیلئے نئے جدت کاروں اور ایس ایم ایز کی حوصلہ افزائی کرنے کی بھی ضرورت ہے، مزید یہ کہ خصوصی عدالتوں اور ٹریبونلز میں آئی پی آر کے بارے میں بہتر صلاحیت اور علمی اشتراک کے ساتھ ساتھ آئی پی تنازعات کے جلد حل سے توقع کی جاتی ہے کہ آئی پی آر کی نئی رجسٹریشن میں تیزی آئے گی اور ملک کا مثبت امیج اجاگر ہو گا۔

عرفان صدیقی نے مزید کہا کہ ہمیں او آئی سی سی آئی کے ممبران پر فخر ہے کہ وہ پاکستان میں نئی براہِ راست سرمایہ کاری کو راغب کرنے کیلئے دانشورانہ املاک کے حقوق کی اہمیت کے بارے میں شعور بیدار کرنے اور ملک میں جدت، تخلیقی صلاحیتوں اور ملازمتوں کو فروغ دینے کیلئے پچھلے کئی سال سے محنت کر رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here