مہنگی بولی کے باعث گندم اور چینی کی درآمد کے ٹینڈر منسوخ

بین الاقوامی ٹینڈر کا آغاز 2 مارچ 2021ء کو ہوا جس میں سات بین الاقوامی کمپنیوں نے اپنی بولیوں کی درخواست جمع کرائی تھی، بین الاقوامی کمپنیوں نے 332.44 ڈالر فی میٹرک ٹن سے 352.95 فی میٹرک ٹن کی بولی لگائی تھی

201

کراچی: ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) نے مہنگی بولی کے باعث چینی اور گندم درآمد کے دو ٹینڈرز منسوخ کر دیے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹریڈنگ کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے رواں ہفتے کھلنے ہونے والے گندم اور چینی کے ٹینڈرز کی بولی منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی ہدایات پر ٹی سی پی نے گندم اور چینی کی درآمد کا فیصلہ کیا تھا تاکہ مقامی مارکیٹ میں بحران سے بچا سکے، ای سی سی نے 15 جولائی 2020ء کو منعقدہ اپنے اجلاس میں صوبائی حکومتوں، پاسکو اور ٹی سی پی کے علاوہ نجی شعبے کو چینی اور گندم درآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔

گزشتہ سال دونوں اشیائے ضروریہ کی ملکی پیداوار سالانہ کھپت سے کم ہونے کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں ان اجناس کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا گیا تھا جس کے باعث وفاقی حکومت کو مجبوراََ چینی اور گندم کی درآمد کھولنا پڑی۔

یہ بھی پڑھیے:

گندم خریداری ٹینڈر کا اجراء، سات بین الاقوامی کمپنیوں نے بولی کی درخواست جمع کرا دی

ملک بھر کے یوٹیلیٹی سٹورز پر چینی کی قلت، صارفین مہنگے داموں خریدنے پر مجبور

18 فروری 2021ء کو ٹریڈنگ کارپوریشن نے انٹرنیشنل ٹینڈر جاری کیا تھا اور بین الاقوامی کمپنیوں کو تین لاکھ میٹرک ٹن گندم کی بولی لگانے کی دعوت دی تھی۔ بین الاقوامی ٹینڈر کا آغاز 2 مارچ 2021ء کو ہوا جس میں سات بین الاقوامی کمپنیوں نے اپنی بولیوں کی درخواست جمع کرائی تھی۔ بین الاقوامی کمپنیوں نے 332.44 ڈالر فی میٹرک ٹن سے 352.95 فی میٹرک ٹن کی بولی لگائی تھی۔

چینی کے ٹینڈر کا آغاز بھی 2 مارچ 2021ء سے ہوا تھا اور الخلیج شوگر دبئی اور سکڈن مڈل ایسٹ (Sucden Middle East) نے ٹینڈر میں دلچسپی لگائی اور بالترتیب 540 ڈالر فی میٹرک ٹن اور 580 ڈالر فی میٹرک ٹن کی بولی لگائی تھی۔

ٹی سی پی کے بورڈ پروکیورمنٹ کمیٹی نے حتمی منظوری کے لیے ٹینڈرز کی بولیاں بورڈ آف ڈائریکٹرز کو بھجوائی تھیں تاہم لگائی گئی دونوں بولیوں کی قیمتیں زائد ہونے کی وجہ سے ٹی سی پی نے دونوں ٹینڈرز کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے مطابق بولی لگانے والی کمپنیوں کو بھی آگاہ کر دیا گیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی درآمد کرنے کے لیے ٹی سی پی جلد نیا ٹینڈر جاری کرے گی، اس سے قبل نجی سیکٹر نے مقامی طلب کو پورا کرنے کے لیے کامیابی سے چینی درآمد کی اور اگر حکومت درآمد شدہ چینی پر سبسڈی سے بچنا چاہتی ہے تو نجی سیکٹر کو مقامی کھپت کے لیے مزید چینی درآمد کرنے کی اجازت دے سکتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here