بغیر پائلٹ جنگی جہاز کی طرز کے پہلے طیارے کی کامیاب آزمائشی پرواز

226

سڈنی: بوئنگ کارپوریشن اور رائل آسٹریلین ائیرفورس (راف) نے کہا ہے کہ انہوں نے بغیرپائلٹ جنگی جہاز کی طرز پر بنائے گئے کریوڈ ائیرکرافٹ کی پہلی آزمائشی پرواز مکمل کر لی ہے۔

آسٹریلیا میں 50 سال سے زائد عرصہ میں ڈیزائن اور تیار کیے گئے پہلے ملٹری ائیرکرافٹ “لائل ونگ مین” کو ساؤتھ آسٹریلیا میں گراؤنڈ کنٹرول سٹیشن سے بوئنگ کی نگرانی میں آزمائشی طور پر اڑایا گیا۔

آسٹریلوی حکومت نے طیارے کی تیاری کے لیے 40 ملین امریکی ڈالر (31 ملین آسٹریلوی ڈالر) کی سرمایہ کاری کی ہے جس پر گزشتہ سال بوئنگ نے کہا تھا کہ اس پیشرفت سے مستقبل کے ممکنہ صارفین کے طور پر بھی امریکہ اور برطانیہ نے دلچسپی ظاہر کی تھی۔

دو ہزار ناٹیکل میل (3704 کلومیٹر) رینج رکھنے والے لائل ونگ مین طیارے کا سائز 38 فٹ طویل (11.6 میٹر) ہے اور بے شمار ہتھیار سمیت مختلف پلے لوڈز کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے اسکی نوز کو ہٹایا جا سکتا ہے۔ یہ مہنگے جنگی طیاروں کی حفاظت کے لیے شیلڈ کے طور پر کام کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

یو اے ای کا امریکا سے 23 ارب ڈالر کے ایف 35 طیارے اور ڈرون خریدنے کا معاہدہ طے

ائیربس نے ہائیبرڈ الیکٹرک ائیرکرافٹ ٹیکنالوجی پر کام شروع کر دیا

ڈیفنس کنٹریکٹرز خودمختار ٹیکنالوجی میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری کر رہے ہیں کیونکہ دنیا بھر کی افواج اپنے وسائل وسیع کرنے کے محفوظ اور سستے طریقے تلاش کر رہی ہیں۔

راف ائیروائس مارشل ار سربراہ ائیرفورس کیپابیلیٹی کیتھ روبرٹس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ” لائل ونگ مین پروجیکٹ سمارٹ ہیومین مشین ٹیمیں پیدا کرنے کے لیے خودمختار سسٹم کی انٹیگریشن اور مصنوعی ذہانت کا راستہ ہے”۔

لائل ونگ مین کے فنکشنز اور ڈیزائن کی کارکردگی کے جائزے کی تصدیق کے لیے مختلف اونچائی اور رفتار پر اس کی اڑان کے راستے سے قبل اسکی طاقت کو پرکھنے کے لیے آزمائشی پرواز اڑائی گئی۔

پہلے لائل ونگ مین کو بوئنگ کی ائیرپاور ٹیمنگ سسٹم کے طور پر استعمال کیا گیا، یہ سروس مختلف عالمی ڈیفنس صارفین کے لیے تیار کی گئی ہے۔

بوئنگ نے کہا کہ اضافی لائل ونگ مین طیارے اس وقت ڈویلپمنٹ کے مراحل میں ہیں، جن کا اس سال کے آخر تک ٹیمنگ پروازیں شیڈول کرنے کا منصوبہ کیا گیا ہے۔

طیارہ ساز کمپنی نے اس سے قبل کہا تھا کہ 16 لائل ونگ مین طیاروں کی مشنز کے لیے کریوڈ ائیرکرافٹ کے ساتھ ٹیمیں بنائی جا سکتی ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here