یو اے ای کا امریکا سے 23 ارب ڈالر کے ایف 35 طیارے اور ڈرون خریدنے کا معاہدہ طے

معاہدے کے تحت 10 ارب 40 کروڑ  ڈالر کے پچاس ایف 35 طیارے، دو ارب 97 کروڑ ڈالر کے 18 ایم کیو 9 بی ڈرونز اور 10 ارب ڈالر مالیت کا دیگر فوجی سامان خریدا جائے گا 

106

واشنگٹن: متحدہ عرب امارات نے امریکہ سے 50 سے زائد ایف 35 فائٹر طیارے، 18 آرمڈ ڈرون اور دیگر دفاعی سامان کے حصول کیلئے 23 ارب ڈالر کا معاہدہ کی تصدیق کی ہے جو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدت صدارت کے آخری روز طے پایا۔

واشنگٹن میں متحدہ عرب امارات کے سفارتخانے نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا ہے امریکہ کے ساتھ 23 ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ طے پا گیا ہے جس  دفاعی سامان کی لاگت، تکنیکی معاونت اور ترسیل کے متوقع شیڈول کو بھی حتمی شکل دی گئی ہے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے امارات اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کا پہلی بار انکشاف کیا جس کے بعد یو اے کے واشنگٹن میں سفارتخانے کو بھی بیان جاری کرنا پڑا، تاہم جوبائیڈن انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ دفاعی معاہدے پر نظرثانی کریں گے۔

ٹرمپ انتظامیہ کا موقف تھا کہ ایران امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اس لیے امریکہ کی قومی سلامتی کیلئے ایران کے پڑوسی عرب ملک کو دفاعی طور پر مضبوط کرنا امریکی نیشنل سکیورٹی قوانین کے تحت جائز ہے اور یو اے ای کے ساتھ دفاعی معاہدہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

امریک ایف 35 جنگی جہازوں کی قطر کو فروخت، اسرائیل مخالفت کیوں کر رہا ہے؟

جاپان کا بغیر پائلٹ سٹیلتھ فائٹر طیارے بنانے کا منصوبہ، 48 ارب ڈالر مختص

یو اے ای امریکہ کا انتہائی قریبی دوست ملک ہے جس نے کافی عرصہ قبل دفاعی سازوسامان بنانے والی امریکی کمپنی لوک ہیڈ مارٹن کے تیار کردہ سٹیلتھ ایف 35 طیارے حاصل کرنے کیلئے دلچسپی ظاہر کی تھی اور گزشتہ برس اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر آنے تک ایک علیحدہ معاہدے میں ان طیاروں کو خریدنے کا عندیہ دیا تھا۔

یو اے ای کے سفارتخانے کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت 10 ارب 40 کروڑ  ڈالر مالیت کے پچاس ایف 35 طیارے خریدے جائیں گے، دو ارب 97 کروڑ ڈالر مالیت کے 18 ایم کیو 9 بی ڈرونز اور 10 ارب ڈالر مالیت کا دیگر فوجی سامان خریدا جائے گا۔

تاہم امارات کی جانب سے مذکورہ طیاروں اور فوجی سامان کی ترسیل کی حتمی تاریخ نہیں بتائی گئی لیکن اس معاملے سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ یو اے ای کو مذکورہ فوجی سازوسامان کی ابتدائی ترسیل 2027ء میں کی جائے گی۔

دسمبر 2020ء میں امریکی سینیٹ نے امارات کو مذکورہ سامان فراہم کرنے کی کوششوں کو مسترد کیا تھا، امریکی سینیٹرز کا مؤقف تھا کہ معاہدے سے قبل اس بات کا پختہ یقین کر لیا جائے کہ امریکا کے فراہم کردہ اسلحہ کو مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام پھیلانے کیلئے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

ادھر امارات کے سفارتخانے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ خلیجی عرب ریاستیں خطے میں تنازعات ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں اور اسی لیے دفاعی پیکیج بڑھانے کے لیے امریکہ یو اے ای ملٹری تعلقات میں اضافہ ہوا ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ یو اے ای نئے امریکی صدر جوبائیڈن کے ساتھ بھی کام کرنے کا خواہاں ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here