کیا حکومت پاکستان نے بھارت سے کاٹن درآمد کرنے کی اجازت دیدی؟

139

اسلام آباد: پاکستان کے بھارت کے ساتھ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر نیا جنگ بندی کا معاہدہ طے پانے کے بعد دوطرفہ تجارت میں بتدریج بحالی سے کپاس کی درآمد کا امکان ہے۔ 

وزارتِ تجارت میں ذرائع نے مقامی میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد آئندہ ہفتے تک بھارت سے یارن اور کپاس کی درآمد کا فیصلہ کرنے کا امکان ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ کپاس بحران کا معاملہ وزیراعظم کے نوٹس میں لایا جا چکا ہے جبکہ اس حوالے سے باظابطہ فیصلہ کرنے کے بعد وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے سامنے ایک رسمی سمری پیش کی جائے گی۔ “کابینہ میں اس پر تبادلہ خیال شروع ہوچکا ہے لیکن حتمی فیصلہ وزیراعظم کی منظوری کے بعد ہی کیا جائے گا”۔

یہ بھی پڑھیے:

جی ڈی پی میں 19 فیصد حصہ ڈالنے والی کپاس کی پیداوار 20 سال کی کم ترین سطح پر

کپاس کے زیرکاشت رقبہ میں کمی، ایک ارب ڈالر کی روئی درآمد

31 جنوری 2021 تک جنریز فیکٹریوں کو سیڈ کاٹن پہنچانے میں 35 فیصد کمی آ چکی ہے اور صرف 5.57 ملین گانٹھیں ہی جننگ فیکٹریوں کو پہنچائی گئیں،  پاکستانی تاریخ میں دو دہائیوں سے سیڈ کاٹن کی یہ سب سے کم مقدار ہے۔

موجودہ صورتحال کے پیش نظر ملک کے حالیہ ماضی میں رواں برس کپاس کی درآمدات سب سے زیادہ ہونے کا امکان ہے جو کرنٹ اکاؤنٹ پر اضافی بوجھ ڈالے گی۔ گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران کپاس کی پیداوار میں 8.487 ملین گانٹھیں ریکارڈ کی گئی تھیں۔

مجموعی پیداوار میں سے ٹیکسٹائل ملز نے 5.046 ملین گانٹھیں جبکہ برآمدکنندگان کی جانب سے 70200 گانٹھیں خریدی گئیں۔ اس وقت، ملک میں صرف 90 جننگ ملز ہی فعال ہیں۔

ملک میں ناقص بیج اور عدم ٹیکنالوجی اور انوویشن کی وجہ سے کپاس کا آؤٹ پٹ تاریخی سطح پر کم ہو گیا ہے جو ٹیکسٹائل سیکٹرز اور کاشتکاروں کے روزگار کے لیے خطرہ ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here