ائیربس نے ہائیبرڈ الیکٹرک ائیرکرافٹ ٹیکنالوجی پر کام شروع کر دیا

110

پیرس: یورپین طیارہ ساز کمپنی ائیربس نے طیاروں سے خارج ہونے والے دھویں (CO2) کو کم کرنے کی آپشنز میں ہائبرڈ الیکٹرک ائیرکرافٹ ٹیکنالوجی پر کام شروع کر دیا۔ 

کمپنی نے نئی ٹیکنالوجی کی تیاری کے اقدامات کے پیش نظر دستاویزات میں انکشاف کیا ہے کہ موجودہ جنریشن کے ہر طیارے کا ایک ملین ٹن سے زائد کے برابر کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ہوتا ہے، جیسا کہ ائیربس “سکوپ-3” کے اخراج کی پہلی نام نہاد رپورٹ شائع کرنے والی کمپنی بن گئی ہے۔

اب تک ائیربس نے مستقبل کے طیاروں کے لیے ہائیڈروجن کو ترجیحی بنیادوں پر توانائی کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے 2035ء تک پہلا کمرشل ہائیڈروجن طیارہ متعارف کرانے کا وعدہ کیا ہے۔

لیکن کمپنی نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ہائیبرڈ الیکٹرک کے متبادل بھی کام کر رہی ہے۔

ائیربس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ “کمپنی کے کام نے مستقبل میں برقی پرواز میں کمرشل طیاروں کا کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج صفر تک کرنے میں ہمارے تصور کی بنیاد رکھی ہے، اس کے علاوہ کمپنی ہائیبرڈ الیکٹرک اور ہائیڈروجن ٹیکنالوجی آپشنز کی اقسام دریافت کر رہی ہے”۔

اگرچہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائیڈروجن گرین انویسٹمنٹس سے شروع کرنے اور اس میں اضافے کی نسبت چھوٹے طیاروں کو طاقت بخش سکتا ہے لیکن اس کے حجم اور نئے انفراسٹرکچر کی وجہ سے اسے چیلنز درپیش ہیں۔ حریف طیارہ ساز کمپنی بوئنگ نے اس تصور کی نفی کی ہے۔

کئی انڈسٹری ذرائع نے کہا ہے کہ مستقبل کے متبادل کے لیے ایک بہترین آپشن 150 نشتستوں پر مشتمل A320 طیارے کی فروخت سے 2030ء میں اس سروس کو شروع کرنے کا امکان ہے، جس میں ہائیڈرو الیکٹرک پاور کے بعد اتنے بڑے طیاروں کی پاور کا امکان ہے۔

انڈسٹری حکام نے غیرملکی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کو بتایا کہ طیاروں کی انجن ساز ائیربس A320 اور بوئنگ 737 کو مستقبل میں برقی انجن میں تبدیل کرنے کے لیے روایتی ٹربائنز کے مرکب کو استعمال کرتے ہوئے نظرآنے والے بلیڈز کے ساتھ اوپن روٹر انجنز دریافت کرنے کے لیے متحرک ہے۔

ترجمان ائیربس سے ان کے ہائیبرڈ الیکٹرک منصوبے سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ” زیرو اخراج کے مقصد کے لیے صرف ٹیکنالوجیز کا مجموعہ بشمول ہائیڈروجن ہماری مدد کرے گی”۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here