پاکستان کی لارج سکیل مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی شرح نمو میں 14 فیصد اضافہ

جن شعبوں کی شرح نمو میں اضافہ ہوا اُن میں ٹیکسٹائل، خوراک، مشروبات اور تمباکو، پیٹرولیم، فارما سیوٹیکلز، کیمیکلز، نان مٹیلک منرلز پروڈکٹس، آٹو موبائلز، کھاد اور پیپر اینڈ بورڈ شامل ہیں

144

اسلام آباد: جاری مالی سال کے ابتدائی پانچ ماہ (جولائی تا نومبر) تک پاکستان کی بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 7.41 فیصد جبکہ نومبر 2020ء کے دوران 14.46 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

پاکستان بیورو برائے شماریات پی بی ایس کے مطابق بڑی صنعتوں کی پیداوار اکتوبر کے مقابلہ میں نومبر کے مہینے میں 1.35 فیصد زیادہ رہی۔ جبکہ لارج سکیل انڈسٹری کی پیداوار میں نومبر 2019 کے مقابلے میں نومبر 2020ء میں 14.5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق مالیاتی سال 2021 کے پہلے پانچ ماہ (جولائی تا نومبر) کے دوران ایل ایس ایم انڈیکس کے مجموعی آؤٹ پٹ میں گزشتہ برس کے پانچ ماہ کے مقابلے میں 7.41 فیصد اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیے: 

نئی پالیسی کے تحت ٹیکسٹائل ایکسپورٹس کا ہدف 20.86 ارب ڈالر مقرر

سال 2020ء: ملک بھر میں کتنی کاریں فروخت ہوئیں؟

ٹیکسٹائل برآمدات میں ریکارڈ اضافہ، ایکسپورٹ آرڈرز پورے کرنا مشکل

زیرجائزہ عرصے کے دوران جن شعبوں کی شرح نمو میں اضافہ ہوا اُن میں ٹیکسٹائل، خوراک، مشروبات اور تمباکو، پیٹرولیم، فارما سیوٹیکلز، کیمیکلز، نان مٹیلک منرلز پروڈکٹس، آٹو موبائلز، کھاد اور پیپر اینڈ بورڈ شامل ہیں۔

خاص طور پر لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد بڑی صنعتوں کی شرح نمو میں نمایاں اضافہ ہوا، پی بی ایس کے اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا نومبر 2020ء تک کے عرصے میں گزشتہ برس کے مقابلے میں خوراک، مشروبات اور تمباکو سیکٹر کی پیداوار میں 21.28 فیصد اضافہ ہوا۔

پانچ ماہ کے دوران ٹیکسٹائل سیکٹر کی پیداوار میں 2.4 فیصد، نان مٹیلک منرل پروڈکٹس کی پیداوار میں 20 فیصد اور فارما سیوٹیکلز مصنوعات کی پیداوار میں 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

دوسری جانب مذکورہ پانچ ماہ کے دوران جن شعبوں کی پیداوار میں کمی آئی ان میں ووڈ پروڈکٹس سیکٹر میں 65 فیصد اور چمڑے کی مصنوعات میں 43 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

اس کے علاوہ آئرن اینڈ سٹیل مصنوعات، الیکٹرانکس اینڈ انجنئیرنگ مصنوعات میں بالترتیب 3.6 فیصد، 18 فیصد اور 32 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

یاد رہے کہ لارج سکیل مینوفیکچرنگ انڈسٹری (ایل ایس ایم) پاکستان کی کُل مینوفیکچرنگ کا 80 فیصد اور مجموعی جی ڈی پی کے 10.7 فیصد کے قریب ہے۔ اگر اس پیداوار کا موازنہ کیا جائے تو چھوٹے پیمانے کی پیداوار ملکی جی ڈی پی کی 1.8 فیصد اور مینوفیکچرنگ 13.7 فیصد بنتی ہے۔

آئل کمپنیز ایڈوائزری کمیٹی (او سی اے سی) کے تحت 11 مصنوعات کی پیداوار میں 0.09 فیصد اضافہ جبکہ وزارتِ صنعت و پیداوار کے تحت 36 مصنوعات کی پیداوار میں 5.46 فیصد اضافہ ہوا۔

صوبائی اعدادوشمار بیوروز کی جانب سے جولائی تا نومبر 2020ء کے دوران گزشتہ برس کے اسی عرصے کے مقابلے میں 65 مصنوعات کی ترقی کی شرح 1.85 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

نومبر 2020ء میں وزارتِ صنعت و پیداوار کے تحت بنیادی مصنوعات کی شرح نمو میں 12.36 فیصد اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ برس کے مذکورہ عرصے کے دوران مذکورہ مصنوعات کی شرح نمو 14.46 فیصد رہی تھی۔

ادھر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسدعمر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کہا ہے کہ صنعتی پیداوار میں واضح اضافہ ہو رہا ہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 12 ماہ کے دوران نومبر 2020ء میں لارج سکیل انڈسٹری کی پیداوار میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت ملک میں صنعتی ترقی کی حوصلہ افزائی اور عوام کیلئے روزگار کے مواقع بڑھانے کیلئے کوششیں کر رہی ہے۔

ٹوئٹر پر جاری پیغام میں وزیر خزانہ نے کہا کہ نومبر 2020ء میں ملک میں بڑی صنعتوں کی پیداوارمیں نومبر 2019 کے مقابلہ میں 14.5 فیصد کا دو ہندسی اضافہ ہوا، اس سے ملک میں صنعتی ترقی کی حوصلہ افزائی اورعوام کیلئے روزگارکے نئے مواقع بڑھانے کیلئے پاکستان حکومت کی کوششوں کی عکاسی ہو رہی ہے۔

وفاقی وزیر اقتصادی امور خسرو بختیار نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے جہاں ایک طرف عالمی معیشت میں منفی 4.3 فیصد سکڑاﺅ آیا ہے  وہاں دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کے سمارٹ لاک ڈاﺅن، کاروبار اور انسانی زندگیوں کے تحفظ اور اقتصادی امداد کے پیکیج کی پالیسی کی وجہ سے کاروبار اور معیشت میں بہتری آ رہی ہے اور اس کی عکاسی ملک میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں بڑھوتری سے بھی ہو رہی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here