نئی پالیسی کے تحت ٹیکسٹائل ایکسپورٹس کا ہدف 20.86 ارب ڈالر مقرر

پانچ سالہ پالیسی کے ذریعے ‘میڈ اِن پاکستان’ کی پالیسی کو فروغ دینے کے لیے برانڈنگ اور مارکیٹنگ کی حکمتِ عملی بنائی جائے گی، پالیسی کی مدد سے بین الاقوامی خریداری کے مراکز کو ملک میں دفاتر قائم کرنے، خواتین کو بااختیار بنانے اور چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے تربیتی پروگرامز کا آغاز کیا جائے گا

255

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے آئندہ پانچ سالوں کے دوران ٹیکسٹائل اور اپیرل ایکسپورٹ کے لیے 20.86 ارب ڈالر برآمدات کا ہدف مقرر کیا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق وزارتِ تجارت نے جاری مالیاتی سال کے لیے ٹیکسٹائل اور اپیرل کے لیے 13.6 ارب ڈالر کا برآمداتی ہدف مقرر کیا تھا جبکہ حکومت نے مالیاتی سال 2021-2022 کے لیے 14.7 ارب ڈالر ہدف، 2022-2023 کے لیے 16.3 ارب ڈالر، 2023-2024 کے لیے 18.3 ارب ڈالر اور 2024-2025 کے لیے 20.8 ارب ڈالر کی ٹیکسٹائل مصنوعات برآمدات کرنے کا ہدف طے کیا ہے۔

اس حوالے سے باخبرذرائع نے پرافٹ اردو کو بتایا ہے کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے (بدھ) کو منعقد ہونے والے اجلاس میں ٹیکسٹائل اینڈ اپیرل پالیسی 2020-2025 کی منظوری کا امکان ہے۔

تجویز کردہ پالیسی کے بنیادی مقاصد میں ویلیو ایڈیشن کے عوامل کے ہر مرحلے میں ٹیکسٹائل اور اپیرل سپلائی چین کی بحالی، کپاس کے کاشتکاروں کی پیداوار بڑھانے سے ان کو منافع کے ذریعے فائدہ دینا، خاص کر بہترین کوالٹی کی مکمل تیار کردہ ملبوسات کی پیداواری لاگت کم کرکے مین میڈ فائبر (ایم ایم ای) سیکٹر کو ایکسپورٹ اورینٹڈ بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

برآمدات میں اضافے کیلئے حکومت جلد ٹیکسٹائل پالیسی پر غور کر رہی ہے

برآمدت کے فروغ اور 5 سالہ ٹیکسٹائل پالیسی بنانے کیلئے ٹاسک فورس تشکیل

کپاس کی پیدوار خطرناک حد تک کم، زراعت، ٹیکسٹائل سیکٹر پر کیا اثرات مرتب ہونگے؟

اس کے ساتھ ٹیکسٹائل اور اپیرل ویلیو چین کی نہ صرف بیس لائن مانیٹرنگ رپورٹ (بی ایم آر) بلکہ نئی صلاحیت میں بھی معاونت کرنا اس پالیسی کے مقاصد میں شامل ہے۔

ذرائع نے کہا ہے کہ ٹیکسٹائل اور اپیرل سیکٹر پاکستانی معیشت میں کسی دوسرے سیکٹر کے مقابلے میں زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔

ذرائع نے مزید کہا کہ “پاکستان کی مجموعی برآمدات میں سے تقریباََ 60 فیصد برآمدات ٹیکسٹائل اور اپیرل سیکٹر جبکہ دیگر 40 فیصد برآمدات صنعتی روزگار کی ہوتی ہیں، اس میں کپاس سے لے کر جننگ، دھاگہ بنانے، بُننے، سلائی، پراسیسنگ، ہوم ٹیکسٹائل کی تکمیل ایک مخصوص اور خود انحصار ویلیو ایڈڈ پروڈکشن چین میں شامل ہے”۔

‘میڈ اِن پاکستان’ کی پالیسی کو فروغ دینے کے لیے برانڈنگ اور مارکیٹنگ کی حکمتِ عملی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا جائے گا، پالیسی کی مدد سے بین الاقوامی خریداری کے مراکز کو ملک میں دفاتر قائم کرنے اور بڑے پیمانے پر تربیتی پروگرامز کا آغاز کیا جائے گا، تربیتی پروگرامز کے ذریعے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں اور خواتین کی سکل ڈویلپمنٹ پر توجہ دی جائے گی۔

اس سے قبل، وزیر اعظم عمران خان نے مارچ میں ٹیکسٹائل پر ایک ٹاسک فورس بنانے کی منظوری دی تھی جو ٹیکسٹائل کی بہتری کے لیے تجاویز اور سفارشات پیش کرے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here