جرمن پولیس نے دنیا کی سب سے بڑی ڈارک نیٹ مارکیٹ کا سراغ لگا لیا

177

برلن: جرمن پولیس نے دنیا کی سب سے بڑی ڈارک نیٹ مارکیٹ کا سراغ لگا لیا جسے مبینہ طور پر آسٹریلوی آپریٹر کی جانب سے ڈرگز، کریڈٹ کارڈ ڈیٹا اور وائرس کی فروخت کیلئے استعمال کیا جا رہا تھا۔

جرمن پراسیکیوٹرز نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پولیس نے جرمنی کے سمالی شہر اولڈن برگ میں ڈارک نیٹ پر دنیا کی سب سے بڑی اور غیرقانونی مارکیٹ کے مبینہ طور پر آپریٹر کو گرفتار کیا ہے۔

پراسیکیوٹرز نے بتایا کہ تفتیشی اہلکار ڈارک مارکیٹ کے سرور کو بند کرنے میں کامیاب رہے، ڈارک مارکیٹ کے سرور کو بند کرتے وقت اس کے صارفین کی تعداد پانچ لاکھ کے قریب اور وینڈرز کی تعداد دو ہزار چار سو سے زائد تھی۔

پراسیکیوٹرز نے کہا کہ مذکورہ مارکیٹ کے ذریعے کم از کم تین لاکھ 20 ہزار ٹرانزیکشنز کی گئیں جس میں 4650 ٹرانزیکشنز بٹ کوائن اور 12 ہزار 800 مونیرو سمیت دیگر کرنسیوں میں کی گئی تھیں، دونوں مقبول کرپٹو کرنسیاں سمجھی جاتی ہیں۔

ڈارک مارکیٹ میں تمام قسم کی ڈرگز فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ جعلی کرنسی، چرائے گئے کریڈٹ کارڈ کا ڈیٹا، گم نام سم کارڈز، مالوئیر کے علاوہ بہت کچھ فروخت کیا جا رہا تھا۔

پراسیکیوٹرز کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ڈارک مارکیٹ کو 34 سالہ آسٹریلوی باشندے کی جانب سے چلایا جا رہا تھا جسے جرمنی اور ڈنمارک کی سرحد پر گرفتار کیا گیا ہے، مذکورہ مارکیٹ کے مالڈووا اور یوکرین میں استعمال ہونے والے 20 سرورز کو بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

تفتیشی اہلکاروں نے توقع ظاہر کی ہے کہ ڈارک مارکیٹ کے موڈریٹرز، فروخت کنندگان اور صارفین کے خلاف جامع تحقیقات کی جائیں گی جس سے مزید بھی ایسے نیٹ ورک پکڑنے میں مدد ملے گی۔

ڈارک مارکیٹ کے مشتبہ سرغنہ کو جج کے سامنے پیش کیا گیا لیکن اس کی جانب سے کسی قسم کا بیان نہیں دیا گیا، اسے پری ٹرائل حراست میں رکھا گیا ہے۔

آپریشن میں امریکی ایف بی آئی، ڈی ای اے نارکوٹکس لاء انفورسمنٹ ڈویژن اور آئی آر ایس ٹیکس اتھارٹی نے حصہ لیا، اس کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا، برطانیہ، ڈنمارک، سوئٹزرلینڈ، یوکرین، مالڈووا نے یورو پول کے ساتھ تعاون کیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here