زیتون کا تیل نکالنے کیلئے پاکستان میں پہلی بار 9 پلانٹ لگا دئیے گئے

338

اسلام آباد: ملک میں زیتون کا تیل نکالنے کے لیے نو پراسیسنگ پلانٹس قائم کردیے گئے، جس سے کاشتکاروں کو کمرشل سطح پر زیتون کی پیداوار میں اضافہ کرنے میں مدد ملے گی۔

زیتون کی کاشت کے فروغ سے گھریلو سطح پر خوردنی تیل کی ضروریات پر انحصار کم کرنے کے لیے زیتون کا تیل نکالنے کے لیے مذکورہ نو پلانٹس پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت انسٹال کیے گئے ہیں۔

پی ایس ڈی پی کے ایک عہدیدار کے مطابق نو پلانٹس میں سے تین پلانٹس فی گھنٹہ 600کلوگرام تیل نکالنے جبکہ چھ پلانٹس فی گھنٹہ 100 کلوگرام تیل نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

پی ایس ڈی پی کے عہدیدار نے کہا کہ “پلانٹس تمام بنیادی لوازمات جیسے ہارویسٹنگ باسکٹس، معیاری تجزیے کے لیے آئل اینالائزر، فلنگ، کیپنگ سیلنگ مشین اور زیتون کا تیل ذخیرہ کرنے کے کنٹینرز کو مشینوں کے ساتھ انسٹال کرلیا گیا ہے۔ ملک میں زیتون کی ویلیو چین کے لیے یونٹس اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں اور یہ قائم کردہ یونٹس اس شعبے کی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کریں گے”۔

انہوں نے کہا کہ “اب تک، ملک بھر میں 27 ہزار ہیکٹرز زمین پر زیتون کے درختوں کی کاشت کی جا چکی ہے جبکہ چھوٹے کاشتکاروں کی آمدن میں اضافے کے لیے قلیل زمین کو پیداواری زمین میں تبدیل کرنے کے لیے 70 ہزار ہیکٹرز زیتون کی کاشت میں توسیع کی جائے گی”۔

یہ بھی پڑھیے:

خطہ پوٹھوار کے کاشتکاروں کو زیتون کے 12 لاکھ پودوں کی فراہمی

2023ء تک 50 ہزار ہیکٹر پر زیتون کاشت کرنے کا منصوبہ

یہ بھی مدِ نظر رہے کہ پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پارک) زیتون کے تیل کو کیمیکل سے پاک اور مقامی پیداوار کے فروغ کے لیے ایکسٹرا ورجن کام کر رہا ہے، علاوہ ازیں، پارک کی جانب سے کسانوں کی آمدن میں اضافے کے لیے کاشتکاروں کی بنیادی تربیت پر بھی زور دے رہی ہے۔

پاکستان میں 2012 میں اٹلی کے فنڈ کردہ پراجیکٹ کے ذریعے کمرشل سکیل پر زیتون کی کاشت کا آغاز کیا گیا، جس کے بعد حکومت نے 2014 میں ملک میں کمرشل سکیل پر زیتون کی کاشت کے فروغ کے لیے پی ایس ڈی پی فنڈڈ پراجیکٹ کا آغاز کیا۔

ایک اندازے کے مطابق  اب تک 25600 ایکٹر پر 2.90 ملین زیتون کے درخت لگائے جا چکے ہیں۔

یہ بھی واضح رہے کہ جاری مالیاتی سال کے دوران 2.3 ملین زیتون کے درختوں کی کاشت کی جائے گی، زیتون کی بڑے پیمانے پر کاشت کے فروغ سے درآمد شدہ خوردنی تیل پر انحصار کم سے کم کیا جائے گا۔

پی ایس ڈی پی کے عہدیدار نے کہا کہ “حکومت کی جانب سے اوسطََ پانچ لاکھ سے چھ لاکھ سالانہ درخت کاشت کیے گئے”، ملک میں رواں سال مختلف حکومتی ٹیموں نے زیتون کی کاشت کے لیے موزوں زمین کے لیے فیزیبلیٹی سٹیڈیز بھی کی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹرز کی شراکت سے زیتون کی پیداوار کے لیے 10 نرسریز لگائی جا چکی ہیں۔ رواں سیزن میں ان نرسریوں سے 10 لاکھ زیتون کے پودے حاصل کیے جائیں گے جبکہ یہ پودے 100 فیصد فیڈرل سیڈز رجسٹریشن اینڈ سرٹیفکیشن اتھارٹی (ایف ایس آر سی اے) کی جانب سے سندیافتہ ہوں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here