کے پی محکمہ سماجی بہبود کی جانب سے غیرقانونی طور پر مختلف بینک اکائونٹس میں 105.6 ملین منتقل کیے جانے کا انکشاف

99

پشاور: خیبرپختونخوا (کے پی) کے ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے محکمہ خزانہ کی اجازت کے بغیرغیر قانونی طور پر مختلف بینک اکاؤنٹس میں  105.6 ملین روپے منتقل کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق کے پی سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ نے ‘غیرقانونی’ طور پر بینک اکاؤنٹس کھول کر حکومتی اکاؤنٹس سے 105.6 ملین روپے منتقل کیے گئے۔

تاہم رپورٹ میں کے پی سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے فنڈز ٹرانسفر کیے جانے کا ٹھیک مقصد نہیں بتایا گیا۔

یہ بھی پڑھیے:

گیس کے پیداواری بحران کے سبب سردیوں میں گیس لوڈشیڈنگ متوقع

فنڈز میں رکاوٹ کے باعث خیبر پختون خوا میں متعدد منصوبے ٹھپ ہونے لگے

رپورٹ میں اس معاملے پر انکوائری شروع کرنے کی تجویز دی گئی ہے اور فنڈز ٹرانسفر کرنے والے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی درخواست کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 105.6 ملین کے غیرقانی ٹرانسفر کیے گئے فنڈز میں سے 20 لاکھ روپے حکومتی اکاؤنٹ سے پشاور میں ایک دوسرے بینک میں ٹرانسفر کیے گئے۔

کے پی حکومت کی جانب سے 20 لاکھ بزرگ شہریوں کیلئے فنڈز مختص کیے گئے تھے۔

اسی طرح دیگر بینکوں میں کھولے جانے والے تین بینک اکاؤنٹس میں 93.6 ملین روپے غیرقانونی طور پر ٹرانسفر کیے گئے، یہ رقم کے پی محکمہ خزانہ کی جانب سے بطور گرانٹ دی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق کے پی سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ نے صوبائی محکمہ خزانہ سے ایڈیشل اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت نہیں لی جس کی وجہ سے متعلقہ محکمے نے مزید فنڈز دینے سے انکار کر دیا ہے۔

اے جی پی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کے پی سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ ایڈیشنل اکاؤنٹس کھولنے سے متعلق مئی 2016ء میں ایک اجلاس ہوا تھا۔ تاہم ادارے کی جانب سے ابھی تک کسی بھی قسم کا تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here