روس تو دور ہے مگر پاکستان اپنے ہمسائے ایران سے سستا تیل کیوں نہیں خریدتا؟ 

396

جب بھارت روس سے سستا تیل خرید رہا ہے تو پاکستان کیوں نہیں خریدتا؟

یہ ہے وہ سوال جو ٹھیلے والے سے لے کر ٹی وی اینکروں اور کئی سیاستدانوں کو تب سے بے چین کیے ہوئے ہے جب سے روس نے یوکرین پر حملہ کیا ہے اور جنگ کا خرچہ چلانے کیلئے پیوٹن نے تیل اور گیس کی سیل لگائی ہے۔

اپنے تئیں پاکستان میں ہر شخص بین الاقوامی تعلقات کا ماہر بنا یہ بتا رہا ہوتا ہے کہ سستے روسی تیل سے بھارت کو کتنا فائدہ ہوا اور نکمی اور نااہل حکومت کی وجہ سے پاکستان کو کتنا نقصان پہنچا۔

جلتی پر تیل کا کام چیئرمین تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم عمران خان کا وہ بیان کر دیتا ہے کہ بطورِ وزیراعظم وہ بس روس سے تیل درآمد کرنے ہی والے تھے کہ ان کی حکومت ختم کر دی گئی۔

لیکن اس ساری بحث میں ہم اپنے ہمسائے ایران کو یکسر بھول جاتے ہیں۔ چلیں روس تو دور ہے مگر ایران کے ساتھ تو ہمارا بارڈر لگتا ہے اور ٹرانسپورٹ کا بھی زیادہ خرچہ نہیں ہو گا کیونکہ سیدھی سڑک بلوچستان سے ایران کے اندر جاتی ہے۔

حالانکہ یہی ایرانی تیل بلوچستان میں سمگل ہو کر پاکستانی معیشت کو سالانہ تقریباََ ڈیڑھ سو ارب روپے کا نقصان پہنچا رہا ہے۔

پہلا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ ایران چونکہ عالمی پابندیاں کی زد میں ہے، اس لیے وہ دوسرے ملکوں کے ساتھ کھلے عام تجارت نہیں کر سکتا اور تیل کی تجارت تو بالکل بھی نہیں۔

لیکن یہ پورا سچ نہیں کیونکہ ملائیشیا، چین اور بھارت ایرانی تیل کے سب بڑے خریدار ہیں۔

یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کی رپورٹ کے مطابق ایران چھیالیس فیصد تیل ملائیشیا کو، اٹھائیس فیصد چین کو، دس فیصد متحدہ عرب امارات کو، نو فیصد شام کو اور سات فیصد دیگر ملکوں کو ایکسپورٹ کرتا ہے جن میں سے ایک بھارت بھی ہے۔

رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایرانی تیل براہ راست چین کو نہیں بھیجا جاتا۔ بلکہ پہلے یہ عمان، متحدہ عرب امارات اور ملائیشیا میں بھیجا جاتا ہے جہاں اس میں وہ تیل ملایا جاتا ہے جو ایران سے نہیں نکلتا۔ اس کی ری لیبلنگ کی جاتی ہے۔ آئل ٹینکرز تبدیل کیے جاتے ہیں اور پھر چین کو بھیجا جاتا ہے۔

اگر آپ کو معلوم نہیں تو جان لیں کہ ایران کے پاس دنیا کے تیل کے چوتھے بڑے اور گیس کے دوسرے بڑے ذخائر موجود ہیں۔

2021ء میں تیل کی پیداوار کے لحاظ سے ایران دنیا کا نواں بڑا ملک تھا۔ تقریباََ 3.7 ملین بیرل روزانہ کے حساب سے خام تیل کی عالمی پیداوار میں ایران کا حصہ چار فیصد تھا۔ اگر پابندیاں اٹھا لی جائیں تو ایرانی تیل کی روزانہ پیداوار 3.7 ملین بیرل تک جا سکتی ہے۔

2020 میں ایرانی کمپنیوں نے تیل کی برآمدات سے 15 ارب ڈالر کمائے لیکن 2021ء میں چین کی طلب بڑھنے اور عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے کی وجہ سے ایران نے تقریباََ 40 ارب ڈالر کمائے۔

2022ء میں ایرانی تیل کی برآمدات کے حوالے سے متضاد خبریں سامنے آتی رہیں۔ یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کا اندازہ تھا کہ ایران کی خام تیل کی روزانہ برآمدات چھ لاکھ بیرل رہیں گی جبکہ دیگر پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات الگ سے تقریباََ چار لاکھ بیرل ہوں گی۔ یعنی مجموعی طور پر تقریباََ ایک ملین بیرل روزانہ۔

رواں سال عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت کم از کم 75 ڈالر فی بیرل اور زیادہ سے زیادہ 135 ڈالر فی بیرل رہی۔ اگر اوسط قیمت 90 ڈالر فی بیرل لگائی جائے تو برآمدات تقریباََ 20 سے 22 ارب ڈالر کی تک جا پہنچتی ہیں۔

اسی طرح دیگر پٹرولیم مصنوعات یعنی ڈیزل، مٹی کا تیل اور جہازوں کا تیل بھی شامل کر لیا جائے تو ایران کو تیل کی مجموعی برآمدات سے تقریباََ 35 سے 45 ارب ڈالر آمدن متوقع ہے۔

پاکستان ایرانی تیل کیوں درآمد نہیں کرتا؟ 

پاکستان روسی تیل خریدنے کو تو تیار ہے، حالانکہ روس پر ایران سے بھی زیادہ مغربی پابندیاں عائد ہیں۔

اس کا سادہ سا جواب تو یہ ہے کہ اوپیک تنظیم کا رکن ہونے کے باوجود ایرانی تیل کی برآمد پر سخت امریکی پابندیاں عائد ہیں۔ ہم نا چین ہیں، نا بھارت اور نا ہماری معیشت ملائیشیا جیسی ہے۔

اگر ایرانی تیل خرید بھی لیا تو خواہ مخواہ امریکیوں، سعودیوں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی نظر میں آئیں گے اور یہ نظر محبت بھری ہر گز نہ ہو گی۔

جب ایک ملک کسی دوسرے ملک سے کچھ خریدتا ہے تو ادائیگیاں زیادہ تر ڈالر میں ہوتی ہیں اور وہ بھی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ادائیگیوں کے نظام کے تحت۔ جسے سوئفٹ (SWIFT) یعنی سوسائٹی فار ورلڈ وائیڈ انٹربینک فنانشل ٹیلی کمیونیکیشن کہتے ہیں۔

اَب یہ سوئفٹ امریکی اجارہ داری میں ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ یوکرین پر حملے کے فوری بعد امریکا نے روس کو ڈالر میں کسی بھی قسم کے لین دین سے روک دیا تھا تو روسی حکومت نے سوئفٹ کا متبادل نظام لانے کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: 

تیل کے بغیر خلیجی عرب ملکوں کا مستقبل کیا ہو گا؟

پٹرول و ڈیزل کے بعد خوردنی تیل کا عالمی بحران بھی سر پر منڈلا رہا ہے

ایسے میں اگر پاکستان بھاری مقدار میں ایرانی تیل یا گیس خریدتا ہے تو ایران تو پہلے ہی پابندیوں کی زد میں ہے تو اُس تیل کی ادائیگیاں شائد پاکستان نہ کر سکے۔ بس ایرانی تیل نہ خریدنے کی پہلی بڑی وجہ یہی ہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ امریکا اُس ملک پر بھی پابندیاں لگا دے گا جو ایران کے ساتھ تجارت کرے گا یا پابندیوں کی فہرست میں شامل کوئی چیز ایران سے خریدے گا۔

لیکن اس تصویر کا دوسرا رُخ بھی ہے۔ وہ ہے ایرانی تیل کی اربوں ڈالر کی بلیک مارکیٹ۔ اس بلیک مارکیٹ کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ایران کی تیل صاف کرنے کی صلاحیت کم ہے اور خام تیل کی پیداوار زیادہ۔

2020ء میں پرافٹ کیلئے اپنے آرٹیکل میں اریبہ شاہد نے لکھا تھا کہ ایران سے سالانہ تقریباََ 3.6 ارب لٹر تیل سمگل ہوتا ہے یعنی 63 ہزار بیرل روزانہ۔

ارٹیکل میں اُس وقت کے سیکریٹری پٹرولیم اسد حیاءالدین کا حوالہ دے کر بتایا گیا تھا کہ روزانہ تقریباََ 12 لاکھ لٹر ایرانی تیل سمگل کر کے پاکستان لایا جاتا ہے جو ایرانی تیل کی مجموعی سمگلنگ کا 12 فیصد ہے۔

سمگل شدہ ایرانی تیل بلوچستان میں تو استعمال ہوتا ہی ہے، المیہ یہ ہے کہ ملک کے دور دراز شہروں میں بھی بیچا جاتا ہے۔

جنوری 2021ء میں سابق وزیراعظم عمران خان نے تیل کی سمگلنگ اور غیرقانونی فروخت کے خلاف کریک ڈائون کا حکم دیا تو معلوم ہوا کہ ملک بھر میں دو ہزار پٹرول پمپ سمگل شدہ ایرانی تیل کی فروخت میں ملوث ہیں۔

کسٹمز حکام کی جانب سے وزیراعظم کو بتایا گیا کہ پٹرول اور ڈیزل کی سمگلنگ اور غیرقانونی فروخت کی وجہ سے قومی خزانے کو سالانہ 100 ارب سے 150 ارب روپے تک نقصان پہنچتا ہے۔

امید ہے آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ پاکستان کیوں ایران سے تیل نہیں خریدتا حالانکہ فاصلہ کم ہونے کی وجہ سے اس پر ترسیلی لاگت بھی کم ہو گی اور یہ تیل ناصرف سستا مل سکتا ہے بلکہ پاکستان میں فروخت بھی کم قیمت پر ہو گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here