ٹیک انڈسٹری میں بے روزگاری کیوں بڑھ رہی ہے؟

421
do-we-see-a-tech-sector-bust-soon

آپ نے یہ خبریں تو سنی اور پڑھی ہوں گی کہ ٹیسلا کے ارب پتی مالک ایلون مسک نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر خریدتے ساتھ ہی تقریباََ آدھے سٹاف کو گھر کی راہ دکھا دی تھی۔

ٹویٹر کے کل ملازمین کی تعداد تقریاََ ساڑھے سات ہزار تھی جن میں سے پچاس فیصد کو ایلون مسک نے کمپنی کی باگ ڈور سنبھالتے ہی نوکریوں سے نکال دیا تھا اور ان میں زیادہ تعداد بھارتی نژاد ملازمین کی تھی۔ نکالے جانے والوں میں کمپنی کے سابق سربراہ پراگ اگروال بھی شامل تھے۔

عام طور پر کسی ٹیک کمپنی میں نوکری محفوظ سمجھی جاتی ہے لیکن حالیہ صورت حال دیکھ کر لگتا ہے کہ اَب سب سے زیادہ غیرمحفوظ نوکری ٹیک انڈسٹری میں ہے۔

امریکا کے ادارہ برائے شماریات کی رپورٹ کے مطابق نومبر 2022ء کے دوران مختلف کمپنیوں اور کاروباروں نے مجموعی طور پر دو لاکھ تریسٹھ ہزار نئی نوکریاں پیدا کیں جو توقع سے بھی زیادہ تھیں۔

لیکن اس کے باوجود امریکا میں بے روزگاری کی شرح تین اعشاریہ سات فیصد رہی۔ سب سے زیادہ بے روزگاری ٹیک انڈسٹری اور اس سے منسلک کاروباروں میں پائی گئی، یا پھر مختلف کمپنیوں، کاروباروں اور صنعتوں کے ٹیکنالوجی سے متعلقہ شعبوں میں زیادہ تر لوگ بے روزگار ہوئے۔

اس کی ایک وجہ تو ہر شعبے میں آٹومیشن اور روبوٹس کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ تاہم مزید وجوہات کی چھان پھٹک کیے بغیر ہم یہ جائزہ لیتے ہیں بڑی ٹیک کمپنیوں نے رواں سال کتنے ملازمین کو نکالا۔

ویب سائٹ لے آفز ڈاٹ ٹی وائے آئی (Layoffs.tyi) کے مطابق کووڈ 19 کے دوران دنیا بھر میں تقریباََ ایک ہزار چار سو تریسٹھ ٹیک کمپنیوں نے تقریباََ دو لاکھ بیالیس ہزار ملازمین کو نوکریوں سے نکالا۔

صرف رواں سال کے دوران نو سو تیس ٹیک کمپنیوں نے تقریباََ ایک لاکھ چھیالیس ہزار ملازمین کو فارغ کیا۔

سبسکرائبرز کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے آمدن میں کمی کا بہانہ تراش کر مئی 2022ء میں ویڈیو سٹریمنگ پلیٹ فارم نیٹ فلکس نے ڈیڑھ سو اور جون میں تین سو ملازمین کو نکال دیا۔

کرپٹو مارکیٹ میں تنزلی کو وجہ گردانتے ہوئے کوئین بیس نامی کرپٹو کمپنی نے اپنی اٹھارہ فیصد افرادی قوت کو مستقل رخصت پر بھیج دیا۔

10 نومبر 2022ء کو مارک زکر برگ کی میٹا نے دنیا بھر میں اپنی مجموعی افرادی قوت کے تیرہ فیصد یعنی گیارہ ہزار ملازمین کو نکال کر بہ ظاہر کمپنی کا مالیاتی بوجھ ہلکا کر لیا۔

امریکی ملٹی نیشنل اور ای کامرس کمپنی ایمازون نے دس ہزار ملازمین کو نکال کر کچھ بچت کی تدبیر کر لی۔

ڈیجیٹل کمیونیکیشنز ٹیکنالوجی کمپنی سِسکو نے اپنی افرادی قوت کے پانچ فیصد یعنی چار ہزار ایک سو ملازمین کو فارغ کر دیا۔

اکتوبر 2022ء میں مائیکروسافٹ نے تقریباََ ایک ہزار، اِن ٹیل نے ایک سو اور اوریکل نے دو سو ملازمین کو نوکریوں سے نکال دیا۔

کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ کم بکنے کا عذر تراش کر ایچ پی نے چار ہزار سے چھ ہزار ملازمین کو نکالنے کا اعلان کر رکھا ہے جنہیں آئندہ تین سالوں کے دوران مرحلہ وار فارغ کیا جائے گا۔

ایک رپورٹ کے مطابق گوگل بھی اخراجات میں کمی لانے کیلئے اپنی افرادی قوت کا چھ فیصد کم کرنے کا عندیہ دے چکی ہے جس کا مطلب ہے کہ 2023ء تک دس ہزار ملازمین فارغ کیے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: 

آپ کے لوکیشن ڈیٹا کی اربوں ڈالر کی خفیہ مارکیٹ

امریکا سمارٹ فون مینوفیکچرنگ میں چین سے پیچھے کیوں؟

یہ ہے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی صورت حال۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں چھوٹی ٹیک کمپنیاں اور سٹارٹ اپس بھی اُنہی بڑی کمپنیوں کے نقشِ قدم پر ہیں۔ پاکستان کے حالات بھی مختلف نہیں۔

مئی 2022ء نے پاکستانی رائیڈ سروس ائیرلفٹ نے اکتیس فیصد افرادی قوت کو فارغ کرنے کا اعلان کیا جبکہ جولائی میں کمپنی نے اپنا کاروبار مکمل طور پر بند کر دیا جس سے مزید سینکڑوں افراد بے روزگار ہو گئے۔

پرافٹ میگزین کی 17 جولائی کی خبر کے مطابق ای کامرس سٹارٹ اَپ ’دُکان ڈاٹ پی کے‘ نے پچیس فیصد ملازمین کو گھر کی راہ دکھائی۔

ماہرین عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کمپنیوں میں جاری بے روزگاری کی اِس لہر کا موازنہ ’ڈاٹ کام برسٹ (dot-com burst)‘ سے کر رہے ہیں۔

’ڈاٹ کام برسٹ‘ کو سمجھنے کیلئے ہم آپ کو تھوڑا سا ماضی لیے چلتے ہیں۔

آپ جانتے ہیں کہ اپنے آغاز سے لے کر انٹرنیٹ صرف دفاعی اداروں کے کام کی چیز سمجھا جاتا تھا۔ 80ء کی دہائی میں کچھ کمپنیوں کو بھی یہ سہولت میسر آ گئی اور 90ء کی دہائی کے اوائل میں ورلڈ وائیڈ ویب کی ایجاد سے عوام کی رسائی بھی انٹرنیٹ تک ہو گئی۔

1995ء سے 2000ء تک کے پانچ سالوں میں انٹرنیٹ کمپنیوں میں سرمایہ کاری یکایک تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اور ان کے حصص کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگے۔

صورت حال یہ ہو گئی کہ امریکا میں لوگ نوکریاں چھوڑ کر آن لائن کمپنیاں کھولنے لگے اور دوسری صنعتوں اور کمپنیوں سے پیسہ نکال کر ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کمپنیوں کے حصص خریدنے لگے۔

بعض چیزوں کے حصص کی خریدوفروخت میں اچانک بہت زیادہ تیزی آنے کی تاریخ میں کئی مثالیں موجود ہیں۔ جیسا کہ 1840ء میں ریلوے انجن اور بوگیاں بنانے یا پٹری بچھانے والی کمپنیوں کے حصص بلند ترین سطح پر پہنچ گئے تھے۔

1940ء میں ٹیلی ویژن بنانے والی کمپنیوں کے حصص اوپر چلے گئے۔ 1950ء میں ٹرانزسٹر کمپنیوں کے حصص بے قابو ہو گئے اور 60ء کی دہائی میں گاڑیاں بنانے والی اور کمپیوٹر ساز کمپنیوں کے حصص کی فروخت میں اچانک اضافہ ہو گیا تھا۔

یعنی جب بھی کوئی چیز مارکیٹ میں ضرورت سے زیادہ مقبول ہوئی لوگوں نے دھڑا دھڑ اس میں سرمایہ کاری شروع کر دی۔

سن 1995ء سے لے کر سن 2000ء تک پانچ سالوں کے دوران انٹرنیٹ کمپنیوں میں بھاری سرمایہ کاری کی وجہ سے نسدق انڈیکس ایک ہزار پوائنٹس سے پانچ ہزار پوائنٹس پر پہنچ گیا اور انٹرنیٹ کمپنیوں کے حصص کی فروخت میں چار سو فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

1999ء وہ سال تھا جب مجموعی وینچر کیپٹل سرمایہ کاری میں سے انتالیس فیصد صرف انٹرنیٹ کمپنیوں میں ہوئی۔ اُسی سال ہونے والی چار سو ستاون ابتدائی عوامی پیشکشوں (آئی پی اوز) میں سے زیادہ تر انٹرنیٹ کمپنیوں کی تھیں۔

ماہرین نے انٹرنیٹ کی ’ڈاٹ کام (.com)‘ ڈومین کی وجہ سے اس صورت حال کو ’ڈاٹ کام بلبلے‘ کا نام دیا۔

پھر آیا اکتوبر 2002ء۔ جب یہ بلبلہ پھٹ گیا اور سٹاک مارکیٹ تنزلی کی جانب لڑھکنے لگی۔ اسے ’ڈاٹ کام برسٹ‘ کہا گیا۔

سٹاک مارکیٹ تنزلی کا شکار ہونے کے نیتجے میں کئی انٹرنیٹ کمپنیاں یا تو مکمل طور پر بند ہو گئیں یا بندش کے قریب پہنچ گئیں۔ نتیجتاََ سرمایہ کار بیٹھے بٹھائے کروڑ پتی سے ککھ پتی ہو گئے۔ ہزاروں ملازمین بے روزگار اور عالمی معیشت کساد بازاری کا شکار ہو گئی۔

پیٹس ڈاٹ کام (Pets.com)، ورلڈ کال، بُو ڈاٹ کام (boo.com)، نارتھ پوائنٹ کمیونیکیشنز، ویب وین (webvan) اور گلوبل کراسنگ جیسی کمپنیوں کے نام شائد آپ پہلی بار پڑھ رہے ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ کمپنیاں ڈاٹ کام برسٹ کے نتیجے میں بند ہو گئیں تھیں۔

مائیکروسافٹ اور ایمازون سمیت کچھ بڑی کمپنیوں کو بھی کافی مالی نقصان پہنچا۔ سِسکو، اِن ٹیل اور اوریکل کے حصص اسّی فیصد گر گئے۔

واضح رہے کہ سن 2000ء میں سِسکو کا مجموعی مالیاتی حجم تقریباَ پانچ سو ارب ڈالر تھا۔

نسدق انڈیکس، جو کہ 10 مارچ سن 2000ء کو پانچ ہزار اڑتالیس پوائنٹس پر تھا، چھہتر فیصد گراوٹ سے 4 اکتوبر 2002ء کو ایک ہزار ایک سو انتالیس پوائنٹس پر آ گیا۔ نسدق کو پانچ ہزار پوائنٹس تک دوبارہ  پہنچنے میں پندرہ سال لگ گئے۔

عالمی ٹیکنالوجی صنعت کی موجودہ صورت حال کا موازنہ ڈاٹ کام برسٹ سے اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ زیادہ تر بڑی ٹیک کمپنیوں کے حصص میں کمی دیکھی جا رہی ہے اور وہ اپنا مالیاتی حجم کھو رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: 

کسان کے بیٹے کا خواب بنا 371 ارب ڈالر اور 23 لاکھ ملازمین والا وال مارٹ

ڈاکٹر امر بوس: ’سپیکرز کی آواز پسند نہ آئی تو اپنا آڈیو سسٹم ایجاد کرکے دنیا کی سماعتوں کو تسخیر کر لیا‘

وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق 2019ء کے بعد ٹویٹر کو کبھی منافع نہیں ہوا۔ 2020ء میں ٹویٹر کو ایک ارب چودہ کروڑ ڈالر اور 2021ء میں بائیس کروڑ چودہ لاکھ ڈالر خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔

ارب پتی ایلون مسک نے چوالیس ارب ڈالر میں خسارہ زدہ ٹویٹر کو خریدا تو یکم نومبر 2022ء کو ان کے مجموعی اثاثوں کی مالیت نو ارب ڈالر کم ہو گئی۔

ٹائم میگزین کے مطابق کووڈ 19 کے بعد سال 2022ء بین الاقوامی سطح پر ٹیکنالوجی صنعت کیلئے بدترین رہا۔ اکتوبر 2022ء میں ایپل، گوگل، میٹا اور ایمازون سمیت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص کی مالیت گرنے کی وجہ سے ٹیکنالوجی صنعت کو مجموعی طور پر چار سو ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔

رواں سال کے دوران میٹا، ایمازون، نیٹ فلکس اور ایلفابیٹ کی کارکردگی بدترین رہی۔ سب سے کم سولہ فیصد شئیرز ایپل کے گرے۔ میٹا کے چھیاسٹھ فیصد جبکہ مائیکروسافٹ، این ویڈیا (Nvidia) اور ٹیسلا کے شئیرز پچیس فیصد سے پینتالیس فیصد تک گر گئے۔

ٹیک انڈسٹری کی اس صورت حال کا ذمہ دار ماہرین تین عناصر کو قرار دیتے ہیں۔

1۔ معاشی بحران اور مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح

2۔ بہت زیادہ شرح سود

3۔ امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ

مہنگائی اور شرح سود میں اضافے کی وجہ سے زیادہ تر سرمایہ کار مالیاتی اداروں سے قرضے نہیں پا رہے اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص پر سرمایہ کاری کا خطرہ مول نہیں لے رہے کیونکہ اس صنعت پر غیریقینی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔

اسی غیریقینی کے باعث ہی سرمایہ کار اپنے پاس پہلے سے موجود پیسہ بھی ٹیک کمپنیوں کے حصص پر خرچ کرنے کو تیار نہیں۔

ڈالر کی دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں بلند پرواز نے امریکی ٹیک کمپنیوں کی دوسرے ملکوں سے آمدن میں کمی کر دی ہے کیونکہ جن ملکوں کی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر مضبوط ہے وہاں سے امریکی کمپنیوں کو کم ڈالر مل رہے ہیں۔

ٹیک کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی فروخت اور آن لائن تشہیری مہموں سے آمدن بڑھانے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ معاشی بحران کی وجہ سے دنیا بھر میں لوگ کم پیسہ خرچ کر رہے ہیں۔

مثال کے طور پر گزشتہ سال گوگل کے منافع میں ستائیس فیصد کمی ہوئی کیونکہ تشہیرکنندگان نے تشہیری مہموں پر کم پیسہ خرچ کیا۔

اس ساری صورت حال کا خلاصہ یہ ہے کہ ٹیک کمپنیوں کی آمدن اور منافع میں مجموعی طور پر کمی آئی ہے لیکن اخراجات وہیں کے وہیں ہیں۔ اس لیے اکثر ٹیک کمپنیاں اپنے اخراجات کم کرنے کیلئے ملازمین کو نکال رہی ہیں۔ گو کہ ہر کمپنی کی ملازمین کو فارغ کرنے کی اپنی وجوہات ہیں لیکن بنیادی وجہ یہی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here