تیل کے بغیر خلیجی عرب ملکوں کا مستقبل کیا ہو گا؟

105
What a future without oil looks like for the Gulf countries

خلیجی ممالک کی بے پناہ دولت سے متعلق سوچنے پر پہلا خیال تیل کے بارے میں ہی آتا ہے۔ یہ بات بالکل درست ہے کیونکہ خیلجی ریاستوں میں دولت، سیاست اور طاقت سب کچھ تیل کی بدولت ہے۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، کویت اور بحرین کا شمار تیل پیدا کرنے والے امیر ترین ملکوں میں ہوتا ہے جنہوں نے مل کر 1981ء میں خلیج تعاون کونسل یعنی جی سی سی قائم کی جو دنیا کی بااثر تنظیموں میں سے ایک ہے۔

لیکن اب دنیا تیل کی بجائے توانائی کے متبادل ذرائع پر منتقل ہو رہی ہے۔ ایسے میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کا مستقبل کیا ہو گا؟

اگرچہ جی سی سی کے قیام کا مقصد خلیجی ملکوں کے درمیان سیاسی، معاشی اور دفاعی تعاون بڑھانا تھا لیکن اس کے رکن ممالک امریکا اور برطانیہ کیساتھ مل کر کام کرنے کو زیادہ ترجیح دیتے رہے۔ اس لیے کئی سالوں تک یہ تنظیم تقریباً غیرفعال رہی۔

پہلی دفعہ اس تنظیم نے بڑے پالیسی اقدامات عرب سپرنگ کے زمانے میں کیے۔ عرب سپرنگ 2011ء میں بادشاہت اور آمریت مخالف اٹھنے والی اُس عوامی لہر کو کہا جاتا ہے جس نے تیونس، مصر، لیبیا، شام اور خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک سعودی عرب، امارات اور بحرین کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

اگرچہ عرب سپرنگ نے جی سی سی کو متحرک ضرور کیا لیکن اس کے نتیجے میں قطر اور دیگر پانچ رکن ملکوں کے درمیان تنازع بھی پیدا ہو گیا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ خلیجی  ممالک تاریخی طور پر آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ اگرچہ یہ تیل کے ذخائر اور معاشی لحاظ سے برابر نہیں مگر اُن کی ایک مشترکہ تاریخ ضرور ہے۔

خلیجی ریاستوں کا شمار تیزی سے ترقی کرتی معیشتوں میں ہوتا ہے اور اِن چھ میں سے پانچ ملکوں کا انحصار تیل پر ہے جبکہ قطر کے پاس تیل کے علاوہ گیس بھی ہے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ خلیجی ملکوں کا معاشی انحصار تیل پر اس قدر زیادہ ہے تو 2015ء کا آئل مارکیٹ کریش، 2020ء میں تیل کی قیمتوں پر سعودی روس تنازعہ اور پھر کورونا کی وجہ سے تیل کی طلب اور قیمتوں میں کمی کا اِن ملکوں کی معیشت پر کیا اثر پڑا؟

دراصل معاشی مشکلات سے نمٹنے کیلئے ان ممالک نے خودمختار ویلتھ فنڈ قائم کر رکھے ہیں جو بانڈز جاری کرتے ہیں۔ 2020ء میں سعودی عرب، امارات، قطر، بحرین اور عمان نے تقریباََ 42 ارب 10 کروڑ ڈالر کے بانڈز جاری کیے۔ انہیں عالمی اداروں سے قرضے بھی بآسانی مل جاتے ہیں۔

پھر بھی سب اچھا نہیں۔ آئی ایم ایف کی 2020ء کی ایک رپورٹ کے مطابق خلیجی ملکوں کی 2 کھرب ڈالر کی دولت 2034ء تک ختم ہو سکتی ہے۔

سعودی عرب اور امارات تیل پر معاشی انحصار تیزی سے کم کر رہے ہیں اور کاربن نیوٹرل پالیسیاں اپنا رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ عالمی سطح پر ماحولیات کے حوالے سے بڑھتے دبائو کی وجہ سے اپنی اہمیت برقرار رکھنے کیلئے یہ کرنا ضروری ہے۔

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کی مئی 2021ء کی رپورٹ کے مطابق انرجی سیکٹر اور انڈسٹری سے کاربن کا اخراج 1992ء کے مقابلے میں 60 فیصد بڑھ چکا ہے۔ تاہم سعودی وزیر توانائی سمیت تیل پیدا کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک کے بہت سے رہنماؤں نے اس رپورٹ کو تمسخر کا نشانہ بنایا۔ انہیں لگتا ہے کہ تیل پر انحصار جلد ختم ہونے والا نہیں کیونکہ چین اور بھارت جیسی بڑی معیشتوں کا تیل کے بغیر گزارا ممکن نہیں۔

لیکن ماہرین کی رائے اس کے برعکس ہے۔ وہ کہتے ہیں اگرچہ عرب ممالک طویل عرصے سے تیل کی مدد سے اپنی معیشتیں چلا رہے ہیں لیکن مستقبل میں تیل پر انحصار ختم ہو گا اور یہ اسے ٹال نہیں سکتے۔

خود تیل پیدا کرنے والے ملکوں کو بھی اس حقیقت کا ادراک ہے اور انہوں نے تیل پر انحصار کم کرنے کیلئے کام شروع کر دیا ہے۔ اس کی ایک مثال سعودی عرب کا وژن 2030ء ہے جس سے کافی تبدیلی آ رہی ہے۔

پہلی بار سرکاری آئل کمپنی آرامکو کے شئیرز فروخت کیلئے پیش کیے گئے۔ ماضی میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ سعودی سٹاک ایکسچینج پر آرامکو کی ویلیوایشن ایک کھرب 70 ارب ڈالر ہوئی اور کمپنی نے آئی پی او کے ذریعے 25 ارب 60 کروڑ ڈالر جمع کیے حالانکہ اسے 100 ارب ڈالر کی امید تھی۔

ماضی کی نسبت سعودی عرب اور امارات تعلیم پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں تاکہ معیشت کو چلانے کیلئے درکار ٹیکنوکریٹس اور انٹرپرینیورز پیدا کیے جا سکیں۔ عوام کو ملازمتوں اور ذاتی کاروباروں کی جانب بھی راغب کیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب کی اکثریتی آبادی 35 سال سے کم عمر ہے لہٰذا ولی عہد محمد بن سلمان کا وژن  2030ء گیم چینجر ثابت ہو رہا ہے۔ اس لیے نہیں کہ وژن کا تعلق صرف معیشت سے ہے بلکہ اس لیے کہ یہ ثقافتی اور سماجی تبدیلی بھی لا رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں بھی پالیسی شفٹ دیکھنے میں آیا ہے اور ملک میں گرین ہائیڈروجن کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ سال دبئی میں گرین ہائیڈروجن کا پہلا پائلٹ پراجیکٹ لگایا گیا جو مشرق وسطیٰ میں ماحول دوست توانائی کا اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے۔

لیکن کیا بدلتا ہوا معاشی منظر نامہ خلیج تعاون کونسل کے خاتمے کا سبب بن جائے گا؟ شائد ایسا نہیں ہو گا کیونکہ خلیجی ممالک جانتے ہیں کہ انفرادی کے بجائے اجتماعی طور پر وہ زیادہ طاقتور ہیں، لہٰذا اختلافات کے باوجود کونسل کے خاتمے کا امکان نہیں۔

تین سال جاری رہنے والے سعودی قطر تنازعے کی مثال آپ کے سامنے ہے۔ اس سے ایک چیز واضح ہوتی ہے کہ اختلافات جس قدر بھی ہوں۔ خلیجی ممالک اپنے اتحاد کی اہمیت سے واقف ہیں اور تیل پر انحصار کم ہو جانے کے باوجود یہ خطہ دنیا کیلئے اہم ہی رہے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here