دنیا کی زیادہ تر دولت کس کے قبضے میں ہے؟

193
who own world wealth

تصور کیجئے اگر آپ کے پاس اتنی دولت ہوتی جتنی برطانیہ کے دارالحکومت لندن کے پاس ہے تو کیسا ہوتا؟

اس شہر کا جی ڈی پی 500 ارب ڈالر ہے لیکن آپ کیلئے یہ بات حیران کن ہو گی کہ دنیا کے محض 8 افراد کی دولت لندن کی مجموعی دولت کے برابر ہے۔

2016ء میں دنیا بھر میں ایک کروڑ 80 لاکھ گھرانے 10 لاکھ ڈالر سے زیادہ دولت کے مالک تھے۔ ان لکھ پتی گھرانوں کے پاس دنیا کی 45 فیصد دولت تھی۔

اس کی مزید تفصیل میں جائیں تو معلوم ہو گا کہ 2016ء تک 10 لاکھ ڈالر سے 2 کروڑ ڈالر تک دولت اور اثاثوں کی ملکیت رکھنے والے گھرانوں کے پاس مجموعی طور پر دنیا کی 28 فیصد دولت تھی۔ ایسے گھرانے جن کی دولت اور اثاثوں کی مالیت 2 کروڑ ڈالر سے 10 کروڑ ڈالر تھی وہ مجموعی طور پر دنیا کی 9 فیصد دولت کے مالک تھے جبکہ 10 کروڑ ڈالر سے زائد دولت رکھنے والے الٹر ہائی نیٹ ورتھ (Ultra-high net worth) کے حامل گھرانوں کے پاس دنیا کی مجموعی دولت کا 8 فیصد حصہ تھا۔

عالمی سطح پر اُمراء کی دولت میں ہر گزرتے دن کے ساتھ تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ 2021ء کے اختتام تک دنیا کی نجی دولت کا آدھے سے زیادہ حصہ اِنہی لکھ پتی گھرانوں کی ملکیت بن چکا ہے حالانکہ 10 سال قبل یہی لکھ پتی گھرانے عالمی دولت کے ایک تہائی حصے کے مالک تھے۔

تو ان امراء کی دولت میں اتنا اضافہ کیسے ہوا؟ اس کا ایک ذریعہ  تو سٹاک مارکیٹ ہے، جہاں یہ اپنا سرمایہ لگاتے ہیں اور بھاری منافع کماتے ہیں۔

دنیا میں سب سے زیادہ ملینئیرز (Millionaires) امریکا میں رہتے ہیں جہاں 70 لاکھ گھرانے 10 لاکھ ڈالر فی گھرانہ سے زیادہ دولت کے مالک ہے اور یہ دولت وہ کہیں بھی سرمایہ کاری کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔

چین کا لکھ پتی افراد کی فہرست میں دوسرا نمبر ہے، جاپان تیسرے ، برطانیہ چوتھے اور کینیڈا پانچویں نمبر پر ہے۔

آخر ان امراء کے پاس اتنی دولت آئی کہاں سے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دنیا میں ایک تہائی ارب پتی افراد کو ان کی دولت وراثت میں ملی یعنی ان کے باپ دادا بھی امیر تھے۔ لیکن کئی کروڑ پتی اور ارب پتی افراد ایسے بھی ہیں جو مٹی کے ڈھیر سے اٹھے اور اپنے بل بوتے پر دولت کما کر ارب پتی بنے۔

سرمایہ کاری فرم یو بی ایس (UBS) کا کہنا ہے کہ اگلے 20 سالوں کے دوران تقریباََ 500 امراء اپنی آئندہ نسلوں کو دو کھرب ڈالر سے زائد وراثت میں منتقل کریں گے۔ یہ رقم سوا ارب سے زائد آبادی کے حامل بھارت کے جی ڈی پی کے برابر ہے۔

مگر دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں جگہ بنانے کیلئے آپ کو کروڑ پتی یا ارب پتی ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ آمدن اور دولت دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ آمدن وہ ہوتی ہے جو آپ ماہانہ پے چیک کی صورت میں وصول کرتے ہیں جبکہ دولت آپ کے زیرملکیت اثاثوں کی مجموعی مالیت کا نام ہے۔ جیسا کہ آپ کا گھر، گاڑی، بانڈز وغیرہ۔

دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ آمدن کی نسبت دنیا دولت کی تقسیم کے حوالے سے زیادہ عدم مساوات کا شکار ہے۔ دنیا کے آدھے نوجوانوں کی دولت 2 ہزار  222ڈالر سے زیادہ نہیں۔ ان میں سے اکثریت کی دولت کی مالیت منفی ہے یعنی ان کے ذمے قرض کی رقم اُن کی دولت سے زیادہ ہے۔

اگرچہ یہ اختلاف پایا جاتا ہے کہ دنیا کی دولت اس کے کس حصے میں زیادہ جمع ہے مگر اس کے باوجود بل گیٹس اور وارن بفٹ جیسے امیر ترین افراد دولت کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے اقدامات کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here