پاکستان میں موٹرسائیکل کی تاریخ

355
The motorcycle story

جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں موٹر سائیکل سے زیادہ استعمال ہونے والی دوسری سواری کوئی نہیں ہے۔ کم قیمت اور زیادہ فائدے۔ اسی لیے پاکستان میں کاروں، بسوں اور ٹرکوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ موٹرسائیکل نظر آتے ہیں۔ شہر کے کسی بھی چوراہے پر کھڑے ہو کر بے شک گنتی کر لیں۔

بڑھتی آبادی اور مہنگائی دو ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے آمدورفت کیلئے عام آدمی کا واحد سہارا موٹرسائیکل ہے اور یہی صورت حال دیگر ایشیائی ملکوں میں بھی ہے۔

لیکن موٹرسائیکلوں کی اس قدر بہتات کی بھی ایک دلچسپ تاریخ ہے اور اس کیلئے ہمیں تقریباََ 125 سال پیچھے جانا پڑے گا جب برصغیر میں پٹرول انجن والی پہلی موٹر کار لائی گئی تھی۔

یہ 1897ء کی بات ہے جب کولکتہ کے ایک پارسی سیٹھ پہلی موٹر کار خرید کر ہندوستان لائے۔ جسے دیکھ کر کولکلتہ کے دیگر امراء بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور ایک سال میں تین اور پارسی سیٹھوں نے کاریں منگوا لیں۔ ان میں سے ایک جمشید جی ٹاٹا بھی تھے۔ اُسی سال ہی مشہور ٹائر ساز کمپنی Dunlop نے بمبئے میں اپنا دفتر کھولا۔

ظاہر ہے اُس زمانے کے برصغیر میں آج جیسی سڑکیں نہیں تھی، البتہ ریل گاڑی متعارف ہو چکی تھی۔ بڑے شہروں میں بگھیاں، تانگے، ٹرامیں اور سائیکل چلتے تھے۔

لیکن دنیا کی طرح جدید ذرائع آمدورفت کو اپنانے میں برصغیر بھی پیچھے نہیں تھا۔ 1908ء تک بمبئے میں پونے تین سو کاریں اور ایک ہزار سے کچھ اوپر لوگوں کے پاس سائیکل تھے۔ مدراس میں اڑھائی سو کاریں اور تقریباََ تین ہزار سائیکل تھے۔

1914ء تک برصغیر میں گورے اور کھاتے پیتے ہندوستانی سائیکل ہی استعمال کرتے تھے۔ سرکاری کلرک، ڈاک خانے، ٹیلی گرام اور میونسپل ملازمین تک سب سائیکل پر ہی اپنے دفتروں میں آتے جاتے تھے۔

لیکن 1920ء تک آتے آتے طبقاتی تفریق نمایاں ہونے لگی۔ جو زیادہ امیر تھا یا زیادہ بڑا افسر تھا اس نے موٹر سائیکل یا پھر کار خرید لی اور لوئر مڈل کلاسیے سائیکل پر ہی رہ گئے۔

پہلی عالمی جنگ کے بعد برصغیر میں کاریں عام ہونے لگیں البتہ موٹر سائیکل خال خال ہی نظر آتے تھے لیکن اگلے دو تین عشروں میں اور بالخصوص دوسری عالمی جنگ کے بعد موٹرسائیکلوں کی بھی بہتات ہو گئی جو زیادہ تر امریکی یا برطانوی کمپنیوں کی بنائی ہوئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے: 

کار مکینک کا بیٹا جس نے ایپل کی بنیاد رکھی 

کسان کا بیٹا جس کی بنائی ایک کار نے دنیا بدل کر رکھ دی

انڈین موٹرسائیکل مینوفیکچرنگ کمپنی، ہارلے ڈیوڈسن، ٹرائمف (Triumph) موٹرسائیکل، برمنگھم سمال آرمز (BSA)، میچ لیس موٹرسائیکلز اور ائیرئیل موٹرسائیکلز اس زمانے کی مشہور کمپنیاں تھیں۔ البتہ برٹش راج کی وجہ سے برصغیر کی مارکیٹ پر برطانوی کمپنیوں کی گرفت قدرے مضبوط تھی۔

برٹش موٹرسائیکل کلب کے لیڈ سائیکلسٹ شیخ عبدالواحد کے مطابق امریکی کمپنیوں کا برصغیر کی طرف دھیان کم ہی رہا۔ عموماََ تاجر یا مبلغ امریکا سے واپسی پر موٹرسائیکل بھی لے آتے اور اچھی قیمت ملنے پر بیچ دیتے تھے۔

تقسیم  تک موٹرسائیکل اہم ترین سواری بن چکی تھی لیکن سستی ہر گز نہ تھی۔ مثال کے طور پر اُس زمانے میں موٹرسائیکل کی قیمت 2600 یا 2700 روپے تھی جبکہ ایک تولہ سونا 100 روپے میں مل جاتا تھا۔ اَب ایک تولہ سونے کی قیمت تقریباََ ایک لاکھ 36 ہزار روپے ہے۔ یوں اگر سونے کی قیمت کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو اُس زمانے کی برطانوی ساختہ موٹرسائیکل اَب 35 لاکھ میں ملے گی۔ تقریباََ اس قیمت میں سوزوکی سوئفٹ مل جاتی ہے۔

موٹرسائیکل مہنگی ہونے کی دو وجوہات تھیں۔

پہلی: امراء کا شوق

دوسری: درآمد

لاہور اور کراچی میں کولکتہ اور بمبئے جتنی ٹریفک نہیں تھی لیکن نیا ملک بنا تو موٹرسائیکلوں کی طلب بھی بڑھنے لگی اور پاکسانی حکومت نے جزوی تیار شدہ موٹرسائیکل یعنی سیمی نوکڈ ڈائون (SKD) یونٹ اور پرزے درآمد کرنا شروع کر دیے۔

یوں ایک چھوٹی سی انڈسٹری کی بنیاد پڑی۔ پولینڈ، یونیورسل اور لوتیا (Lotia) پہلی تین مقامی کمپنیاں تھیں جنہوں نے برطانوی کمپنیوں کے اشتراک سے کراچی میں موٹرسائیکل سازی شروع کیے۔ ان کمپنیوں نے مقامی کاریگروں کا نیٹ ورک بنایا، انہیں تربیت دی اور موٹرسائیکل فروخت کرنے کیلئے بڑے شہروں میں ڈیلرز کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا۔

لیکن اگر آپ کوئی انڈسٹری شروع کر رہے ہیں تو ایس کے ڈی یونٹ عارضی حل ہے۔ بہتر ہے کہ آپ کمپلیٹلی نوکڈ ڈٓائون (CKD) یونٹ درآمد کریں اور پھر مکمل پروڈکٹ خود تیار کریں۔ اس سے پیداواری لاگت بھی کم رہے گی۔ لیکن اس کیلئے خطیر سرمایہ چاہیے۔

تقسیم کے بعد عشروں تک پاکستان میں یہی چلتا رہا کہ باہر سے جزوی تیار شدہ یونٹ منگوا کر موٹرسائیکل تیار کیے جاتے رہے۔ اس دوران چین اور جاپان سے مکمل تیار شدہ موٹرسائیکلیں درآمد کرنے کی کوششیں بھی ہوئیں۔ پھر بھی ساٹھ کی دہائی تک پاکستان میں موٹرسائیکل زیادہ تر بینک ملازمین اور سرکاری بابوئوں کے پاس ہوتے تھے جس کا مطلب تھا کہ یہ صاحبان کچھ بہتر کما رہے تھے۔

البتہ آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ کم قیمت موٹرسائیکل کی طلب میں اضافہ ہوتا گیا۔ اسی دوران ایک مقامی کمپنی خواجہ آٹوز اطالوی سکوٹر برانڈ ویسپا کو پاکستان لے آئی۔ اس کم قیمت سواری نے آتے ہی عام آدمی کی توجہ حاصل کر لی اور اس قدر مقبول ہوئی کہ خواجہ آٹوز کی سیلز کئی گنا بڑھ گئیں اور سڑکوں پر ہر جانب ویسپا ہی نظر آنے لگے۔

ظاہر ہے عام آدمی کو سستی ذاتی سواری چاہیے تھی اور وہ کہیں نہ کہیں جدت کو بھی پسند کر رہا تھا تو یہاں ہونڈا نے انٹری ماری۔

1962ء میں اطلس گروپ کے چیئرمین یوسف شیرازی نے سید بابر علی کے بھائی سید واجد علی کے ساتھ مل کر جاپان کی ہونڈا موٹرز کے ساتھ معاہدہ کیا اور کراچی اور ڈھاکا میں دو فیکٹریاں لگا کر ہونڈا موٹرسائیکل بنانے شروع کر دیے۔

یہ پروجیکٹ کامیاب رہا اور ہونڈا کے بعد یاماہا نے بھی 1968ء میں بلوچستان میں پہلا اسمبلنگ پلانٹ لگایا تاہم یاماہا کے ابتدائی دو وینچرز ناکام رہے۔

71ء میں ملک ٹوٹ گیا۔ آدھی انڈسٹری بنگلہ دیش میں رہ گئی جس میں ایک موٹرسائیکل پلانٹ بھی شامل تھا۔ باقی ماندہ پاکستان میں مہنگائی نے لوگوں کی قوت خرید کم کر دی اور ان کیلئے مہنگے برطانوی ساختہ موٹرسائیکل خریدنا ممکن نہ رہا۔

تب تک برطانوی کمپنیاں 500 سے 850 سی سی تک موٹر سائیکل بنا رہی تھیں جو عام آدمی کیلئے پرکشش نہیں تھے۔ اس کے برعکس جاپانی کمپنیوں نے 250 سی سی سے کم پاور کے موٹرسائیکل متعارف کروا کر مارکیٹ چھین لی اور برطانوی کمپنیوں کو اپنا بوریا بستر گول کرنے پر مجبور کر دیا۔

برطانوی کمپنیوں کےزوال کا بنیادی سبب یہ تھا کہ جاپانی موٹرسائیکل سستے تھے اور کمپنیاں پاکستان میں پلانٹ لگا رہی تھیں لیکن برٹش کمپنیوں نے لوکلائزیشن پر بالکل توجہ نہیں دی تھی۔

1974ء میں یاماہا نے ایک بار پھر پاکستان میں قسمت آزمائی کی اور اس بار کامیاب رہی۔ 1976ء میں ہونڈا نے سی ڈی 70 اور سی جی 125  جبکہ اس کے مقابلے میں یاماہا نے وائی بی آر 100 رائل متعارف کرائی۔

اُسی سال سندھ انجنئرنگ کمپنی سوزوکی کو پاکستان لے آئی۔ تاہم 1976ء تک یاماہا کی وائی بی آر 100 مارکیٹ پر اپنی دھاک بٹھا چکی تھی۔

آئندہ چند سالوں میں پنجاب میں یاماہا اور سندھ میں سوزوکی چھا گئی۔ صورت حال یہ ہو گئی کہ لوگ سوزوکی موٹرسائیکل خریدنے کیلئے اکثر ہونڈا کے شوروم پر جا پہنچتے۔

ہونڈا کے ہیڈ آف مارکیٹنگ آفاق احمد بتاتے ہیں کہ یاماہا ٹو سٹروک انجن کی وجہ سے پنجاب میں آگے نکل گئی کیونکہ پنجاب کے لوگ تین چار افراد کی سواری کے علاوہ بھی موٹرسائیکل سے کئی کام لیتے ہیں جیسے فصل یا سامان کی نقل و حرکت وغیرہ۔

ٹو سٹروک انجن اپنی پاور کے ساتھ ساتھ کم پرزوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے کم قیمت تھا، اس کی سروس آسانی سے ہو جاتی تھی، اس لیے مکینک بھی اسے پسند کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ سوزوکی اور یاماہا کو مکینکس کا نیٹ ورک بنانے میں بھی آسانی رہی۔

80ء کی دہائی میں تینوں جاپانی کمپنیاں پاکستان میں اپنے قدم مضبوطی سے جما چکی تھیں اور کار سازی کی جانب بھی متوجہ ہو رہی تھیں کیونکہ ٹویوٹا پاکستان میں کار سازی شروع کر چکی تھی۔

تاہم 1982ء میں سیف ندیم کی کاوا ساکی موٹرز نے ساری گیم پلٹ دی۔ امریکی موٹرسائیکلوں کی طرح زیادہ جگہ، اچھوتے ڈیزائن، ٹوسٹروک  انجن اور کم قیمت کی وجہ سے کاوا ساکی پاکستان میں ’بیڈ بوائے موٹربائیک‘ کے طور پر چھا گئی۔ اس کی جی ٹی او 125 کو widow maker کہا جانے لگا۔

اسی دوران ہونڈا نے بھی فور سٹروک چھوڑ کر ٹو سٹروک انجن کے ساتھ ایم بی 100 اور ایچ 100 ایس متعارف کرائی لیکن دونوں ماڈل ہی ناکام رہے۔

1984ء میں امریکا نے آلودگی کی وجہ سے ٹو سٹروک انجنوں پر پابندی لگا دی۔ اس سے دنیا بھر میں موٹرسائیکل انڈسٹری متاثر ہوئی اور کمپنیوں کو فور سٹروک پر منتقل ہونا پڑا۔ تاہم ہونڈٓا کی قسمت چمک اٹھی کیونکہ ٹو سٹروک کے متبادل کے طور پر فور سٹروک انجن بہتر آپشن تھی۔

ہونڈا نے یاماہا کا مقابلہ کرنے کیلئے سی ڈی 70 میں کچھ تبدیلیاں کیں۔ اس کا فریم، وہیل بیس، انجن اور سیٹیں بڑی کر دیں۔ یہ آئیڈیا کام کر گیا اور ہونڈا نے باقی دونوں کمپنیوں کو سیلز میں پیچھے چھوڑ دیا۔

1987 سے 1992 تک ہونڈا کا مارکیٹ شئیر 56 فیصد تک جا پہنچا۔ اس دوران پنجاب میں یاماہا اپنا شئیر برقرار رکھنے میں کامیاب رہی لیکن سندھ اور بالخصوص حیدرآباد اور کراچی جیسی مارکیٹیں سوزوکی کے ہاتھ سے نکل گئیں۔

1991ء میں سوزوکی کارپوریشن جاپان نے اپنے پاکستان آپریشنز میں بڑی انتظامی تبدیلی کرتے ہوئے اطلس ہونڈا کے سابق سی ای او مسٹر دانشمند کو سوزوکی پاکستان کا سربراہ مقرر کر دیا۔

موٹر سائیکل انڈسٹری کی پوری تاریخ سے صرف ایک ہی سبق ملتا ہے کہ اس کی ترقی کا راز لوکلائزیشن میں پوشیدہ ہے۔ برطانوی بائیک انڈسٹری لوکلائز نہ ہونے کی وجہ سے دنیا سے ختم ہو گئی اور صرف اسی ایک چیز کی وجہ سے جاپان کے بعد چینی کمپنیاں بھی کامیاب ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

غریب سائیکل مکینک کا بیٹا جس نے اربوں ڈالر کی ہونڈا کمپنی قائم کی

ہونڈا کا 2040ء تک گاڑیوں کو مکمل طور پر بجلی پر منتقل کرنے کا فیصلہ

ایسوسی ایشن آف پاکستان موٹرسائیکل اسمبلرز کے چیئرمین محمد صابر شیخ کے مطابق نئی کمپنی کیلئے 70 فیصد لوکلائزیشن کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کیلئے بھاری سرمایہ کاری چاہیے۔ 1994ء میں کاوا ساکی مالی مسائل اور لوکلائزیشن میں ناکامی کی وجہ سے پاکستان چھوڑ گئی۔ تاہم اس سے چینی کمپنیوں کی راہ ہموار ہوئی۔

اسی دوران سہراب سائیکلز نے جی ایس 70 متعارف کرائی جو پہلی چینی بائیک تھی۔ 1995ء میں Plum Qingqi، 1999ء میں یونائٹڈ آٹوز اور 2000ء میں ہیرو اور پاک ہیرو پاکستان آئیں۔

اس وقت بڑی کمپنیوں کے ہوتے ہوئے موٹر سائیکل انڈسٹری میں جگہ بنانا کافی مشکل تھا۔ حکومت نے 1987ء سے لوکلائزیشن پروگرام شروع کر رکھا تھا جس کے تحت کسی بھی نئی کمپنی کیلئے کم از کم اپنی 70 فیصد مصنوعات پاکستان میں تیار کرنا ضروری قرار دیا گیا۔

2002ء میں مشرف حکومت نے امپورٹ ڈیوٹی میں کمی کر دی جس کے بعد موٹرسائیکل ساز سات نئی کمپنیاں پاکستان آئیں جن میں سے کئی اب بھی اچھا خاصا مارکیٹ شئیر رکھتی ہیں لیکن 2004ء میں حکومت نے لوکلائزیشن پروگرام مکمل طور پر ختم کر دیا۔

اس کے بعد سپر پاور، ہائی سپیڈ، روڈ پرنس اور راوی جیسی تقریباََ 125 کمپنیوں نے پاکسان میں بزنس شروع کیا اور ملک میں چینی موٹرسائیکلوں کی بھرمار ہو گئی۔ 2002-07ء تک ان کمپنیوں کی سالانہ سیلز ایک لاکھ 95 ہزار یونٹس تک جا پہنچیں۔

اس حوالے سے روڈ پرنس کے ڈائریکٹر سیلز اینڈ مارکیٹنگ محمد سلمان کہتے ہیں کہ ہونڈا اپنے ڈیلرز کو لیز پر موٹرسائیکل دیتی تھی۔ اس کی دیکھا دیکھی نئی کمپنیوں نے بھی آٹھ نو ماہ کی ڈیفرڈ پیمنٹس پر موٹرسائیکل بیچنا شروع کر دیے، اس سے سیلز کئی گنا بڑھ گئیں۔

چینی موٹرسائیکل کم قیمت اور عام آدمی کی قوت خرید کے مطابق تھے، البتہ کم قیمت کی وجہ سے کوالٹی میں فرق تھا۔ جاپانی کمپنیوں نے اسی بات کا فائدہ اٹھا کر صارفین کی توجہ ایک بار پھر اپنی جانب کھینچنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ ہونڈا 2004ء میں “میں تاں ہونڈا ای لیساں” کے مشہور سلوگن کے ساتھ میدان میں اتری۔ سوزوکی نے کار بزنس کے ساتھ ساتھ 2007ء میں پاکستان میں اپنی موٹرسائیکل ڈویژن بھی قائم کر دی تاہم اس دوران یاماہا اپنے پاکستانی شراکت دار دائود گروپ سے الگ ہو گئی جس نے بعد ازاں ڈی وائے ایل یعنی دائود یاماہا لمیٹڈ کے نام سے ری لانچنگ کر دی۔

لیکن 2004ء کے بعد ہونڈا پاکستانی مارکیٹ پر پوری طرح غالب آ گئی۔ پاما کے 2007ء سے 2022ء تک کے اعدادوشمار کے مطابق ہونڈا ہر سال پہلے نمبر پر رہی۔ حتیٰ کہ اس کی سالانہ پروڈکشن باقی تمام کمپنیوں کی مجموعی پروڈکشن سے ساڑھے 4 لاکھ یونٹ زیادہ رہی۔ سال 2021-22ء میں ہونڈا کی پروڈکشن 9 لاکھ 40 ہزار یونٹ رہی جبکہ باقی تمام کمپنیوں کی مجموعی پیداوار 2 لاکھ 21 ہزار 592 یونٹ رہی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here