31 جاب انٹرویوز میں ناکام رہنے والے شخص نے اربوں ڈالر کی علی بابا کیسے بنائی؟

536
man-who-was-rejected-in-31-job-interviews-created-billion-dollar-alibaba

آپ کو اپنی زندگی میں لفظ “ریجیکٹڈ” کتنی بار سننے کو ملا ہو گا؟

دو یا چار بار؟

لیکن دنیا میں ایک ارب پتی ایسا بھی ہے جسے 31 بار یہ لفظ سننے کو ملا۔

لیکن مسترد شدہ یہ شخص ناصرف چین کا امیر ترین آدمی بنا بلکہ آج اربوں ڈالر کی بزنس ایمپائر کا مالک بھی ہے۔

یہ ہیں جیک ما۔

چینی ای کامرس گروپ علی بابا کے بانی۔ جن کی زندگی مسلسل محنت سے عبارت ہے۔

جیک ما 10 ستمبر 1964ء کو چینی صوبے ژین جیانگ کے شہر ہانگ ژائو میں پیدا ہوئے۔ پیدائشی نام ما یُن (Ma Yun)  اور تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا۔

بچپن میں انہیں انگریزی سیکھنے کا جنون تھا۔ وہ ریڈیو پر انگریزی خبریں سنتے۔ روزانہ 27 کلومیٹر سائیکل چلا کر ہانگ ژو کے انٹرنیشنل ہوٹل جاتے جہاں مغربی سیاحوں کے ٹوئر گائیڈ بن کر اُن سے انگریزی سیکھتے۔

تب چین مغربی دنیا سے تقریباََ کنارہ کش تھا اور چینی باشندے چیئرمین مائو کی تعلیمات کی وجہ سے اپنی زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان کو درخورِ اعتنا ہی نہ سمجھتے تھے۔

رچرڈ نِکسن پہلے امریکی صدر تھے جنہوں نے 21 فروری 1972ء کو چین کا دورہ کیا۔ وہ ما یُن کے آبائی شہر ہانگ ژائو بھی گئے۔

یہ بھی پڑھیے:

گوتم اڈانی: کالج ڈراپ آئوٹ سے دنیا کا دوسرا امیر ترین شخص بننے تک

کسان کے بیٹے کا خواب بنا 371 ارب ڈالر اور 23 لاکھ ملازمین والا وال مارٹ

امریکی صدر کے دورے کی وجہ سے یہ شہر سیاحوں بالخصوص امریکیوں کیلئے پُرکشش بن گیا۔ یہیں ما یُن کی دوستی کچھ امریکی سیاحوں سے ہوئی جنہوں نے اپنی آسانی کیلئے اس کا مختصر نام جیک رکھ دیا جو بعد میں جیک ما بن گیا۔

انگریزی سیکھنے کے ساتھ ساتھ جیک ما نے مزید تعلیم کیلئے دو بار کالج کا انٹری ٹیسٹ دیا لیکن ریاضی میں مایوس کن نمبروں کی وجہ سے دونوں بار ناکام رہے۔ بالآخر تیسری کوشش پر کالج میں داخلہ مل سکا۔

انہوں نے دس بار ہارورڈ سکول آف بزنس میں بھی اپلائی کیا لیکن دسیوں بار مسترد ہو گئے۔

کالج جا کر انگریزی زبان پر عبور کی وجہ سے انہیں امتیازی حیثیت ملی اور وہ ناصرف بیرونی زبانوں کے شعبے کے پانچ قابل ترین طلبا میں شمار کیے گئے بلکہ دو بار طلباء یونین کے چیئرمین بھی بنے۔

1988ء میں گریجوایشن کے بعد روزگار کی تلاش شروع ہوئی تو جیک ما کو 31 مختلف کمپنیوں اور اداروں نے کسی نہ کسی وجہ سے مسترد کر دیا۔

اپنے ایک انٹرویو میں جیک ما نے بتایا تھا کہ جب ان کے شہر میں پہلا کے ایف سی کُھلا تو انہوں نے وہاں بھی نوکری کیلئے درخواست دی لیکن 24 امیدواروں میں سے 23 کو نوکری پر رکھ لیا گیا اور انہیں انکار کر دیا گیا۔

بالآخر 1991ء میں جیک ما کو ہانگ ژو انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرونکس اینڈ انجنئرنگ میں انگریزی پڑھانے کیلئے لیکچررشپ ملی اور وہ 1994ء تک پڑھاتے رہے۔

1994ء میں ہی انہون نے ایک ٹرانسلیشن ایجنسی قائم کی۔ یہ جیک ما کی پہلی کمپنی تھی۔

1995ء میں انہیں ایک سرکاری وفد کے ہمراہ بطور مترجم امریکا جانے کا اتفاق ہوا، جہاں جیک ما کا انٹرنیٹ سے پہلا تعارف ہوا۔

انہوں نے امریکا میں انٹرنیٹ پر شراب کے بارے میں تلاش کی تو کئی کمپنیوں کی تفصیلات مل گئیں لیکن اُن میں ایک بھی چینی کمپنی نہ تھی۔

تجسس اور حیرت کے مارے جیک ما نے چین کے بارے میں عمومی معلومات تلاش کرنا چاہیں تو بھی انٹرنیٹ کا وسیع دامن خالی نظر آیا۔

چین واپس پہنچ کر جیک ما نے اپنے دوستوں کو انٹرنیٹ کے بارے میں بتایا اور انہیں چینی کمپنیوں کی ویب سائٹس بنانے پر آمادہ کر لیا۔

یوں جیک ما نے چائنا ییلو پیجز (China Yellow Pages) نامی کمپنی شروع کی۔ یہ چین کی اولین انٹرنیٹ کمپنیوں میں سے تھی۔

لیکن انٹرنیٹ کے بغیر یہ کمپنی چلتی کیسے؟ دراصل جیک ما اور ان کے دوست کاغذ پر کمپنی کی تفصیلات لکھتے اور ڈاک کے ذریعے اپنے امریکی دوستوں کو سیاٹل (Seattle) بھیج دیتے جو ویب سائٹس بنا کر ان کے سکرین شاٹ ڈاک کے ذریعے جیک ما کو واپس بھیج دیتے اور اصل ویب سائٹ امریکا میں چلتی رہتی۔

ابتدائی طور پر جیک ما نے اپنے شہر کی زیادہ تر کمپنیوں کی ویب سائٹس اسی فارمولے کے تحت بنوائیں۔

چائنا پیجز چل نکلی اور تین سالوں میں جیک ما نے 8 لاکھ ڈالر کما لیے حالانکہ وہ کوڈنگ جانتے تھے نا ہی کمپوٹر یا انٹرنیٹ کے ماہر تھے۔

اس بات کا اعتراف انہوں نے 2010ء میں ایک کانفرنس میں کیا کہ ساری زندگی کوڈز کی ایک لائن لکھی اور نا ہی کبھی کسی گاہک کو کوئی چیز فروخت کی۔

یہ بھی پڑھیے:

حکومتیں پیسہ کیسے بناتی ہیں؟

کسان کا بیٹا جس کی بنائی ایک کار نے دنیا بدل کر رکھ دی

تاہم دور اندیش جیک ما کو انٹرنیٹ کی طاقت کا ادراک ضرور تھا۔ 1999ء میں انہوں نے 18 دوستوں کو ساتھ ملا کر پانچ لاکھ یوآن کے ابتدائی سرمائے سے اپنے اپارٹمنٹ سے علی بابا کا آغاز کیا جو آج 200 ارب ڈالر مالیت کے ساتھ دنیا کی 35ویں بڑی کمپنی ہے۔

علی بابا کا آغاز بزنس ٹو بزنس مارکیٹ پلیس کے طور پر ہوا اور یہ کمپنی اپنی ویب سائٹ کے ذریعے چھوٹے کاروباروں کو آپس میں جوڑنے کیلئے بنائی گئی لیکن بعد ازاں بزنس ٹو کنزیومر ماڈل بھی شروع کر دیا گیا۔

اکتوبر 1999ء اور جنوری 2000ء میں سافٹ بینک اور گولڈمین ساکس (Goldman Sachs) سے علی بابا گروپ کو اڑھائی کروڑ ڈالر کی پہلی فنڈنگ ملی تو اس کا دائرہ کار دیگر ملکوں تک بڑھا دیا گیا۔

2005ء میں امریکی انٹرنیٹ کمپنی یاہو نے ایک ارب ڈالر سرمایہ کاری کے بدلے علی بابا کے 40 فیصد شئیرز خرید لیے۔

2007ء میں علی بابا ڈاٹ کام نے ہانگ کانگ سٹاک مارکیٹ میں اپنا پہلا آئی پی او کیا تو اسے ایک ارب 70 کروڑ ڈالر آمدن ہوئی۔

2003ء میں جیک ما نے تائو بائو (Taobao) کے نام سے کنزیومر ٹو کنزیومر مارکیٹ پلیس متعارف کروائی۔ اس کے ساتھ انہوں نے علی ماما، علی پے اور Lynx کے نام سے بھی کمپنیاں شروع کیں۔

تائو بائو کم وقت میں چین کی مقبول ترین کمپنی بن گئی اور 2007ء تک اس کا مارکیٹ شئیر 67 فیصد تک جا پہنچا۔

دوسری جانب 2012ء تک علی بابا پر آن لائن ادائیگیوں کی تعداد ایک کھرب یوآن سے تجاوز کر گئی۔

10 مئی 2013ء کو جیک ما نے علی بابا کے سی ای او کا عہدہ چھوڑ دیا تاہم گروپ کے ایگزیکٹو چیئرمین کے طور پر کام جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

ستمبر 2014ء میں علی بابا گروپ نے پہلی بار چین سے باہر نیویارک سٹاک ایکسچینج میں آئی پی او سے 21 ارب 80 کروڑ ڈالر کمائے۔ یہ اُس وقت امریکی تاریخ میں کسی انٹرنیٹ کمپنی کا سب سے بڑا آئی پی او تھا جس نے علی بابا کی مارکیٹ ویلیو 168 ارب ڈالر تک پہنچا دی۔

23 اکتوبر 2014ء کو جیک ما نے علی پے کی ری برانڈنگ کرکے اینٹ گروپ (Ant Group) قائم کیا۔ علی پے کے صارفین کی تعداد ڈیڑھ ارب سے تجاوز کر چکی تھی اور جون 2020ء تک اس کی ادائیگیوں کا حجم 118 کھرب یوآن تک پہنچ گیا۔

اکتوبر 2020ء میں اینٹ گروپ نے شنگھائی سٹاک ایکسچینج میں اُس وقت دنیا کی سب سے بڑی آئی پی او کی منصوبہ بندی کی جس سے 34 ارب ڈالر کی آمدن اور 313 ارب ڈالر کی مارکیٹ ویلیو متوقع تھی۔

اس سے قبل سعودی آرامکو نے 29 ارب ڈالر کی آئی پی او کی تھی۔

تاہم آئی پی او سے دو دن قبل شنگھائی سٹاک ایکسچینج نے اینٹ گروپ کو اس پروگرام سے روک دیا۔ رپورٹس کے مطابق اس کی وجہ جیک ما کی جانب سے ایک کانفرنس میں چینی حکمران جماعت پر کی گئی تنقید تھی جبکہ وال سٹریٹ جرنل نے لکھا کہ یہ چینی صدر ژی جن پنگ کی مرضی سے ہوا۔

12 اپریل 2021ء کو وال سٹریٹ جرنل نے لکھا کہ چینی حکومت کے دبائو کے بعد اینٹ گروپ کی تنظیم نو کرکے اسے ایک فنانشل ہولڈنگ کمپنی بنایا جائے گا جس کی نگرانی چین کا مرکزی بینک کرے گا۔ اس سے اینٹ گروپ کی مارکیٹ ویلیو 12 ارب ڈالر گر گئی۔

اینٹ گروپ اتنا بڑا بن چکا تھا کہ چین کی ایک تہائی آبادی قرضوں اور دیگر مالیاتی خدمات کیلئے اسے استعمال کرنے لگی اور چینی بینکوں پر عوام کا انحصار کم ہونے لگا۔ اس کی کہانی پھر کبھی سہی!

آئی پی او ملتوی ہونے کے بعد جیک ما پراسرار طور پر اکتوبر  2020ء سے جنوری 2021ء تک منظر عام سے غائب رہے۔ اس دوران یہ افواہیں بھی اڑیں کہ چینی حکومت نے انہیں قید کر دیا ہے یا پھر وہ چین سے باہر چلے گئے ہیں۔

تاہم جنوری 2021ء میں جیک ما نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے فلاحی خدمات پر توجہ مرکوز کرنے اور دیہی علاقوں کے عوام کی زندگیاں بہتر بنانے کیلئے کام جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

2004ء میں چائنا سینٹرل ٹیلی ویژن نے جیک ما کو اقتصادیات کے شعبے میں سال کے 10 سرفہرست افراد میں سے ایک قرار دیا۔

2005ء میں ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے انہیں “ینگ گلوبل لیڈر” کا خطاب ملا۔

اسی سال امریکا کے فارچون میگزین نے جیک ما کو ایشیا کی 25 طاقتور ترین کاروباری شخصیات میں سے ایک قرار دیا۔

2008ء میں انہوں نے دنیا کے 30 بہترین سی ای اوز میں جگہ بنائی۔

مئی 2009ء میں ٹائم میگزین نے جیک ما کا شمار دنیا کے ایک سو طاقتور ترین افراد میں کیا۔ یہی اعزاز انہیں فوربز نے 2014ء میں دیا۔

2019ء میں اقوام متحدہ نے انہیں سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گولز کیلئے اپنا نمائندہ مقرر کیا۔

کورونا وبا کے دوران فلاحی خدمات پر جولائی 2020ء میں جیک ما کو سعودی عرب نے کنگ عبداللہ ایوارڈ جبکہ اُسی سال پاکستان نے ہلالِ قائدِاعظم سے نوازا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here