گوتم اڈانی: کالج ڈراپ آئوٹ سے دنیا کا دوسرا امیر ترین شخص بننے تک

294
gautam-adani-from-collage-dropout-to-second-richest-man-on-earth

60ء کی دہائی میں اپنے ہم جماعتوں کے ہمراہ ساحلِ سمندر پر جانے والا ایک نوعمر لڑکا بندرگاہ کو دیکھ کر اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے اپنی بندرگاہ بنانے کی ٹھان لی۔

24 جون 1962ء کو ایک متوسط گجراتی بنیا خاندان میں پیدا ہونے والے اس بچے نے اپنی محنت سے یہ سپنا سچ کر دکھایا اور آج ملک کی سب سے بڑی نجی بندرگاہ سمیت 13 بندرگاہیں اور کئی ائیرپورٹس اس کی بزنس ایمپائر کا حصہ ہیں۔

بلوم برگ بلینیئر انڈیکس کے مطابق اسے دنیا کا دوسرا اور ایشیا کا پہلا امیر ترین آدمی قرار دیا گیا ہے۔

اس کے والد ٹیکسٹائل کا چھوٹا موٹا کاروبار کرتے تھے لیکن اسے کاروبار اور پڑھائی میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ اس لیے بی کام (B.Com) کے پہلے ہی سال کالج سے نکال دیا گیا۔

اس نے آبائی شہر کو خیر باد کہہ کر ممبئی کا رُخ کیا اور ہیرا بازار میں مہندرا برادران کے ہاں نوکری کر لی جو ہیروں کی تجارت کرتے تھے۔ یہ نوکری دو تین سال ہی چلی لیکن اس دوران وہ ہیروں کی دیکھ پرکھ سیکھ چکا تھا۔

1981ء میں اس کے بڑے بھائی نے آبائی شہر احمد آباد میں ایک پلاسٹک ریپنگ یونٹ خرید لیا لیکن وہ تنہا اُسے چلا نہیں پا رہے تھے کیونکہ خام مال درآمد کرنا پڑتا تھا۔ بڑے بھائی نے چھوٹے کو ممبئی سے بلایا اور فیکٹری کا انتظام اس کے ہاتھ میں دے دیا۔

چھوٹے بھائی نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پی وی سی گرینولر کی درآمد شروع کر دی جو پلاسٹک مصنوعات بنانے میں بطور خام مال استعمال ہوتا ہے۔

1988ء میں اس نے پلاسٹک یونٹ کو ایکسپورٹ کمپنی بنا دیا جو مختلف قسم کی دھاتوں، زرعی اور ٹیکسٹائل مصنوعات کی تجارت کرتی تھی۔

یہ بھی پڑھیے:

کسان کا بیٹا جس کی بنائی ایک کار نے دنیا بدل کر رکھ دی

غریب سائیکل مکینک کا بیٹا جس نے اربوں ڈالر کی ہونڈا کمپنی قائم کی

یہاں سے گوتم اڈانی کے ارب پتی بننے کا سفر شروع ہوا اور 16 ستمبر 2022ء کو ایمازون کے مالک جیف بیزوز اور فرانسیسی لگژری برانڈ Louis Vuitton کے مالک برنارڈ آرنلٹ کو پیچھے چھوڑ کر وہ دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص بن گئے ہیں۔ ان کے اثاثوں کی مجموعی مالیت تقریباََ 147.8 ارب ڈالر ہے۔

نوے کی دہائی کے آغاز میں انہوں نے اپنی ایکسپورٹ کمپنی کو اڈانی انٹرپرائزز بنا دیا۔ 1994 میں اس کمپنی کو بمبئے سٹاک ایکسچینج میں رجسٹر کیا گیا تو اس کے ایک شیئر کی قیمت 150 روپے تھی لیکن یہ محض شروعات تھی۔

اسی دوران حکومت نے آزاد معیشت کے فروغ کیلئے معاشی اصلاحات کیں تو زمانے کے نبض شناس گوتم اڈانی نے ان سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور اس کی کمپنی ہر گزرتے دن کے ساتھ ترقی کرنے لگی۔

1994ء میں ہی گجرات حکومت نے مندرا پورٹ کے انتظامی امور آئوٹ سورس کرنے کا فیصلہ کیا تو وہ کنٹریکٹ اڈانی گروپ کو مل گیا۔ یوں اپنی بندرگاہ بنانے کا گوتم اڈانی کے بچپن کا خواب حقیقت کا روپ دھارنے لگا۔

اڈانی گروپ کی ملکیت 20 ہزار ایکڑ پر محیط یہ انڈیا کی سب سے بڑی نجی بندرگاہ ہے اور ملک کے تجارتی سامان کا ایک چوتھائی اسی بندرگاہ سے گزرتا ہے۔

اڈانی گروپ نے مندرا پورٹ پر خصوصی اقتصادی زون قائم کیا جس کے اندر کول پاور پلانٹ، نجی ریلوے لائن اور ائیرپورٹ موجود ہے۔ یہ بندرگاہ دنیا میں سب سے زیادہ کوئلہ اَن لوڈ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

آج سات ریاستوں گجرات، مہاراشٹرا، گووا، کیرالا، آندھرا پردیش، تامل ناڈو اور اوڈیسہ میں 13 بندرگاہوں کا انتظام اڈانی گروپ کے پاس ہے۔

1996ء میں اڈانی گروپ نے بجلی کے شعبے میں قدم رکھا۔ آج یہ گروپ انڈیا کا سب سے بڑا تھرمل اور سولر پاور پروڈیوسر ہے۔

1999ء میں اڈانی گروپ نے ایگری بزنس گروپ وِلمار کے ساتھ مل کر خوردنی تیل کے کاروبار میں قدم رکھا اور آج اس کا فارچون آئل انڈیا میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والا خوردنی تیل ہے۔

2005 میں اڈانی گروپ نے فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کے اشتراک سے اناج ذخیرہ کرنے کیلئے بڑے بڑے سائلوز (silos) بنانا شروع کیے۔ آج اڈانی ایگری لاجسٹکس کمپنی فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کا چھ لاکھ میٹرک ٹن اور مدھیہ پردیش کا تین لاکھ میٹرک ٹن اناج ذخیرہ کرتی ہے۔

2006ء میں اڈانی نے آسٹریلیا میں ایبٹ پوائنٹ بندرگاہ اور کارمائیکل کول مائن خریدی جس میں 7.8 ارب ٹن معدنی ذخائر موجود ہیں اور سالانہ 60 ملین ٹن کوئلہ نکل سکتا ہے۔

2015ء میں اڈانی گروپ کو فوجی سازوسامان کی فراہمی کے ٹھیکے بھی ملنے لگے اور کچھ عرصے بعد یہ ایل این جی سیکٹر میں بھی داخل ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیے:

پاکستان کو چھوڑیں، چین امریکا میں بھی اربوں ڈالر کے اثاثوں کا مالک

آن لائن سٹورز کو واپس بھیجے گئے مال کو پھر سے بیچنا، اربوں ڈالر کی انڈسڑی بن گئی

مئی 2020ء میں اڈانی گروپ نے سولر انرجی کارپوریشن آف انڈیا کی چھ ارب ڈالر کی بولی جیتی جس کے تحت 8 ہزار میگاواٹ سولر انرجی کے منصوبے لگائے جانے تھے۔

ستمبر 2020ء میں اڈانی نے بھارت کے دوسرے بڑے ممبئی انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے 74 فیصد شئیرز خرید لیے۔ احمد آباد، لکھنؤ، منگلورو، جے پور، گوہاٹی اور ترواننت پورم کے چھ ہوائی اڈوں کا انتظام 50 سال کیلئے اڈانی گروپ کے پاس ہے۔

اڈانی فائونڈیشن اِس وقت چھ ریاستوں میں فلاحی ادارے چلا رہی ہے، کورونا کے دوران یہ فائونڈیشن ہسپتالوں کو روزانہ 1500 آکسیجن سلنڈر فراہم کرتی رہی جبکہ 80 میٹرک ٹن میڈیکل آکسیجن بھی درآمد کر کے دی۔

جون 2022ء میں گوتم اڈانی نے 7.7 ارب ڈالر سماجی اور فلاحی کاموں پر خرچ کرنے کا اعلان کیا۔

نومبر 2021ء میں بلوم برگ انڈیا اکنامک فورم کے موقع پر بات کرتے ہوئے گوتم اڈانی نے کہا کہ ان کا گروپ گرین انرجی میں 70 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا جس سے سولر پینلز، گرین ہائیڈروجن اور وِنڈ ٹربائن پلانٹس لگانے کیلئے تین بڑی فیکٹریاں قائم کی جائیں گی۔

حال ہی میں اڈانی گروپ نے امبوجا سیمنٹس اور اس کی ذیلی کمپنی اے سی سی کو ساڑھے چھ ارب ڈالر میں خریدا ہے۔

اگست 2022ء میں اڈانی گروپ کے میڈیا آرم اے ایم جی میڈیا نیٹ ورکس لمیٹڈ (AMG Media Networks Limited) نے آر آر پی آر ہولڈنگ (RRPR Holding) کو خریدنے کا اعلان کیا تھا جو این ڈی ٹی وی کے 29 فیصد شئیرز کی مالک تھی۔

اڈانی ایمپائر کا ٹرن اوور 2002ء میں 765 ملین ڈالر تھا جو 2014ء میں 10 ارب ڈالر ہو گیا اور اپریل 2022ء میں 200 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر گیا۔

یاد رکھیں کہ بات ایک بچے کے بندرگاہ بنانے کے خواب سے شروع ہوئی تھی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here