ترقی کرتی معیشت کے باوجود بنگلہ دیش کو آئی ایم ایف کے پاس کیوں جانا پڑا؟

741

27 جولائی کو بنگلہ دیش کے وزیر خزانہ اے ایچ ایم مصطفیٰ کمال نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے آئی ایم ایف سے قرض حاصل کیلئے اس کی سربراہ کرسٹیلینا جارجیوا کے نام خط لکھا ہے۔

بنگلہ دیش کی جانب سے آئی ایم ایف  کو قرض کی درخواست ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اس کے ہمسائے سری لنکا اور پاکستان بدترین معاشی بحران کا شکار ہیں۔

سری لنکا تو مئی میں دیوالیے کا اعلان کر چکا ہے جبکہ پاکستان کی کرنسی اور زرمبادلہ ذخائر کم ترین سطح تک گر چکے ہیں اور حکومت آئی ایم ایف بیل آئوٹ پیکج بحال کروانے کی تگ و دو کر رہی ہے۔

بنگلہ دیش کے وزیر خزاجہ نے یہ تو نہیں بتایا کہ ان کے ملک کو آئی ایم ایف سے کتنا قرض چاہیے تاہم کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ملک کو ادائیگیوں کے توازن اور بجٹ معاونت کیلئے ساڑھے 4 ارب ڈالر کی ضرورت ہے البتہ یہ آئی ایم ایف پر منحصر ہے کہ قرض سکیم کے خدوخال اور حجم کیا ہو گا۔

ایسے میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ جب بنگلہ دیش کی معیشت ترقی کر رہی تھی اور اس کی کارکردگی پاکستان اور انڈیا سے کہیں بہتر قرار دی جا رہی تھی تو آئی ایم ایف کے پاس جانے کی نوبت کیوں آئی؟

سب سے پہلے تو بنگلہ دیش کی معیشت کا موازنہ پاکستان اور بھارت کی معیشت سے کر لینا چاہیے تاکہ بات کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ ورلڈ بینک اور آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ کے ڈیٹا کے مطابق 2019ء میں بنگلہ دیش کی شرح نمو (growth rate) 7.9 فیصد ریکارڈ کی گئی جو 2020ء میں کورونا لاک ڈائون، صنعتی اور کاروباری بندشوں کی وجہ سے 3.4 فیصد تک کم ہو گئی تھی جبکہ 2021ء میں دوبارہ 6.9 فیصد تک جا پہنچی۔

یہ بھی پڑھیے:

سری لنکا معاشی بحران کا شکار کیوں ہوا؟

چین میں رئیل اسٹیٹ بحران، دنیا کیوں پریشان ہے؟

جب شمسی توانائی کی بہتات نے ایک ملک میں بحران پیدا کر دیا

کورونا کے دوران پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سمیت کئی ممالک کی شرح نمو منفی میں ریکارڈ کی گئی تھی۔ 2019ء میں بھارت کی شرح نمو 3.7 فیصد، 2020 میں منفی 6 فیصد اور 2021ء میں 8.9 فیصد رہی۔

پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو 2019ء میں 2.5 فیصد، 2020ء میں منفی 1.3 فیصد اور 2021ء میں تقریباََ 6 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

ان اعدادوشمار میں مذکورہ ممالک کے اپنے اداروں کے جاری کردہ اعدادوشمار سے معمولی فرق ہو سکتا ہے تاہم یہ وہ اعدادوشمار ہیں جو ورلڈ بینک نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کر رکھے ہیں۔

جنوبی ایشیا میں سری لنکا اور پاکستان کے بعد بنگلہ دیش تیسرا ملک ہے جس نے حالیہ عرصے کے دوران آئی ایم ایف کو قرضے کی درخواست دی ہے۔ باقی تمام ممالک کا تعلق افریقہ ہے۔

کورونا وبا کے پیدا کردہ معاشی بحران، عالمی منڈی میں خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے، سپلائی چین کی رکاوٹوں اور کرنسی پر دبائو کے باعث گرتے ہوئے زرمبادلہ ذخائر کی وجہ سے حال ہی میں افریقی ملکوں گھانا، زیمبیا، تنزانیہ اور ایتھوپیا نے آئی ایم ایف کو بیل آئوٹ پیکجز کی درخواستیں دی ہیں۔

بنگلہ دیش کا شمار کچھ عرصے سے تیزی سے ترقی کرتی عالمی معیشتوں کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ ورلڈ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال بنگلہ دیش کی معیشت کا مجموعی سائز 416 ارب ڈالر تک جا پہنچا اور اس نے پاکستان کو پیچھے چھوڑ دیا۔ پاکستانی معیشت کا سائز 346 ارب ڈالر رہا جبکہ بھارتی معیشت کا حجم 3 کھرب 17 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔

فی کس آمدن کے حوالے سے بنگلہ دیش بھارت اور پاکستان سے آگے ہے۔ پاکستان میں فی کس آمدن 1537 ڈالر، بھارت میں 2277 ڈالر اور بنگلہ دیش میں 2500 ڈالر فی کس ہے۔

بنگلہ دیش نے آئی ایم ایف کو ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (resilience and sustainability facility) کیلئے درخواست دی ہے۔ یہ آئی ایم ایف کی ایسی سکیم ہے جس کے تحت اُن ترقی پذیر یا غریب ملکوں کو قرض دیا جاتا ہے جن کی معیشت کو موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید خطرات لاحق ہوں۔ مذکورہ سکیم کے تحت بنگلہ دیش کو زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ ارب ڈالر مل سکتے ہیں۔

تاہم ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش ایک مکمل قرض پروگرام لینے کا خواہاں ہے۔ ایسا پروگرام عام طور پر زرمبادلہ ذخائر کو سہارا دینے، بجٹ خسارہ پورا کرنے یا ادائیگیوں کے توازن کیلئے لیا جاتا ہے۔ جیسے پاکستان کو زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ کرنے اور بجٹ معاونت کیلئے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (EFF) کے تحت بیل آئوٹ پیکج ملا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: 

کیا دنیا غذائی بحران کے دہانے پر ہے؟

غریب ممالک ترقی یافتہ ملکوں کا کوڑا دان کیوں بن رہے ہیں؟

بنگلہ دیش کو بھی زرمبادلہ ذخائر میں کمی اور درآمدات کی ادائیگیوں کیلئے ڈالرز کی ضرورت ہے۔ یہ بات نہیں کہ بنگلہ دیش کے زرمبادلہ ذخائر پاکستان کی طرح کم ترین سطح پر آ گئے ہیں بلکہ اس کے پاس اب بھی 39 ارب ڈالر موجود ہیں جو تقریباََ چھ ماہ کی درآمدات کیلئے کافی ہیں۔ ایک سال قبل اس کے زرمبادلہ ذخائر کا حجم 45.5 ارب ڈالر تھا۔

بنگلہ دیشی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ وہ قرض لینے کیلئے آئی ایم ایف کی معتدل شرائط پر ضرور غور کریں گے لیکن کڑی شرائط کی صورت میں قرضہ نہیں لیں گے۔ اس کے برعکس پاکستان کو کڑی سی کڑی شرائط پر بھی سر تسلیمِ خم کرنا پڑا ہے۔

بنگلہ دیش کے سینٹرل بینک نے ڈالر بچانے کیلئے لگژری آئٹمز کی امپورٹ پر پابندی لگا دی ہے۔ پاکستان نے بھی تقریباََ 80 آئٹمز کی امپورٹ دو ماہ سے روک رکھی ہے۔ لیکن امپورٹ بین جیسے اقدامات محدود مدت کیلئے تو ریلیف دے سکتے ہیں طویل مدت کیلئے نہیں۔

قرض لینے اور درآمدات محدود کرنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ بنگلہ دیش کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ 17 ارب 20 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو گزشتہ سال پونے 3 ارب ڈالر تھا۔

کرنٹ اکائونٹ خسارہ بڑھنے کی بھی دو وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ کہ ایک سال کے دوران بنگلہ دیش کی برآمدات میں 34 فیصد اضافہ ہوا لیکن اس کے مقابلے میں درآمدات 39 فیصد بڑھی ہیں۔ یعنی جتنے ڈالر ملک میں آئے اس سے کہیں زیادہ ڈالر باہر چلے گئے۔

بنگلہ دیش سب سے زیادہ زرمبادلہ یورپ اور امریکا کو گارمنٹس برآمد کرکے کماتا ہے لیکن عالمی سطح پر مہنگائی کی لہر نے امریکی اور یورپی صارفین کی قوت خرید بھی کم کر دی ہے جس کا لامحالہ اثر بنگلہ دیش کی گارمنٹس ایکسپورٹس پر بھی پڑا ہے۔

سپلائی چین کے مسائل، خام مال اور توانائی کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے بھی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔

دوسری وجہ کرنسی کی گراوٹ ہے۔ بنگلہ دیشی ٹکا گزشتہ تین ماہ کے دوران ڈالر کے مقابلے میں 20 فیصد گر چکا ہے اور ایک ڈالر 95 ٹکا کے برابر پہنچ چکا ہے۔ بہرحال کرنسی کی گراوٹ اس وقت تقریباََ ہر ملک کا مسئلہ ہے۔

لیکن ان تمام عوامل نے مل کر بنگلہ دیش کے زرمبادلہ ذخائر پر دبائو بنا رکھا ہے جنہیں برقرار رکھنے کیلئے حکومت کو آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑا۔

ایک سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے بنگلہ دیش بھی سری لنکا اور پاکستان کی طرح معاشی بحران کا شکار ہو چکا ہو۔ یعنی بقول ندیم افضل چن!

مختاریا گل ودھ گئی اے حکومت دسدی نئیں پئی۔

اپوزیشن جماعت بنگلا دیش نیشنل پارٹی کا نقطہ نظر تو یہی ہے کہ ملک معاشی بحران کا شکار ہو چکا ہے لیکن حکومت اس کی تردید کرتے ہوئے کہتی ہے کہ ادائیگیوں کا توازن نیگیٹو زون میں ضرور ہے اور ایکسچینج ریٹ کو بھی مستحکم کرنے کی ضرورت ہے لیکن اسے معاشی بحران کا نام نہیں دیا جا سکتا اور نا ہی بنگلہ دیش کی حالت سری لنکا اور پاکستان جیسی پتلی ہے۔

تاہم صورت حال اگر بہت خراب نہیں تو بہت اچھی بھی نہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ملک میں 12 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے۔ ڈیزل اور گیس پر چلنے والے کئی پاور پلانٹس بند پڑے ہیں۔ حکومت جہاں عوام سے بجلی بچانے کی اپیلیں کرتی دکھائی دیتی ہے وہی ملک بھر کی ہزاروں مساجد کو بھی ائیرکنڈیشنرز کا استعمال محدود کرنے کا کہا گیا ہے۔

عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے جنوبی ایشیائی ملکوں میں مہنگائی کی نا ختم ہونے والی لہر کو جنم دیا ہے کیونکہ ان ملکوں کا انحصار درآمدی فیول پر ہے۔ بنگلہ دیش بھی اس سائیکل سے خاصا متاثر ہوا ہے۔ مہنگا فیول درآمد کرنے کی وجہ سے بھی اس کی ایکسپورٹ انڈسٹری، کرنسی اور زرمبادلہ ذخائر پر کافی دبائو پڑا ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ ماہ سیلاب نے بھی معیشت کو تقریباََ 10 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب سری لنکا میں مہنگائی کی شرح تقریباِِ 60 فیصد اور پاکستان میں 30 فیصد کے لگ بھگ ہے بنگلہ دیش میں مہنگائی 7.56 فیصد ہے، اس کے باوجود بعض اشیائے خورونوش کی قیمتیں 50 فیصد بڑھ چکی ہیں۔

ان تمام مشکلات کے باوجود بنگلہ دیش کی مجموعی معاشی صورت حال پاکستان جیسی نازک نہیں اور سری لنکا سے تو دور دور تک کوئی موازنہ نہیں۔

سری لنکا دیوالیہ ہونے کے بعد آئی ایم ایف سمیت عالمی ڈونرز سے قرضوں کی اپیلیں کر رہا ہے اور پاکستان مستقبل میں کسی ممکنہ ڈیفالٹ سے بچنے کی تگ و دو کر رہا ہے لیکن بنگلہ دیش کو ایسا کوئی خطرہ لاحق نہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here