کیا دبئی ٹیکنالوجی کا اگلا عالمی مرکز بننے جا رہا ہے؟

515
How did dubai get so rich

رئیل اسٹیٹ، شِپنگ اور سیاحت کے بعد اب دبئی دنیا بھر کے ٹیک انٹرپرینیورز اور سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن رہا ہے۔

وبا پر قابو پانے کیلئے حکومتی اقدامات، کم ٹیکس اور کاروباری آسانیوں کی وجہ سے دبئی میں معاشی سرگرمیاں ایک بار پھر عروج پر ہیں۔

چونکہ دبئی کو دنیا بھر کی باصلاحیت اور ہنرمند افرادی قوت بھی بآسانی میسر ہے اس لیے ان تمام عوامل نے اسے سٹارٹ اپس، کرپٹو کرنسی اور ٹیک کمپنیوں کیلئے پُرکشش بنا دیا ہے۔

2020ء میں مینا ریجن (مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ) کے سٹارٹ اپس میں مجموعی طور پر 654 ملین ڈالر غیرملکی سرمایہ کاری آئی تاہم 2021ء میں یہ سرمایہ کاری چار گنا بڑھ کر 2.8 ارب ڈالر تک جا پہنچی جس میں سے تقریباََ آدھی سرمایہ کاری متحدہ عرب امارات کی ٹیک کمپنیوں اور سٹارٹ اپس میں کی گئی۔

اس دوران متحدہ عرب امارات میں جس کمپنی نے سب سے زیادہ سرمایہ کاری کی وہ مینا ریجن میں کرپٹو کرنسی کی سب سے بڑی کمپنی بٹ اوسس (BitOasis) ہے۔ اس کی سی ای او اور شریک بانی اولا ڈوڈن (Ola Doudin) کے مطابق بٹ اوسس کرپٹو اثاثے خریدنے، بیچنے اور ٹریڈنگ میں معاونت فراہم کرتی ہے۔

گزشتہ چند سالوں کے دوران عالمی مالیاتی افق پر کرپٹو کرنسی کے ظہور کے بعد بٹ اوسس جیسی بے شمار کمپنیاں قائم ہوئی ہیں، ان میں سے اکثر نے امارات میں کافی سرمایہ کاری کی ہے۔

اِن کمپنیوں کی نظر میں دبئی ایک مالیاتی مرکز کے طور پر ایشیا، یورپ اور امریکا کے کئی اہم شہروں سے آگے ہے اور عالمی سطح پر کرپٹو کرنسی اور ٹیکنالوجی کا مرکز بننے کی جانب گامزن ہے۔

عموماََ یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ دبئی کی معیشت کا انحصار تیل پر ہے۔ یہ پورا سچ نہیں۔ تیل کے زیادہ تر ذخائر ہمسایہ ریاست ابوظہبی میں ہیں اور دبئی کی ملکیت بہت کم ذخائر ہیں۔ اس لیے دبئی کو تیل سے ہٹ کر اپنی معیشت کو رئیل اسٹیٹ، جہاز رانی اور سیاحت پر استوار کرکے متنوع بنانا پڑا۔

ماضی میں مچھیروں کی بستی کہلانے والا یہ شہر اب دنیا کا اہم ترین تجارتی، کاروباری اور سیاحتی مرکز بن چکا ہے۔ یہاں مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی جبلِ علی پورٹ، دنیا کا سب سے بڑا جافزا اکنامک فری زون اور دنیا کا مصروف ترین کارگو ائیرپورٹ ہے جسے مشرق کا گیٹ وے بھی کہا جاتا ہے۔

رواں صدی کے آغاز سے دبئی رئیل اسٹیٹ، بزنس اور سیاحت میں ورلڈ لیڈر بن کر ابھرا ہے۔ پام جمیرا اور برج الخلیفہ جیسے منصوبوں نے دبئی کو سیاحوں کی جنت بنا دیا ہے۔

لیکن یہ سب کچھ اتنا آسان نہیں تھا۔ 2008ء کے معاشی بحران کی وجہ سے دبئی میں رئیل اسٹیٹ کی قیمتیں 50 فیصد گر گئیں تھیں۔

کچھ حلقے دبئی کی ابھرتی ہوئی ٹیک مارکیٹ کے حوالے سے بھی ایسے ہی خدشات کا اظہار کرتے ہیں بالخصوص کرپٹو کے حوالے سے۔ کیونکہ کرپٹو کرنسی گزشتہ چند ماہ سے کافی اتار چڑھائو کا شکار ہے۔ مثلاََ بٹ کوائن 65 ہزار امریکی ڈالرز کی بلند ترین سطح تک پہنچا اور پھر چند ہی ماہ کے اندر 33 ہزار ڈالر تک گر گیا۔

یہ بھی پڑھیے:

دبئی اتنا امیر کیسے ہوا؟

تیل کے بغیر خلیجی عرب ملکوں کا مستقبل کیا ہو گا؟

کچھ ملکوں میں کرپٹو کرنسی کے حوالے سے کافی سخت قوانین نافذ ہیں اور کہیں کہیں پابندیاں بھی عائد ہیں لیکن دبئی میں حکومت کسی قسم کے قوانین نافذ کرنے سے قبل کرپٹو مارکیٹ کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔ ظاہر ہے اس سے وابستہ خدشات اور خطرات کو بھی مدِنظر رکھا جائے گا۔

گزشتہ سال دبئی نے بلاک چین اور کرپٹو بزنس کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے کیلئے کرپٹو ویلی وینچر کیپٹل نامی سوئس انویسمنٹ کمپنی کے اشتراک سے ڈی ایم سی سی کرپٹو سینٹر کھولا۔ یہ کرپٹو سینٹر دبئی ملٹی کموڈٹیز فری زون میں کھولا گیا ہے جہاں کمپنیوں کو عالمی معیار کے انفراسٹرکچر سمیت ایک ہی چھت تلے تمام سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

دبئی کے ارد گرد مختلف صنعتوں اور شعبوں کیلئے 40 چھوٹے بڑے اکنامک فری زونز بنائے گئے ہیں جہاں کمپنیوں کو دیگر بے شمار فوائد کے ساتھ ساتھ سو فیصد ملکیتی حقوق، ٹیکس چھوٹ اور وَن سٹاپ ویزہ جیسی سہولیات میسر ہیں۔

دبئی اپنے اندر وہ تمام خواص رکھتا ہے جو کسی عالمی سطح کے ٹیکنالوجی مرکز میں ہونے چاہیے۔ اس لیے اب یہ شہر مشرقِ وسطیٰ یا عربوں کا ہی نہیں بلکہ دنیا کا ٹیکنالوجی مرکز بننے کی جانب گامزن ہے۔

یہی وجہ ہے کہ امریکا کی سیلیکون ویلی سے لے کر سنگاپور اور بھارت کے ٹیکنالوجی مراکز تک ہر جگہ سے تخلیقی ذہنوں اور باصلاحیت افراد کا رجحان اب دبئی کی جانب بڑھ رہا ہے۔

حتیٰ کہ کرپٹو کرنسی کی سب سے بڑی ایکسچینج کمپنی Binance اپنا مشرقِ وسطیٰ کا ہیڈکوارٹر دبئی میں قائم کر رہی ہے۔ گو کہ کئی ممالک کے ریگولیٹری ادارے Binance کو کچھ اچھی نظر سے نہیں دیکھتے، پھر بھی یو اے ای نے اپنے دروازے اس کمپنی کیلئے کھول دیے ہیں۔ ابوظہبی اور دبئی میں اس کمپنی کے دفاتر پہلے سے ہی قائم ہیں اور حال ہی میں دبئی ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں بلاک چین اور کرپٹو کرنسی پر کمپنی تین روزہ تقریب بھی منعقد کر چکی ہے۔

متحدہ عرب امارات میں اب تک تین یونی کارن (Unicorn) یعنی ایک ارب ڈالر کے ٹیک سٹارٹ اپس قائم ہو چکے ہیں اور یہ تینوں دبئی میں ہیں۔ یہ تعداد 2031ء تک 20 تک پہنچائی جائے گی۔

زیادہ سے زیادہ انٹرپرینیورز اور ٹیک انویسٹرز کو متوجہ کرنے کیلئے متحدہ عرب امارات ایک لاکھ گولڈن ویزے جاری کر رہا ہے، اس ویزے کے حامل افراد دیگر کئی سہولتوں کے علاوہ یو اے ای میں دس سال تک قیام کر سکیں گے۔

سٹارٹ اپس کی فنڈنگ ممکن بنانے کیلئے قومی سطح پر سمال بزنس پروگرام شروع کیا گیا ہے تاکہ چھوٹے سٹارٹ اپ بڑی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک کرکے اپنی مصنوعات عالمی مارکیٹ تک لے جا سکیں۔

اِن کاروبار دوست پالیسیوں کی وجہ سے دنیا بھر سے نوجوان ٹیک انٹرپرینیورز کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل مارکیٹ میں قدم جمانے کیلئے دبئی کا رخ کر رہے ہیں۔

کرپٹو ٹریڈنگ کرنے والی ایک کمپنی کے سی ای او کا کہنا ہے کہ کیمن آئی لینڈز، مالٹا اور سنگاپور بھی کرپٹو کرنسی کا کاروبار کرنے کیلئے بہترین جگہیں ہیں لیکن اَب دبئی نمبر وَن ہے۔

کرپٹو کرنسی کی وجہ سے جہاں بہت سے لوگوں کی قمست بدلی، وہیں رواں سال کے کرپٹو کریش کے باعث اکثر سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان بھی اٹھانا پڑا اور کئی تو زندگی بھر کی جمع پونجی لوٹا بیٹھے۔ اس انڈسٹری سے وابستہ ہزاروں افراد بے روزگار بھی ہو گئے۔

کرپٹو کے علاوہ بھی کئی ایسے سٹارٹ اپس ہیں جو کاروبار دوست ماحول کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص دبئی کا رخ کر رہے ہیں۔

ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس پورے خطے میں سرکاری سطح پر ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جو دنیا کے نوجوان انٹرپرینیورز کو متاثر کر رہے ہیں جیسے کہ سعودی عرب کا سماجی اور معاشی اصلاحات پر مبنی ویژن 2030ء۔ ان اقدامات کا بنیادی مقصد اس خطے کی معیشت کو تیل کی بجائے ٹیکنالوجی پر استوار کرنا اور عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنا ہے۔

امارات میں ہنرمند افراد کو طویل المدتی ویزے جاری کرنے کے علاوہ اب غیرملکیوں کو یہ سہولت دی گئی ہے کہ وہ اپنے کاروبار یا کمپنی کی مکمل ملکیت اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔ پہلے غیر ملکی سرمایہ کار مقامی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک کرتے تھے یا پھر کسی مقامی شخص کو اکثریتی شئیر ہولڈر بناتے تھے۔

اس کے علاوہ بین الاقوامی روایات سے ہم آہنگی کیلئے سماجی سطح پر بھی کچھ اصلاحات لائی گئی ہیں جیسا کہ شراب نوشی کو جرائم کی فہرست سے خارج کرنا اور غیر شادی شدہ مرد و زن کو اکٹھا رہنے کی اجازت دینا۔

ایسا منصوبہ بھی زیرغور ہے جس کے تحت ریٹائرڈ غیرملکیوں کو بھی امارات میں رہنے کی اجازت دی جا سکے۔

لیکن کیا یہ سب کچھ عالمی سطح کا ٹیکنالوجی مرکز بننے کیلئے کافی ہو گا؟

ابھی تک تو مشرقِ وسطیٰ میں متحدہ عرب امارات اور خاص طور پر دبئی سٹارٹ اپس اور ٹیک کمپنیوں کو کاروبار دوست اور ٹیکس فری ماحول فراہم کرنے اور مستقبل میں عالمی سطح کا ٹیکنالوجی مرکز بننے کے حوالے سے اپنی پوزیشن مضبوط کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ دیکھیے مستقبل میں کیا ہوتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here