غریب ممالک ترقی یافتہ ملکوں کا کوڑا دان کیوں بن رہے ہیں؟

499
e waste

کیا آپ نے کبھی نیا کمپیوٹر خریدا ہے؟ آپ لاہور میں ہال روڈ یا حفیظ سینٹر جائیں تو کئی دکانوں پر کمپیوٹر، لیپ ٹاپس، ان کے پارٹس نظر آئیں گے۔ اکثر لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہو گا کہ زیادہ تر کمپیوٹر، لیپ ٹاپس اور ان کے پارٹس استعمال شدہ ہوتے ہیں اور دکاندار انہیں برانڈڈ کہہ کر آپ سے اچھے خاصے پیسے بٹور لیتے ہیں۔

لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس اور ان کے پارٹس آتے کہاں سے ہیں؟

دراصل یہ امیر ملکوں کا کچرا ہوتا ہے جو ہمارے جیسے غریب ملکوں میں برآمد کر دیا جاتا ہے۔ اسے اگر تھوڑا مہذب انداز میں بولنا چاہیں تو الیکٹرانک ویسٹ (e-waste) کہہ لیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تحفظِ ماحولیات کے مطابق گھروں اور دفاتر میں استعمال ہونے والے برقی آلات جو اپنی طبعی عمر پوری کر چکے ہوں یا خراب ہونے کی وجہ سے ان کا استعمال متروک ہو چکا ہو  وہ الیکٹرانک ویسٹ کی کیٹیگری میں شمار ہوتے ہیں۔ جیسے کہ استعمال شدہ  کمپیوٹرز، لیپ  ٹاپس، موبائل فونز، بیٹریاں، ٹی وی سیٹ، ریفریجریٹر، کیمرے وغیرہ۔

یہی استعمال شدہ برقی آلات کنٹینر بھر بھر کر پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر اور غریب ملکوں میں برآمد کر دیے جاتے ہیں۔ جہاں لیبر سستی ہوتی ہے۔ یہاں اس امپورٹڈ ویسٹ کی چھانٹی ہوتی ہے اور اس میں سے کام کی چیزیں الگ کر کے دوبارہ قابلِ استعمال بنا لی جاتی ہیں۔ باقی کسی لینڈ فل سائٹ پر پھینک دی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: 

سپر ایپ آخر ہے کیا؟

چین میں رئیل اسٹیٹ بحران، دنیا کیوں پریشان ہے؟

آن لائن سٹورز کو واپس بھیجے گئے مال کو پھر سے بیچنا، اربوں ڈالر کی انڈسڑی بن گئی

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ تقریباََ 50 ملین ٹن سے زیادہ الیکٹرانک ویسٹ پیدا ہوتا ہے  جس کا مطلب ہے کہ زمین کی کل آبادی میں سے ہر شخص کے حصے میں کم از کم پانچ کلو کچرا آ سکتا ہے۔

گلوبل ای ویسٹ سٹیٹکس پارٹنرشپ کے مطابق 2019ء میں دنیا میں 53.6 ملین ٹن  الیکٹرانک ویسٹ پیدا ہوا جس میں سے  محض 17.4 فیصد ہی مناسب طور پر ری سائیکل  کیا گیا،باقی برآمد کر دیا گیا۔

ایک اور رپورٹ کے مطابق چین اس میدان میں سر فہرست ہے ۔ چین  نے 2019ء میں 10 ملین میٹرک ٹن  الیکٹرانک ویسٹ پیدا کیا۔ اس کے بعد امریکا نے 7 ملین ٹن، انڈیا نے 3 ملین ٹن ، جاپان نے 2.5 ملین ٹن اور برازیل نے 2.1 ملین ٹن الیکٹرانک ویسٹ پیدا کیا۔

ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں پیش کردہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر سالانہ پیدا ہونے والے 50 ملین ٹن الیکٹرانک ویسٹ کی مالیت  تقریباََ 63 ارب ڈالر بنتی ہے جو 120 ملکوں کے جی ڈی پی سے بھی زیادہ ہے۔دنیا کا سات فیصد سونا الیکٹرانک کچرے میں موجود ہے۔

اگر ہر سال پیدا ہونے والے برقی کچرے کا وزن کر لیا جائے تو یہ دنیا میں موجود تمام ہوائی جہازوں سے زیادہ وزنی ہو گا۔

رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر اضافے کا رجحان یوں ہی جاری رہا اور دنیا نے کوئی دیرپا حل نہ نکالا تو 2050ء تک عالمی سطح پر الیکٹرانک ویسٹ 120 ملین ٹن تک پہنچ جائے گا ۔

اتنی بڑی مقدار میں پیدا  ہونے والے الیکٹرانک ویسٹ میں سے 20 فیصد سے بھی کم ری سائیکل کیا جاتا ہے جبکہ باقی  80 فیصد برآمد کر دیا جاتا ہے۔

عام طور پر ترقی یافتہ صنعتی ملکوں میں ماحولیات کے حوالے سے قوانین کافی سخت ہیں۔ پھر الیکٹرانک  ڈیوائسز  کی تلفی یا ری سائیکلنگ ایک مہنگا عمل ہے۔اس لیے 80 فیصد الیکٹرانک ویسٹ چین، بھارت،  پاکستان اور نائجیریا جیسے ملکوں کو برآمد کر دیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

کیا دنیا غذائی بحران کے دہانے پر ہے؟

سری لنکا معاشی بحران کا شکار کیوں ہوا؟

پانچ معاشی بحران جنہوں دنیا کو ہلا کر رکھ دیا

پاکستان ای ویسٹ ایکسپورٹ کیلئے سستا ترین ملک سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے آسٹریلیا ، امریکا ا ور کئی یورپی ممالک اپنا زیادہ تر ای ویسٹ پاکستان کو برآمد کر دیتے ہیں جو کہ باسل کنونشن کی صریح خلاف ورزی ہے۔

پاکستان سالانہ ایک لاکھ  ٹن سے زائد ای ویسٹ درآمد کرتا ہے اور اس کو ری سائیکل یا مکمل تلف کرنے کیلئے آج تک کوئی قانون نہیں بنایا جا  سکا۔

اس کاروبار سے وابستہ پاکستانی تاجر عام طور پر کمپوٹرز، لیپ ٹاپس ، فونز  اور ان کی بیٹریاں سیکنڈ ہینڈ کے ٹیگ کے ساتھ درآمد کرتے ہیں تاکہ امپورٹ ڈیوٹی کم سے کم لاگو ہو۔

درآمد کرنے کے بعد یہ  سارا سامان ری سائیکلنگ کیلئے بھیج دیا جاتا ہے جہاں محض دو فیصد چیزیں ہی دوبارہ استعمال کے قابل نکلتی ہیں ۔ باقی سب کچھ سکریپ کا مال ہوتا ہے جسے توڑ کر کارآمد دھاتیں الگ کر لی جاتی ہیں اور پلاسٹک الگ کر لیا جاتا ہے۔

یہ سا را عمل کسی محفوظ انڈسٹری میں نہیں بلکہ نہایت غیرمحفوظ طریقے سے سرانجام دیا جاتا ہے اور اکثر خواتین اور بچوں سے سکریپ کی چھانٹی کروائی جاتی ہے جو ان کی زندگیوں کو براہ راست خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

لاہور کی ہال روڈ پر ناکارہ موبائل فون، بیٹریاں، الیکٹرانکس کی اشیاء، چارجر، استعمال شدہ کمپیوٹر، کی بورڈ اور دیگرسامان کھلے عام فروخت ہو رہا ہے جبکہ بند روڈ اور داروغہ والا میں ایسے کئی گودام اور کارخانے موجود ہیں جہاں الیکٹرانک کچرے کو جلا کر اس میں سے قیمتی دھاتیں الگ کر لی جاتی ہیں۔ اس عمل کیلئے پانی اور مختلف کیمیکلز بھی استعمال کیے جاتے ہیں اور بعد ازاں یہی زہریلا پانی سیوریج کے ذریعے دریائے راوی میں پہنچا دیا جاتا ہے۔

یہی صورت حال کراچی کی ہے جس کی بندرگاہ کے راستے ای ویسٹ کے کنٹینر سنگاپور اور ہانگ کانگ سے پاکستان پہنچتے ہیں۔

پنجاب انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی  کے مطابق الیکٹرانک ویسٹ کی مقدار یوں تو محض 1.4 فیصد ہے لیکن یہ بھی اتنی زیادہ ہے کہ اس میں شامل لیڈ اور دیگر خطرناک دھاتیں ہماری زمین کو 70 فیصد متاثر کر سکتی ہیں۔

فون کی ایک بیٹری چھ لاکھ لیٹر پانی آلودہ کرسکتی ہے جبکہ ایک کمپیوٹر میں 3.8پونڈ لیڈ فاسفورس، کیڈمیم اور مرکری جیسے عناصر پائے جاتے ہیں جو ماحولیات اور انسانی زندگی کیلئے نہایت مہلک ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک ای ویسٹ اس لیے بھی اپنے ملکوں میں نہیں رکھ رہے تاکہ ماحولیات کو منفی اثرات سے بچایا جاسکے اور انسانی زندگیوں کو خطرے میں نہ ڈالا جائے۔

لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ پاکستان جیسے ملکوں میں یہ ایک بڑے کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے وہ بھی ماحولیات اور انسانی زندگیوں کی قیمت پر ۔ ہمارے قانون سازوں کو سیاسی دھینگا مشتی سے فرصت ملے تو شائد کوئی ذی شعور اس جانب بھی توجہ کرے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here