کوبرا ایفیکٹ معاشی پالیسی سازی میں کس خدشے کا نام ہے؟

415
what is cobra effect

سن دو ہزار سولہ میں پاکستان کے شہر پشاور میں چوہوں نے یلغار کر دی، تیس تیس سینٹی میٹر وجود کے چوہے خوراک اور کپڑے کے گوداموں میں گھس گئے، حتیٰ کہ لوگوں کے گھروں کی بنیادوں کو نقصان پہنچانے لگے۔

اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق پشاور انتظامیہ نے چوہوں سے نجات کیلئے چوہا مار مہم شروع کر دی اور ایک چوہا مارنے پر 25 روپے انعام رکھ دیا، شہر کے کچھ علاقوں میں تو انعامی رقم 300 روپے تک جا پہنچی۔

یہاں یہ تو معلوم نہیں کہ انعامی رقم کا سن کر پشاور میں لوگوں نے چوہوں کی افزائش شروع کر دی ہو، لیکن ماہرین معاشیات نے اس میں کوبرا ایفیکٹ  کا خدشہ ظاہر کیا۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ کوبرا ایفیکٹ ہوتا کیا ہے؟

دراصل کوبرا ایفیکٹ اُن غیر ارادی نتائج کو کہتے ہیں جو اُس وقت پیدا ہو سکتے ہیں جب تنظیمیں یا حکومتیں کسی سماجی مسئلے کے سدھار کیلئے انعامات یا مراعات کی پیشکش کرتی ہیں تاکہ لوگوں کو اُس مسئلے کے حل کی ترغیب دی جائے، لیکن وہی مسئلہ کبھی کبھی حل ہونے کی بجائے مزید شدت اختیار کر جاتا ہے

یعنی ’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔۔۔۔!‘

اسی کو کوبرا ایفیکٹ کا نام دیا گیا ہے۔

آپ کو شائد یہ جان کر حیرت ہو گی کہ انگریزی کی اس اصطلاح کا جنم برصغیر میں ہی ہوا۔

ایک زمانے میں سانپ بھی ہندوستان کے تخت کے محافظ تھے، سن تیرہ سو اٹھانوے (1398ء) میں امیر تیمور دہلی پر حملہ آور ہوا تو شہر کے مضافات میں اس کے لشکر کا پہلا سامنا لاکھوں کروڑوں سانپوں سے ہوا، اس کے سینکڑوں سپاہی سانپوں کے ڈسنے سے مارے گئے۔

سن اٹھارہ سو ستاون (1857ء) کی جنگ آزادی کے بعد انگریز دہلی میں تخت نشین ہوئے تو گورے لشکر کو بھی اُسی افتاد کا سامنا کرنا پڑا جس کا سامنا تیموری لشکر کو ہوا تھا۔ آئے روز کوئی نہ کوئی گورا سپاہی دہلی مضافات میں کوبرا کا نشانہ بن جاتا۔ سانپ انگریز سرکار کیلئے درد سر بنے تو دہلی کے اسسٹنٹ کمشنر نے شہر کے مضافات میں اعلان کروا دیا کہ ’’سانپ ماریں اور انعام پائیں‘‘۔

یہ بھی پڑھیے:

پانچ معاشی بحران جنہوں دنیا کو ہلا کر رکھ دیا

وبا کے دوران ہر 30 گھنٹے میں ایک ارب پتی بنا

اب لوگ کوبرا مارتے، اس کی لاش ڈنڈے پر لٹکاتے اور اے سی کے دفتر کے سامنے کھڑے ہو جاتے اور انعام پاتے، یہ سلسلہ باقاعدہ روزگار میں بدل گیا، نتیجتاََ دہلی میں سانپ کم ہونے لگے، اس صورت حال نے لوگوں کو پریشان کر دیا، کیونکہ سانپ کُشی اُن کا روزگار بن چکا تھا، لوگوں نے اس صورت حال کا دلچسپ حل یہ نکالا کہ گھروں میں سانپ پالنے لگے، یہ سانپ جب ’سرکاری سائز‘ کے مطابق بڑے ہو جاتے تو انہیں مار کر اے سی کے دفتر سے انعام حاصل کر لیا جاتا۔ چند روز میں کاروبار دوبارہ چمک اٹھا۔

مگر یہ راز زیادہ دنوں تک راز نہ رہا اور انگریز سرکار نے انعامی سکیم ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا، دہلی کے مضافات میں منادی کرا دی گئی کہ’’کل سے سانپ مارنے والے کسی شخص کو انعام نہیں ملے گا‘‘

یہ اعلان سانپوں کا کاروبار  کرنے والوں کیلئے آفت ناگہانی ثابت ہوا، اس وقت تک اُن لوگوں کے قبضے میں لاکھوں سانپ تھے۔ انہوں نے وہ تمام سانپ کھلے چھوڑ دیے، یہ لاکھوں سانپ دہلی اور اس کے مضافات میں پھیل گئے، یوں دہلی میں انسان کم اور سانپ زیادہ ہو گئے، انگریزوں نے تحقیق کی، پتہ چلا کہ یہ سانپ انعامی سکیم سے پہلے کے سانپوں سے دس گنا زیادہ ہیں، اس صورت حال سے ایک اصطلاح نے جنم لیا جسے’’کوبرا ایفیکٹ‘‘ کہتے ہیں۔

ایک زمانے میں ویتنام فرانسیسی کالونی تھا، سن انیس سو دو (1902) میں فرانسیسی حکومت نے ہنوئی شہر کی تعمیر نو شروع کی تو معلوم ہوا کہ شہر کی سیوریج لائنز چوہوں کی آماجگاہ بن چکی ہیں، چوہوں کی افزائش اس قدر بڑھی کہ چوہے ٹوائلٹس کے راستے گھروں میں گھسنے لگے، شہر میں طاعون سے اموات ہونے لگیں، فرانسیسی حکمرانوں نے چوہے مارنے پر انعام رکھ دیا۔

اب ہنوئی کے باسیوں کو نیا روزگار ہاتھ آ گیا، لوگ روزانہ سینکڑوں چوہے مارتے ، ان کی دُمیں کاٹتے اور فرانسیسیوں کے سامنے پیش کر دیتے، تاریخی دستاویزات کے مطابق ایک دن میں 20 ہزار چوہے بھی مارے گئے۔

لیکن پھر ایک دن ایسا ہوا کہ ایک فرانسیسی افسر شہر کے مضافات میں نکلا تو اس نے چوہے پال فارم دیکھا، لوگ یہاں چوہوں کی افزائش کر کے انہیں موٹا تازہ کرتے، اور دُم کاٹ کر سٹی ہال میں سرکاری کارندوں کے سامنے پیش کر کے انعام حاصل کر لیتے۔ یعنی ایک برائی کو ختم کرنے کی کوشش میں نئی برائی نے جنم لے لیا۔

ایسی ہی ایک مثال امریکا کی بھی ہے جس کی ریاست الاباما کا شہر فورٹ بیننگ (Fort Benning) یوں تو فوج کی ٹریننگ کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے لیکن 2007ء میں یہاں کی انتظامیہ کو جنگلی سوروں نے ناک میں دم کر لیا، یہ سور دھڑا دھڑ فصلیں اجاڑنے لگے، انتظامیہ نے کچھ ریٹائرڈ فوجیوں کو سور مارنے پر مامور کر دیا، لیکن مسئلہ حل نہیں ہوا اور صورت حال قابو سے باہر ہونے لگی۔ یہاں کی شہری انتظامیہ نے Pig Eradication Program کا اعلان کر دیا، سور کی ایک دُم لانے والے کو 40 ڈالر دیے جاتے۔

انتظامیہ کو امید تھی کہ وہ کچھ ہی عرصے میں سوروں کی آبادی پر قابو پا لیں گے، پروگرام کے ایک سال کے اندر ایک ہزار سے زیادہ سور مار دیے گئے اور کم و بیش اتنے ہی رہ گئے، لیکن بعد ازاں مقامی یونیورسٹی کے کچھ محقیقین نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ سوروں کی تعداد کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ گئی، اور لوگ اردگرد کے شہروں سے مردہ سوروں کی دُمیں لا کر انعام پانے لگے۔

سن دو ہزار آٹھ (2008ء) میں امریکا میں اوکلینڈ پولیس نے جرائم پیشہ افراد کی اسلحہ تک رسائی کم کرنے کیلئے گن بائی بیک (Gun Buyback Program) شروع کیا، کوئی بھی شخص پولیس کو اسلحہ واپس کرنے پر اس کی قیمت اور 250 ڈالر انعام حاصل کر سکتا تھا۔

لیکن یہاں بھی کوبرا ایفیکٹ ہوا، وہ کچھ یوں کہ اسلحہ ڈیلرز نے لوگوں سے اسلحہ خرید کر پولیس کو واپس کرنا شروع کر دیا اور پولیس سے ملنے والے معاوضہ سے مزید اسلحہ خرید لیا۔

جن لوگوں کے پاس پہلے کم بور کے ہتھیار تھے انہوں نے وہ پولیس کو واپس کرکے اڑھائی سو ڈالر میں نئے ہتھیار خرید لیے۔

ایک وقت پر پولیس کے پاس اتنے لوگ اسلحہ واپس کرنے جا پہنچے کہ محکمہ پولیس کو انہیں ادا کرنے کیلئے 17 لاکھ ڈالر قرضہ لینا پڑا۔

جرمن ماہر معاشیات ہارسٹ سی برٹ (Horst Siebert) کے مطابق کوبرا ایفیکٹ ایک مخصوص سوچ کی حدود کو اجاگر کرتا ہے جس کے تحت پالیسی ساز کسی سسٹم کی پیچیدگی یا اس کے پیچھے کارفرما انسانی محرکات کو سمجھے بغیر پالیسی بنا دیتے ہیں لیکن اس کے نتائج بعض اوقات بالکل منفی اور اکثر خطرناک بھی ہوتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here