ہالینڈ پھولوں کی سپر پاور کیسے بنا؟

1011
tulib garden

آپ نے بالی ووڈ فلم ’’سلسلہ‘‘ کا یہ گانا تو ضرور سنا ہو گا  ’’دیکھا اِک خواب تو یہ سلسلے ہوئے‘‘۔

امیتابھ بچن اور ریکھا پر فلمایا جانے والا یہ گانا ہالینڈ میں دنیا کے سب سے بڑے ٹیولپ گارڈن میں عکس بند کیا گیا تھا لیکن اس ویڈیو میں ہم آپ کو سلسلہ فلم یا اس کے گانے کے حوالے سے نہیں بلکہ یہ بتائیں گے کہ کس طرح ایک چھوٹا سا ملک پھولوں کی عالمی تجارت پر راج کر رہا ہے۔

ہالینڈ پھول، آرائشی پودے اور ان کے بیج برآمد کرکے سالانہ تقریباََ 10 ارب ڈالر کماتا ہے۔

ہالینڈ کا 60 فیصد رقبہ ہی زراعت کے قابل ہے لیکن صرف فلوریکلچر کو ہی دیکھا جائے تو یہ ہالینڈ کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن چکی ہے اور جی ڈی پی میں اس کا شئیر 10 فیصد ہے۔

مارکیٹ واچ کی گلوبل فلاورز اینڈ اورنامینٹل پلانٹس ریسرچ رپورٹ کے مطابق 2018ء میں پھولوں کی عالمی مارکیٹ کا حجم 42.4  ارب ڈالر تھا جو 2025ء تک 64.9 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے جس کا مطلب ہے کہ 2019ء سے 2025ء تک اس شعبے کی سالانہ شرح نمو  چھ فیصد سے زائد رہنے کی توقع ہے۔

2020ء میں دنیا کو 49.9 فیصد پھول ہالینڈ نے برآمد کیے جن کی مالیت 4 ارب ڈالر سے زائد تھی۔ بقیہ 50.1 فیصد پھول 14 مختلف ملکوں نے برآمد کیے۔

شائد آپ کو لگتا ہو کہ دنیا کی بہترین ایگری کلچرل ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی وجہ سے ہالینڈ پھولوں کی تجارت میں پہلے نمبر پر ہے۔

بالکل، ایک وجہ یہ بھی ہے۔ لیکن یہ ملک 16ویں صدی سے پھولوں کی عالمی تجارت میں سرفہرست ہے۔

1590ء میں ڈچ بائیولوجسٹ کرولس کلیوزیس (Corolus Clusius) نے پہلی بار ٹیولپ اُگائے تھے جب وہ 1587ء میں قائم ہونے والے دنیا کے قدیم ترین بوٹینیکل گارڈن کے سربراہ بنے۔

چند ہی سالوں میں کرولس کلیوزیس  کے بوٹینیکل گارڈن میں اگائے گئے ٹیولپ یورپ بھر میں قیمتی ترین کموڈٹی بن  گئے  اور یورپی اشرافیہ نے  اسے سٹیٹس سمبل کے طور پر اپنا لیا  ۔

اس  کا ایک ایک بلب 3 ہزار سے 4 ہزار گلڈر (guilder) میں فروخت ہونے لگا ۔  گلڈر  16ویں صدی سے سن 2002ء میں یورو متعارف کرائے جانے تک ہالینڈ کی کرنسی تھی۔

جبکہ اُس زمانے میں دنیا کی ترقی یافتہ سمجھی جانے والی ڈچ معیشت میں ایک بہترین کاریگر پورے سال کی محنت کے بعد محض 300 گلڈر کما پاتا تھا۔

1634ء تک ٹیولپ بلب کی قیمتیں بلند ترین سطح  پر جا پہنچیں ۔ حتیٰ کہ سٹارک مارکیٹ میں کاروبار کرنے والوں نے بھی اس میں دلچسپی لینا شروع کر دی اور دھڑا دھڑ سرمایہ لگانے لگے۔ لیکن فروری 1637ء میں بلب کی قیمتیں اچانک گرنا شروع ہو گئیں۔

اس پیریڈ کو معاشیات کی زبان میں’’ٹیولپ مانیا‘‘ (Tulib Mania) کا نام دیا گیا جس سے ڈچ سٹاک مارکیٹ کریش کر گئی۔اسے دنیا کا پہلا اکنامک ببل (economic bubble) بھی کہا جاتا ہے۔

اکنامک ببل ایک ایسی صورت حال کو کہتے ہیں جب کسی چیز کی قیمتیں اچانک غیرمعمولی حد تک بڑھ جاتی ہیں حالانکہ ان کے پیچھے کسی قسم کا معاشی بحران کارفرما نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیے:

حکومتیں پیسہ کیسے بناتی ہیں؟

ملک دیوالیہ کیوں ہوتے ہیں اور اس کی کیا قیمت چکانا پڑتی ہے؟

ٹیولپ مانیا تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔ اُس وقت ٹیولپ کی بلند ترین قیمتوں کی وجہ سے ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی نے سب سے زیادہ منافع کمایا اور صرف ٹیولپ اور اس کے بلب کی تجارت سے ہی اس کا منافع 400 فیصد بڑھ گیاْ۔ 18ویں صدی تک ٹیولپ ہالینڈ کی چوتھی بڑی برآمدی پروڈکٹ بن چکا تھا۔

آج 200 سال بعد ہالینڈ میں ہارٹیکلچر سیکٹر مکمل طور پر جدید ٹیکنالوجی پر منتقل ہو چکا ہے۔

پھولوں، بیجوں اور آرائشی پودوں کی برآمدات 10 ارب ڈالر سالانہ کے لگ بھگ ہیں اور ہارٹیکلچر ڈچ اکانومی میں سالانہ 10 فیصد کی حصہ دار ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق 2020ء میں ہالینڈ کی پھولوں اور آرائشی پودوں کی کل برآمدات 10.9 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں جو 2019ء کے مقابلے میں 2.86 فیصد زیادہ تھیں اور ہالینڈ کی کل ایکسپورٹس کا 2 فیصد تھیں۔

فلورا ڈیلی (Flora Daily) کی رپورٹ کے مطابق اس میں سے صرف پھولوں کی برآمدات 6.2 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔

ہالینڈ پھولوں کی سب سے زیادہ یعنی 28 فیصد ایکسپورٹس جرمنی کو بھیجتا ہے جو 2020ء میں 3.14 ارب ڈالر تھیں۔ اس کے بعد برطانیہ  کو 1.32 ارب ڈالر، فرانس کو 1.03 ارب ڈالر اور بیلجئیم کو 602 ملین ڈالر کی ایکسپورٹس کی گئیں۔

اسی پر بس نہیں ،ہالینڈ کینیا، اٹلی اور سپین سے سالانہ اڑھائی ارب ڈالر کے پھول اور پودے درآمد کرتا ہے انہیں مناسب پراسسنگ کرنے کے بعد دوبارہ برآمد کر دیتا ہے اور اس سے بھی سالانہ اربوں ڈالر کماتا ہے۔

1590ء میں ہالینڈ میں پہلی بار اگائے جانے والے ٹیولپ کی آج 3 ہزار رجسٹرڈ اقسام کاشت کی جا رہی ہیں۔

ہالینڈ ٹیولپ کے سالانہ 2 ارب پھول برآمد کرتا ہے جبکہ سالانہ چار ارب 20 کروڑ ٹیولپ بلب پیدا کرتا ہے جن میں سے آدھے برآمد کر دیے جاتے ہیں۔

ہالینڈ کی فلورل ایمپائر راتوں رات اس مقام تک نہیں پہنچی بلکہ اس کے پیچھے پانچ صدیوں کی محنت اور مہارت کھڑی ہے۔

1950ء میں ڈچ حکومت نے کاشت کاروں کو زیادہ سے زیادہ ہارٹی کلچر کی جانب راغب کرنے کیلئے سبسڈیز دیں تاکہ پھولوں کے کاشت کار نئی ٹیکنالوجیز پر سرمایہ کاری کر سکیں اور معیشت کی ترقی میں کردار ادا کرنے کے قابل ہو سکیں۔

حکومت نے پھولوں کے فارمز کو زرعی یونیورسٹیوں اور تحقیقاتی مراکز کے ساتھ جوڑ دیا تاکہ وہ جدید تحقیق سے فائدہ اٹھا کر کم از کم رقبے میں زیادہ پیداوار کی حامل اقسام کاشت کر سکیں۔

پانچ صدیوں کی مہارت اور حکومتی سرپرستی کی بدولت آج ہالینڈ پھولوں کی عالمی مارکیٹ کا سب سے بڑا سپلائر مانا جاتا ہے اور کولمبیا، ایکواڈور اور کینیا سمیت کئی یورپی ممالک سے مقابلے کے باوجود سب سے بڑے ایکسپورٹر کے طور پر اپنی پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here