’Profiting from Pain‘: جب دوسرے کے درد نے کئی لوگوں کو ارب پتی بنا دیا

483

کیا کوئی انسان صرف 30 گھنٹے  میں ارب پتی بن سکتا ہے؟ یقیناََ آپ کا جواب ناں میں ہو گا کہ 30 گھنٹوں میں  ایسا کون سا قارون کا خزانہ ہاتھ لگ سکتا ہے جو  انسان کو ارب پتی بنا دے۔

لیکن ایسا ہو چکا ہے اور وہ بھی کورونا وبا کے دوران۔ جب دنیا کی آدھی سے زائد آبادی کو روٹیوں کے لالے پڑے ہوئے تھے۔

تاہم اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ایک شخص نے کام شروع کیا اور 30 گھنٹےمیں ارب پتی بن گیا۔

وبا کے محض دو سالوں کے دوران دنیا بھر کے ارب پتیوں کی دولت میں اتنا اضافہ ہوا ہے جتنا گزشتہ 23 سالوں میں مجموعی طور پر ہوا تھا۔

2020ء سے لے کر 2022ء تک ان ارب پتی افراد کی دولت عالمی جی ڈی پی کے 14 فیصد کے برابر ہو گئی جو سن 2000ء میں عالمی جی ڈی پی کے 4.4 فیصد کے برابر تھی، یعنی مجموعی طور پر تین گنا اضافہ۔

یہ ہمارا دعویٰ نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر غربت کے خاتمے کیلئے کام کرنے والی تنظیم آکسفیم  انٹرنیشنل (Oxfam International)نے اپنی حالیہ رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے جو 22 مئی سے 26 مئی تک ڈیووس میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں پیش کی گئی ۔

اس رپورٹ کا عنوان ہے پرافٹنگ فرام پین  (Profiting From Pain)۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران عالمی وبا اور معاشی بحران کے باوجود 573 نئے افراد ارب پتیوں کی فہرست کا حصہ بنے۔ دو سالوں میں 17 ہزار 520 گھنٹے ہوتے ہیں۔ 573 نئے ارب پتیوں کو اگر دو سالوں کے گھنٹوں سے تقسیم کیا جائے تو جواب آئے گا  تیس گھنٹے۔ یعنی ہر 30 گھنٹے میں ایک شخص ارب پتی بنا ۔

یہ بھی پڑھیے:

سری لنکا معاشی بحران کا شکار کیوں ہوا؟

سنگا پور اس قدر امیر ملک کیسے بنا؟

ان نئے ارب پتیوں میں سے زیادہ تر کا تعلق فوڈ، فارماسیوٹیکل اور انرجی سیکٹرز سے ہے کیونکہ وبا کے دنوں میں ان تینوں شعبوں کو چھوڑ کر باقی ہر قسم کا کاروبار بند تھا۔

لیکن آکسفیم کی رپورٹ کا بھیانک  پہلو یہ ہے کہ وبا کے دو سالوں کے دوران ہونے والی مہنگائی  اور اشیائے خورونوش کی آسمان کو چھوتی قیمتوں کی وجہ سے رواں سال کے اختتام تک 26 کروڑ 30 لاکھ افراد انتہائی غربت کا شکار ہو جائیں گے۔ یعنی ہر 33 گھنٹے بعد تقریباََ 10 لاکھ افراد غریب ہو جائیں گے۔ ورلڈ بینک 1.90 ڈالر فی دِن سے کم  آمدن والے کو انتہائی غربت کے خانے میں رکھتا ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں  گفتگو کرتے ہوئے آکسفیم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر  گیبریلا بُچر (Gabriela Bucher) کا کہنا تھا کہ غربت کے خاتمے کیلئے گزشتہ دہائیوں میں کی گئی کوششیں اَب رائیگاں جا تی نظر آ رہی ہیں کیونکہ دنیا بھر میں کروڑوں افراد سرتوڑ مہنگائی کی وجہ سے بمشکل زندہ رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’ارب پتیوں کی دولت میں اس لیے اضافہ نہیں ہو ا کہ وہ زیادہ محنت کرنے لگے ہیں بلکہ مزدور اَب بھی کم تنخواہ اور بدترین حالات میں زیادہ محنت کرنے پر مجبور ہیں لیکن ارب پتی صرف سسٹم کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، انہوں نے قوانین  اور ورکرز کے حقوق کی خلاف ورزیاں کرکے حکومتوں کی ملی بھگت سے نجکاری اور اجارہ داری کے نتیجے میں عالمی دولت کے ایک بڑے حصے پر قبضہ جما رکھا ہے ۔اس کے برعکس کروڑوں افراد کو محض اپنی بقا کی فکر لاحق ہے۔مشرقی افریقہ میں ممکنہ طور پر ہر منٹ میں ایک شخص بھوک سے مر رہا ہے۔یہ عدم مساوات انسانیت کی قاتل ثابت ہو رہی ہے۔‘‘

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کووڈ19 کے دوران انرجی، خوراک اور فارما سیکٹر سے وابستہ کارپوریشنز کا منافع کئی گنا بڑھا جبکہ ورکرز کی تنخواہوں میں بالکل اضافہ نہیں ہوا۔ تینوں سیکٹرز سے وابستہ اَرب پتیوں کی دولت میں دو سالوں کے دوران مجموعی طور پر 453 اَرب ڈالر کا اضافہ ہوا جس کا مطلب ہے ہر دو روز میں ایک ارب ڈالر کا اضافہ۔

انرجی سیکٹر کی پانچ سب سے بڑی کمپنیاں برٹش پٹرولیم، شیل، ٹوٹل انرجیز، ایگزون موبل اور شیورون نے ہر سیکنڈ میں 2 ہزار 600 ڈالر منافع کمایا۔

اسی طرح فوڈ کارپوریشنز نے دو سالوں میں 62 نئے ارب پتی پیدا کیے ۔ امریکا کی کارگل (Cargill) فیملی تین دیگر کمپنیوں سے مل کر دنیا کی 70 فیصد زرعی  مارکیٹ کنٹرول کرتی ہے۔اس اکیلی فیملی میں 12 ارب پتی ہیں جبکہ وبا سے قبل 8 تھے۔

دوسری جانب سری لنکا سے لے کر سوڈان تک خوراک کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے نے سماجی اور سیاسی عدم استحکام پیدا کر رکھا ہے۔ کم آمدن والے 60 فیصد ممالک قرضوں کی عدم  واپسی کے باعث دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑے ہیں جبکہ  ان ملکوں میں خوراک اور صحت کے شعبے کورونا کی وجہ سے پہلے ہی خستہ حال ہو چکے ہیں۔

فارما انڈسٹری میں دو سالوں کے دوران 40 نئے ارب پتی پیدا ہوئے۔ موڈرنا اور فائزر جیسی بڑی کمپنیاں کورونا ویکسین پر اپنی اجارہ داری  کی وجہ سے ہر سیکنڈ میں ایک ہزار ڈالر کا منافع کما رہی ہیں۔

کہنے کو تو ان کمپنیوں کو انسانیت کا بہت درد ہے اور وہ ویکسین سستے داموں فراہم کر رہی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے حکومتوں کو جینرک پروڈکشن پرائس سے 24 گنا زیادہ قیمت پر ویکسین فروخت کی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ایشیا اور افریقہ کے غریب ممالک میں 87 فیصد عوام کو ویکسین نہیں لگائی جا سکی۔

آج دنیا میں 2 ہزار 668 ارب پتی افراد موجود ہیں جن کی مجموعی دولت 12 کھرب 70 کروڑ ڈالر ہے۔ 2020ء  اور 2021ء میں اَرب پتیوں کی تعداد میں 573 افراد کا اضافہ ہوا ہے جبکہ اُن کی دولت میں 3 کھرب 78 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔

دنیا کے 10 امیر ترین افراد کی دولت عالمی  آبادی کے 40 فیصد یعنی تین ارب 10 کروڑ انسانوں سے زیادہ ہےجبکہ 20 ارب پتیوں کی دولت پورے افریقہ کے جی ڈی پی سے زیادہ ہے۔

آکسفیم کی سربراہ کے بقول  ’’امراء نے انسانوں کے درد اور تکلیف سے بھی مالیاتی مفاد حاصل کیا۔ کچھ ارب پتی ویکسین تک لوگوں کی رسائی روک کر مزید امیر ہو گئے اور  کچھ خوراک اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ذریعے استحصال کر کے۔ بے تحاشہ دولت اور انتہائی غربت ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ معاشی نظام بالکل ایسے کام کر رہا ہے جس طرح امیر اور طاقتور نے اسے اپنی سہولت کیلئے ڈیزائن کیا تھا۔‘‘

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here