پبلک ٹرانسپورٹ کو الیکٹرک بنانے کی دوڑ میں کون آگے؟

351

لاہور میں پہلی الیکٹرک بس آزمائشی سفر شروع کر چکی ہے اور پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی کا کہنا ہے کہ  کامیاب آزمائش کے بعد لاہور میں 100 الیکٹرک بسیں چلائی جائیں گی۔

اگر ایسا ہو گیا تو یہ لاہور کیلئے کسی نعمت سے کم نہ ہو گا کیونکہ اس شہر کا موجودہ ٹرانسپورٹ سسٹم جہاں سرکاری خزانے پر سالانہ اربوں ڈالر کی سبسڈی کا بوجھ ڈال رہا ہے وہاں بے تحاشہ آلودگی کا سبب بھی بن رہا ہے ۔ کئی مہینے تو لاہور کی فضا سموگ سے ڈھکی رہتی ہے اور شہریوں کیلئے سانس لینا دوبھر ہو جاتا ہے۔

اس ویڈیو میں ہم ماحول دوست ٹرانسپورٹ بالخصوص الیکٹرک بسوں کے حوالے سے بات کریں گے کہ کیسے مختلف ممالک کامیابی سے پٹرولیم فیول چھوڑ کر الیکٹرک بسوں پر منتقل ہو رہے ہیں اور پاکستان اس حوالے سے کیا کچھ کر سکتا ہے۔

یو ایس انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کے مطابق دنیا میں گرین ہائوس گیسوں کا ایک تہائی  یعنی تقریباََ 27 فیصد ٹرانسپورٹ سیکٹر سے خارج ہو کر ماحول کو آلودہ کر رہا ہے کیونکہ یہ سیکٹر میں 90 فیصد پٹرولیم فیول استعمال کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ دنیا تیزی سے الیکٹرک وہیکلز پر منتقل ہو رہی ہے تاکہ کاربن کے کم اخراج والی ٹرانسپورٹ کے ذریعے ماحولیات کو تباہی سے بچایا جا سکے۔

بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق 2011ء کے بعد دنیا میں الیکٹرک وہیکلز کی تعداد بڑھنے سے تیل کی کھپت میں تین فیصد کمی آئی ہے اور اس میں تین چوتھائی حصہ الیکٹرک بسوں نے ڈالا ہے۔

عوامی آمدورفت کیلئے الیکٹرک بسیں چلانے کے حوالے سے چین پہلے نمبر پر ہے۔اس وقت دنیا کی 99 فیصد الیکٹرک بسیں چین میں چل رہی ہیں جن کی تعداد 4 لاکھ سے زیادہ ہے۔

الیکٹرک بسیں چین کا سالانہ 2 لاکھ 70 ہزار بیرل ڈیزل بچاتی ہیں ۔مقامی مینوفیکچرنگ کی وجہ سے 2021ء میں چین کی الیکٹرک بس مارکیٹ 29 ارب ڈالر مالیت کی تھی جسے 2027ء تک 118 ارب ڈالر تک لے جانے کی منصوبہ بندی ہے۔

ایشیا میں بھارت  بھی پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے الیکٹرک بسوں کی تعداد بڑھا ہے۔حال ہی میں بھارت کی مرکزی حکومت نے 64 چھوٹے بڑے شہروں  کیلئے ساڑھے 5 ہزار الیکٹرک بسیں چلائی ہیں جن میں 150 دہلی میں چلائی گئی ہیں جبکہ سب سے زیادہ 300 بسیں پونے میں پہلے ہی چلائی جا رہی ہیں۔

جاپان 2015ء سے الیکٹرک بسیں چلا رہا ہے اور 2050 تک ٹرانسپورٹ سیکٹر کو مکمل طور پر کاربن فری کرنا چاہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

پٹرول و ڈیزل کے بعد خوردنی تیل کا عالمی بحران بھی سر پر منڈلا رہا ہے

سلک روٹ ری کنیکٹ پالیسی: پاکستان سے ترکی اور آذربائیجان کیلئے بذریعہ سڑک تجارتی سامان بھجوانے کا آغاز

گوکہ امریکا اس حوالے سے کافی پیچھے ہے لیکن  کچھ ریاستوں نے باقاعدہ پالیسی سازی کی ہے۔ جیسا کہ ریاست کیلی فورنیا نے انوویٹو کلین ٹرانزٹ رُول (Innovative Clean Transit Rule) بنایا ہے جس کے تحت 2023ء کے بعد خریدی جانے والی تمام بسیں الیکٹرک ہوں گی جبکہ 2040ء تک ریاست میں چلنے والی 12 ہزار بسوں کو الیکٹرک بسوں کے ساتھ تبدیل کر دیا جائے گا۔

یورپی یونین نے 2019ء میں قانون سازی کی تھی کہ 2025ء تک خریدی جانے والی ایک چوتھائی بسیں الیکٹرک ہوں گی جبکہ اس تناسب کو 2030ء میں ایک تہائی تک لے جایا جائے گا۔ اس کےعلاوہ  40 یورپی شہروں نے سی فورٹی ڈیکلریشن پر دستخط کرکے 2025ء تک مکمل طور پر الیکٹرک بسیں چلانے پر اتفاق کیا۔

اس حوالے سے نیدرلینڈزقابل تقلید ہے جس نے 2020ء تک ٹرانسپورٹ سیکٹر کو سوفیصد بجلی پر منتقل کر دیا تھا۔جرمنی بڑے شہروں میں الیکٹرک بسیں چلا رہا ہے جبکہ برطانوی حکومت 2037ء تک لندن کو مکمل الیکٹرک ٹرانسپورٹ  پر لے جانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اس کے باوجود امریکا  اور یورپ چین سے پیچھے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ چین الیکٹرک بس مینوفیکچرنگ میں بھی  ورلڈ لیڈر ہے اور چینی کمپنیاں انکائی (Ankai)، فوٹون، شین ڈونگ، یوٹونگ، زونگ ٹونگ اور بی وائے ڈی الیکٹرک بسیں بنانے میں یورپی اور فرانسیسی کمپنیوں والوو، سولارس اور ڈیملر سے آگے ہیں۔

الیکٹرک بسوں کی عالمی مارکیٹ کودیکھیں تو 2015ء میں دنیا میں ساڑھے 4 لاکھ الیکٹرک بسیں چل رہی تھیں جن کی تعداد 2019ء  میں 21 لاکھ ہو گئی جو 2025ء تک 85 لاکھ اور 2040 تک 5 کروڑ 40 لاکھ ہو جائے گی۔

واضح رہے کہ پاکستان کا ٹرانسپورٹ سیکٹر سو فیصد کاربن فیول پر چلتا ہے جس نے شہروں کی فضا کو ناقابلِ برداشت حد تک آلودہ کر دیا ہے۔ اس سے ناصرف درجہ حرارت بڑھا ہے بلکہ سردیوں سے قبل چھوٹے بڑے شہر سموگ کی دبیز چادر اوڑھ لیتے ہیں اور سانس لینا دوبھر ہو جاتا ہے۔

ماہرین کے نزدیک اِن مسائل کا واحد حل پٹرول اور ڈیزل پر انحصار کم کرکے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دینا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے ماحولیاتی آلودگی میں کمی کے لیے 2030 تک کم از کم 30 فیصد گاڑیاں بجلی پر چلانے کا اعلان کر رکھا ہے لیکن اس سمت میں عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

اپریل 2021ء میں سندھ حکومت نے کراچی میں پہلی الیکٹرک بس چلائی اور مزید 100 ایسی بسیں چلانے کا عندیہ دیا تھا تاہم معلوم نہیں وہ منصوبہ کہاں تک پہنچا ہے۔

پاکستان میں حالیہ سالوں کے دوران کچھ کمپنیوں کی جانب سے الیکٹرک کاریں تو  متعارف کروائی گئی ہیں اور چیدہ چیدہ چارجنگ پوائنٹس بھی لگائے گئے ہیں لیکن اس جانب ابھی لمبا سفر طے کرنا باقی ہے۔

لاہور میں پبلک ٹرانسپورٹ دیگر شہروں کے مقابلے میں کافی بہتر ہے۔ میٹرو بس ، اورنج لائن ٹرین اور سپیڈو بسیں آپ کو 20 سے 40 روپے میں شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچا دیتی ہیں لیکن یہ پروجیکٹس سالانہ اربوں ڈالر کی سبسڈی کھا رہے ہیں اور اعتراض کیا جاتا ہے کہ پنجاب کے باقی شہروں کا بجٹ بھی لاہوریوں کیلئے سستی ٹرانسپورٹ پر خرچ کر دیا جاتا ہے۔

حال ہی میں یہ خبریں بھی آئیں کہ اورنج ٹرین کیلئے لیے گئے قرض کی قسطیں 19 ارب روپے سے بڑھ کر 25 ارب روپے تک جا پہنچی ہیں۔

ایک بات تو واضح ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ ترقی یافتہ ملکوں میں بھی حکومتوں کی مدد سے چلتی ہے کیونکہ اگر اس کا سارا بوجھ شہریوں پر ڈال دیا جائے تو شائد یہ کسی کیلئے بھی سستی نہ رہے۔

اگر لاہور میں میٹرو روٹس پر چلنے والی 200 سپیڈو بسوں کو الیکٹرک بسوں سے تبدیل کر دیا جائے تو فیول کی مد میں سالانہ کروڑوں روپے کی بچت ہو گی۔

الیکٹرک بس عام طور پر ایک بار چارج ہوکر 150سے 200 کلومیٹر چل سکتی ہے۔ اس لیے ان بسوں کیلئے چارجنگ پوائنٹس بھی کم تعداد میں قائم کرنا پڑیں گے کیونکہ کوئی بھی سپیڈو بس اندورن شہر 20 سے 25 کلومیٹر سے زیادہ سفر نہیں کرتی ۔

اسی طرح نجی شعبے کے ساتھ بات کی جا سکتی ہے کہ وہ بھی اپنے فلیٹ (fleet) کو بتدریج الیکٹرک میں تبدیل کریں ۔یہی ماڈل تمام چھوٹے بڑے شہروں میں اپنایا جا سکتا ہے۔

تاہم پاکستان کو الیکٹرک بسیں چلانے کیلئے انفراسٹرکچر کی مد میں خطیر سرمایہ کاری کی ضرورت ہو گی جو کہ اکیلی حکومت کے بس کی بات نہیں ۔

الیکٹرک بسوں کا سب سے بڑا خرچہ مہنگی بیٹریوں کی مد میں ہوتا ہے اور پاکستان کو یہ بیٹریاں چین سے امپورٹ کرنا پڑیں گی یا پھر اندرون ملک تیاری شروع کرنا پڑے گی ۔ورنہ بیٹری امپورٹ بل بھی پٹرولیم امپورٹ بل کے برابر جا سکتا ہے۔

پھر موٹرویز اور ہائی ویز پر مناسب فاصلے پر چارجنگ سٹیشنز قائم کرنا ہوں گے تاکہ دوران سفر بسیں بند نہ ہوں۔ اسی طرح شہروں کے درمیان رابطہ سڑکیں بین الاقوامی معیار کی ہونی چاہیں تاکہ الیکٹرک بسیں اپنی مکمل کارکردگی کے ساتھ چل سکیں۔

ان اقدامات سے پاکستان ناصرف سالانہ اربوں ڈالر کا پٹرولیم امپورٹ بل بچا سکتا ہے بلکہ ماحولیات پر بھی مثبت اثرات پڑیں گے ۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here