سلک روٹ ری کنیکٹ پالیسی: پاکستان سے ترکی اور آذربائیجان کیلئے بذریعہ سڑک تجارتی سامان بھجوانے کا آغاز

بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ (ٹی آئی آر) کے تحت نیشنل لاجسٹکس سیل کی پانچ گاڑیاں چالیس فٹ پر مشتمل کنٹینرز لے کر استنبول اور باکو کیلئے روانہ، ہفتوں کا سفر دنوں میں طے ہو گا

814

اسلام آباد: نیشنل لاجسٹکس سیل (این ایل سی) نے ترکی اور آذربائیجان کے لئے بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ (ٹی آئی آر) کے تحت تجارتی سامان بھجوانے کا آغاز کر دیا۔

گاڑیوں کا پہلا قافلہ بروز جمعہ کراچی سے استنبول اور باکو کے لئے روانہ کیا گیا، یہ تاریخی پیش رفت بین الاقوامی تجارت کے فروغ کے لئے سنگ میل ثابت کی حیثیت رکھتی ہے۔

ٹی آئی آر کے تحت تجارتی سامان کو بین الاقوامی سرحدوں سے ترجیحی بنیادوں پر بلا تاخیر گزارنے کی سہولت میسر ہوتی ہے، این ایل سی آفیشل ٹی آئی آر آپریٹر کی حیثیت سے تاجر برادری کو گودام سے گودام تک سامان کی ترسیل کے حوالے سے خدمات فراہم کرے گا جس سے درآمدی و برآمدی سامان کی بروقت مال برداری کو یقینی بنایا جائے گا۔

ٹی آئی آر کے تحت دونوں ممالک کے لئے قافلے کی روانگی کے سلسلے میں کراچی میں باقاعدہ تقریب منعقد کی گئی جس میں وفاقی سیکرٹری کامرس محمد صالح احمد فاروقی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ تجارتی تنظیموں، درآمد و برآمدکنندگان اور دیگر سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔

این ایل سی کی پانچ گاڑیاں چالیس فٹ پر مشتمل کنٹینروں کو لے کر ترکی اور آذربائیجان کے لئے روانہ کی گئیں۔ تین گاڑیاں ایران سے ہوتی ہوئی گربولاک سرحدی ٹرمینل سے ترکی میں داخل ہوکر آخری منزل استنبول پہنچیں گی۔

کراچی سے استنبول کا فاصلہ آٹھ سے دس دنوں میں طے کیا جائے گا۔ بذریعہ سمند ر استنبول تک برآمدی سامان پہنچانے میں تین سے چار ہفتے لگتے ہیں۔

دو مزید گاڑیاں آذربائیجان بھجوائی گئی ہی جو آسترا سرحدی ٹرمینل سے ہوتے ہوئی آذربائیجان کے دارالخلافہ باکو پہنچیں گی۔ یہ گاڑیاں مذکورہ فاصلہ سات سے آٹھ دنوں میں طے کریں گی۔

ٹی آئی آر کے تحت چلائی جانے والی یہ سروس خطے میں منڈیوں تک رسائی میں انقلابی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔ اس سروس سے کم لاگت میں تیز ترین ترسیل ممکن ہو سکے گی۔

خطے کے دوسرے ممالک کے ساتھ زمینی راستوں کی تجارت سے معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں بے پناہ اضافہ متوقع ہے، این ایل سی مستقبل میں دوسری وسطی ایشیائی ریاستوں اور چین تک بذریعہ روڈ مال برداری کا ارادہ رکھتا ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرازاق دائود نے کہا ہے کہ وہ نیشنل لاجسٹکس سیل ترکی اور آزر بائیجان کیلئے ٹی آئی آر آپریشنز شروع کرنے پر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔

ایک بیان میں مشیر تجارت نے کہا کہ ٹرک کے ذریعے روابط کو فروغ دینے کیلئے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے جو کہ وزارت تجارت کی سلک روٹ ری کنیکٹ پالیسی کے تحت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے نجی کمپنیاں ٹی آئی آر کی اجازت کیلئے رابطہ کر رہی ہیں جنہیں حکومت کی تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، اس اہم قدم سے سرمایہ کاری کو ترغیب ملے گی اور لاجسٹکس کمپنیوں کیلئے نئے مواقع میسر آئیں گے جبکہ پاکستان کے راستے عالمی تجارتی ٹریفک کا بہائو بھی ہو گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here