آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک میں کیا فرق ہے؟

92
What's the difference between the IMF and the World Bank

پاکستان میں کم و بیش ہر حکومت کو ہی قرض لینے کیلئے آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک کے پاس جانا پڑتا ہے اور یوں تقریباََ ہر پاکستانی ان دو ناموں سے خاصا مانوس ہو چکا ہے۔ کچھ لوگ تو دونوں کو ایک ہی بینک سمجھتے ہیں جو بوقتِ ضرورت حکومتوں کو قرضے دیتا ہے۔ کیا آپ بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں؟

اگر آپ بھی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے درمیان فرق نہیں کر پاتے تو آپ ایسے اکیلے شخص نہیں ہیں بلکہ ان دونوں بینکوں کے بانیوں میں شامل معروف اکانومسٹ جان مینارڈ کینز (John Maynard Keynes) کا بھی کہنا تھا کہ وہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ناموں کی وجہ سے ان میں فرق نہیں کر پاتے۔

آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا آپس میں گہرا تعلق ہے حتیٰ کہ دونوں کے ہیڈکوارٹرز بھی واشنگٹن میں بالکل قریب قریب واقع ہیں مگر ان دونوں اداروں میں بنیادی فرق کیا ہے؟

اس کو سمجھنے کیلئے ہمیں تاریخ کے اوراق پلٹنے ہوں گے۔ 1944ء میں امریکی ریاست نیو ہیمپشائر کے علاقے بریٹن ووڈز (bretton woods) میں 44 ملکوں کے نمائندے ایک کانفرنس کے سلسلے میں اکٹھے ہوئے۔ اس کانفرنس کا مقصد ایک نئے عالمی مالیاتی نظام کے قوانین پر اتفاق رائے پیدا کرنا تھا۔

اُس وقت عمومی خیال یہی تھا کہ دوسری عالمی جنگ کی وجہ سے پرانا مالیاتی نظام ناکارہ ہو چکا ہے کیونکہ اُس نظام کے باعث دنیا کو گریٹ ڈپریشن کا سامنا کرنا پڑا۔ عالمی تجارت میں غیرمنصفانہ پالیسیوں نے جنم لیا اور کئی ملکوں کی کرنسی غیرمستحکم ہو گئی۔

اس لیے یکم جولائی سے 22 جولائی 1944ء تک جاری رہنے والی بریٹن ووڈز کانفرنس میں خاص طور برطانوی نمائندے جان مینارڈ کینز اور امریکی وزارت خزانہ کے نمائندے ہیری ڈیکسٹر وائٹ (Harry Dexter White) کے درمیان نئے مالیاتی نظام پر کافی تندوتیز بحث ہوئی اور بالآخر تین ہفتوں کی بحث اور مذاکرات کے بعد نئے مالیاتی نظام کے حوالے سے معاہدہ طے پا گیا۔

اس معاہدے کے تحت انٹرنیشل مانیٹری فنڈ یعنی آئی ایم ایف اور انٹرنیشنل بینک فار ری کنسٹرکشن اینڈ ڈیویلپمنٹ، جو اب ورلڈ بینک کہلاتا ہے، کا قیام عمل میں آیا۔ دونوں اداروں کو کام کرنے کیلئے الگ الگ مقاصد دیے گئے۔

آئی ایم ایف کا کام فکسڈ ایکسچینج ریٹ کے نظام کی نگرانی کرنا تھا جس کے تحت ملکوں کی کرنسی امریکی ڈالر سے منسلک تھی اور ڈالر سونے کیساتھ منسلک تھا۔ اس نظام کا مقصد عالمی تجارت کے فروغ کے لیے مستحکم ایکسچینج ریٹ یقینی بنانا تھا۔

چونکہ دوسری جنگِ عظیم نے عالمی معیشت تباہ کر دی تھی اور اکثر ممالک قرضوں کے بھاری بوجھ تلے دبے تھے۔ اس لیے آئی ایم ایف کو ان ممالک کو قلیل مدتی مالی معاونت فراہم کرنے کا اختیار بھی دیا گیا جو اپنے قرضوں کی ادائیگی کے حوالے سے مشکلات کا شکار تھے۔

اُدھر ورلڈ بینک کو دوسری عالمی جنگ کے نتیجے میں تباہی سے دوچار ہونے والے یورپی ممالک کی تعمیرِنو اور بحالی کیلئے سرمایہ فراہم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔

لیکن آج ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کا کردار مکمل تبدیل ہو چکا ہے۔

1971ء میں امریکی صدر رچرڈ نِکسن نے ڈالر کو سونے سے علیحدہ کر کے دنیا میں زرمبادلہ کے تصور کو بدل کر رکھ دیا۔ اس اقدام کے نتیجے میں فکسڈ ایکسچینج ریٹ کا وہ نظام ختم ہو گیا جس کی نگرانی آئی ایم ایف کرتا تھا۔

اس کے بعد آئی ایم ایف کا کردار مزید بڑا ہو گیا۔ اب یہ بینک بین الاقوامی سطح پر معاشی بحرانوں سے نمٹنے کیلئے کوشاں ہے۔ یہ عالمی معیشت پر نظر رکھنے کے علاوہ رکن ممالک کیلئے معاشی پالیسیاں بھی مرتب کرتا ہے۔

ورلڈ بینک کا کردار بھی بدل چکا ہے۔ اب یہ غریب ملکوں میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کیلئے فنڈنگ اور وسائل فراہم کرتا ہے اور غربت میں کمی کیلئے اقدامات کر رہا ہے۔

دونوں مالیاتی اداروں کے ارکان کی تعداد 189 ہے لیکن آئی ایم ایف کے ملازمین کی تعداد 2700 جبکہ ورلڈ بینک کے ملازمین 10 ہزار ہیں۔

آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کو پیسہ کون دیتا ہے؟

عام طور پر آئی ایم ایف رکن ملکوں سے ایک مخصوص کوٹہ کے ذریعے اپنی فنڈنگ جمع کرتا ہے جو بنیادی طور پر سبسکرپشن فیس ہوتی ہے۔ اس کوٹہ کی مد میں آئی ایم ایف کو سالانہ تقریباََ 675 ارب ڈالر ملتے ہیں جس میں سب سے زیادہ حصہ امریکا، جاپان، چین اور جرمنی کا ہوتا ہے۔

ورلڈ بینک عالمی سرمایہ کاروں کو بانڈز جاری کرکے پیسہ جمع کرتا ہے۔ 2017ء میں ورلڈ بینک نے 59 ارب ڈالر جبکہ آئی ایم ایف نے 160 ارب ڈالر کے قرضے جاری کرنے کی حامی بھری۔ اُس وقت بڑے قرض خواہوں میں یونان، یوکرین، پُرتگال اور پاکستان شامل تھے۔ پاکستان اب بھی آئی ایم ایف کے ایک پروگرام کا حصہ ہے۔

ورلڈ بینک کے زیادہ تر منصوبے افریقہ اور مشرقی ایشیا میں ہیں۔ یہ پاکستان میں بھی کئی منصوبوں کو فنڈنگ دے رہا ہے۔

البتہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک میں ایک قدرِ مشترک دونوں کے مخالفین ہیں جن کا کہنا ہے کہ یہ ادارے جن مشکل شرائط پر قرضے دیتے ہیں ان کی وجہ سے قرض لینے والے ملکوں کے معاشی مسائل حل نہیں ہو پاتے اور وہ قرضے واپس کرنے کے قابل بھی نہیں ہو سکتے۔

مثلاََ آئی ایم ایف پر یونان کو معاشی اصلاحات نہ کرنے کے باوجود بھی قرضے دینے کی وجہ سے تنقید کی جاتی ہے۔ اسی طرح انسانی حقوق کی تنظیمیں ورلڈ بینک کو مختلف ملکوں میں اس کے منصوبوں کے ماحولیات پر منفی اثرات کے حوالے سے ہدفِ تنقید بناتی ہیں۔

لیکن آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا موقف ہے کہ وہ عالمی سطح پر اقتصادی استحکام کیلئے کوشاں ہیں اور مختلف ملکوں میں معاشی بحران کے امکانات کم کرنے اور وہاں معیار زندگی بہتر بنانے کیلئے کام کر رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here