کیا چین عالمی پابندیوں کے شکار روس کی معاشی مدد کو آئے گا؟

262
Will China come to Russia's rescue

یوکرین پر روسی حملے کو دو ہفتے ہو چکے ہیں اور روسی فوج یوکرین کے کئی بڑے شہروں پر قابض ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق تقریباََ 20 لاکھ شہری یوکرین چھوڑ کر مہاجرین کی حیثیت سے ہمسایہ یورپی ملکوں میں داخل ہو چکے ہیں۔

دراصل یوکرین روسی جارحیت کی صورت میں اپنی اُس تاریخی غلطی کی قیمت چکا رہا ہے جو اس نے 90ء کی دہائی میں امریکا اور نیٹو کی یقین دہانیوں پر اپنے ایٹمی اثاثوں سے دستبرداری کی صورت میں کی تھی۔ اُس وقت یوکرینی لیڈروں نے اگر اُردو ادب پڑھا ہوتا تو چچا غالب کے اس مصرے کو پلے باندھ لیتے کہ ” ہوئے تم دوست جس کے، دشمن اُس کا آسماں کیوں ہو”

لیکن جنگ تو جنگ ہوتی ہے۔ وہ اپنا خراج فاتح اور مفتوح دونوں سے برابر وصول کرتی ہے۔ یوکرین کے بعد روس بھی اس جنگ کی بھاری قیمت ادا کر رہا ہے۔ اور وہ ہے معاشی قیمت۔

اس وقت امریکا اور مغرب نے روس کو معاشی طور پر عملاََ مفلوج کر دیا ہے۔ ظاہر ہے روسی صدر ولادی میر پیوٹن ان پابندیوں کے نتائج سے آگاہ ہوں گے۔ وہ جیسے تیسے اپنی معیشت کو چلا رہے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ بیشتر بڑی اقتصادی طاقتیں ان کے خلاف صف آراء ہو چکی ہیں۔ ماسوائے ایک بڑی معاشی قوت کے۔ اور وہ ہے چین۔

اِن دِنوں روس اور چین میں خوب گاڑھی چھنتی ہے۔ دونوں ملکوں کے گہرے سفارتی مراسم اور اقتصادی تعلقات امریکا اور مغرب کے مقابل کے طور دیکھے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیجنگ نے یوکرین پر حملے کی مذمت بھی نہیں کی بلکہ امریکا اور نیٹو پر روس کو بند گلی میں دھکیلنے کا الزام لگایا ہے اور پابندیوں کی مخالفت کی ہے۔ روس بھی چین کو اپنا تزویراتی سہارا (strategic cushion) قرار دیتا ہے لیکن کیا یہ سہارا روس پر مغربی پابندیوں کا توڑ ثابت ہو گا؟ اس کیلئے ہمیں دونوں ملکوں کے تعلقات کی تاریخ پرکھنا ہو گی۔

چین اور روس کے تعلقات گزشتہ صدی کے دوران ہنگامہ خیز رہے ہیں۔ پہلے وہ سرحدی تنازعات کی وجہ سے دشمن تھے۔ پھر کمیونزم انہیں قریب لے آیا۔ پھر وہ ایک بار دشمن بن گئے۔ 60ء کی دہائی میں تو بات سرحدی جھڑپوں تک جا پہنچی اور دونوں ملکوں نے اپنے اپنے ایٹمی ہتھیار نکال لیے۔ لیکن 1991ء کا سینو سوویت بارڈر ایگریمنٹ اور 2001ء کا سینو رشین ٹریٹی آف فرینڈشپ انہیں دوبارہ قریب لے آیا۔

روس اور چین کی تجارت 2008ء سے 2020ء کے درمیان دوگنا ہو کر سالانہ 100 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ روس چین کو گیس، تیل، کوئلہ اور کھانے کی چیزیں برآمد کرتا ہے۔ اس لیے چین کی بطور تجارتی شراکت دار اہمیت روس کیلئے کافی بڑھ چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

چینی ارب پتی پراسرار طور پر غائب کیوں ہو رہے ہیں؟

تیل کے بغیر خلیجی عرب ملکوں کا مستقبل کیا ہو گا؟

’روس اور پاکستان 3 ارب ڈالر کا گیس پائپ لائن منصوبہ شروع کریں گے‘

اگرچہ روس چینی معیشت کیلئے کچھ ایسا اہم بھی نہیں لیکن اس نے چین میں توانائی کا نظام بدلنے میں کافی مدد کی ہے۔ اس لیے تجارت سے ہٹ کر بھی چین مشکل ترین معاشی حالات میں روس کی مالی مدد کرتا رہا ہے۔

حالیہ تاریخ میں ایسا دو بار ہوا۔ پہلی بار 2009ء میں جب جارجیا کے ساتھ جنگ کے بعد روسی معیشت کساد بازاری کا شکار تھی اور دوسری بار 2014ء میں جب روس نے کرائمیا کو یوکرین سے الگ کیا تو امریکا اور مغرب کی پابندیوں کی وجہ سے اس کی معیشت زوال پذیر تھی تو چین نے اپنے خزانوں کے منہ کھول دیے تھے۔

ظاہر ہے یہ چینی امداد قرضوں کی صورت میں تھی اور ماہرین کا تجزیہ ہے کہ چین اس بار بھی روس کی مدد کیلئے بھاری قرضے جاری کر سکتا ہے تاہم اس بار یہ کام کافی مشکل ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چین جن روسی سرکاری بینکوں کے ذریعے قرضوں کی رقم منتقل کرتا تھا اب وہ بھی پابندیوں کی زد میں ہیں اور عالمی کرنسی یعنی ڈالر استعمال کرنے سے بھی قاصر ہیں۔

اسی ڈالر کی اجارہ داری ختم کرنے کیلئے روس اور چین برسوں سے کوششیں کر رہے ہیں۔ روس نے تو خود پر پہلی بار لگنے والی مغربی پابندیوں کے بعد ہی اپنی معیشت کو ڈالر کے زیر اثر رکھنے کے بجائے کچھ اس انداز میں استوار کیا کہ تجارت اور بینکنگ سیکٹر میں ڈالر کا استعمال کم از کم ہو۔ کیونکہ اگر آپ ڈالر میں ہی تجارت کریں اور قرضے لیں تو جب امریکا پابندیاں لگائے گا تو آپ کیلئے کافی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

چین بھی کئی وجوہات کی بنا پر ڈالر کے بغیر معیشت چلانے کیلئے کوشاں ہے اور ان کوششوں میں اُس وقت تیزی آ گئی جب 2018ء میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر تجارتی جنگ مسلط کی۔ اس لیے ماسکو اور بیجنگ ڈالر کے خلاف ایک صف میں کھڑے نظر آتے ہیں اور ان کوششوں میں وہ کامیاب بھی رہے ہیں۔

2013ء میں روس اور چین کی 90 فیصد باہمی تجارت ڈالر میں ہوتی تھی، اب یہ کم ہو کر 40 فیصد پر آ گئی ہے اور دونوں ممالک اب یورو میں زیادہ تجارت کر رہے ہیں۔ تاہم یورو کا انتخاب بھی اِن دنوں کچھ ایسا محفوظ دکھائی نہیں دیتا کیونکہ یوکرین پر حملے کے بعد روس پر پابندیاں لگانے والوں میں یورپی یونین بھی شامل ہے۔

چین اور روس چاہیں تو وہ یوآن اور روبل میں بھی تجارت کر سکتے ہیں۔ لیکن دونوں کرنسیاں زیادہ مستحکم نہیں اور مکمل طور پر قابلِ تبادلہ بھی نہیں۔ گو کہ دونوں ممالک اپنی اپنی کرنسیوں میں پہلے ہی تجارت کر رہے ہیں لیکن اس کا حجم کچھ خاص نہیں۔

ایک اور چیز جس پر روس اور چین مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں وہ ہے سوئفٹ (SWIFT) کا متبادل۔ سوئفٹ یعنی سوسائٹی فار ورلڈ وائیڈ انٹربینک فنانشل کمیونی کیشن مختلف ملکوں کے مابین ٹرانزیکشنز کیلئے رابطہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم یوکرین پر حملے کے بعد روس کو یہ نظام استعمال کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

روس اور چین نے 2019ء میں متبادل انٹرنیشنل پیمنٹ سسٹم تشکیل دیا تھا تاکہ امریکا اور مغرب کے کنٹرولڈ سسٹم سے جان چھڑائی جا سکے۔ ان کے سسٹم کے ذریعے محدود تعداد میں ادائیگیاں کی جاتی ہیں تاہم یہ موجود ضرور ہے۔

چین کا موقف رہا ہے کہ وہ روس پر پابندیوں کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے روس کے ساتھ تجارت جاری رکھی ہوئی ہے، چونکہ روس اِن دنوں عالمی پابندیوں کی وجہ سے سخت دبائو میں ہے اس لیے چین کے ساتھ اس کی تجارت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

اس وقت روس کے پاس 84 ارب ڈالر کے چینی بانڈز موجود ہیں جنہیں ضرورت پڑنے پر استعمال کرنے سے روکے جانے کا امکان نہیں۔ لیکن اس حوالے سے حتمی طور پر کچھ کہا بھی نہیں جا سکتا۔

اگرچہ کچھ بڑے چینی کمرشل بینکوں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ پابندیوں کے شکار روسی اداروں اور کمپنیوں کے ساتھ لین دین نہیں کریں گے۔ اس کی وجوہات بہت سادہ ہیں۔ اگر چینی بینک پابندیوں کی شکار روسی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار جاری رکھتے ہیں تو انہیں بھی بہت کچھ دائو پر لگانا ہو گا اور پابندیوں کا دوسرا ہدف وہ خود بن سکتے ہیں کیونکہ ایران اور شمالی کوریا پر عالمی پابندیوں کو درخور اعتناء نہ سمجھنے پر چینی بینک اور کمپنیاں ماضی میں نتائج بھگت چکی ہیں۔

دوسری بات جو ذہن میں رکھنی چاہیے، وہ یہ ہے کہ روس اور چین کے معاشی تعلقات کافی غیرمتوازن ہیں۔ چین کی مجموعی تجارت میں روس کا حصہ محض تین فیصد سے بھی کم ہے۔ چین کو روس کی ضرورت سے زیادہ روس کو چین کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ بیجنگ کی دوسری ترجیحات بھی ہیں۔ چینی سب سے پہلے اپنی معیشت اور ترقی کی پرواہ کرتے ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ کمیونسٹ پارٹی کے تمام اہداف بھی اسی سمت میں ہیں۔

حتمی بات یہ ہے کہ روس چینی بانڈز استعمال کر بھی لیتا ہے اور چین اسے بھاری قرضے بھی دے دیتا ہے تو بھی اس سے روسی معیشت کو اتنا سہارا نہیں مل سکے گا جتنا نقصان اس کا جنگ اور پابندیوں کی صورت میں ہو چکا ہو گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here