زیر سمندر انٹرنیٹ کا مالک کون؟

1060

جب کبھی آپ کا انٹرنیٹ نہ چل رہا ہو تو پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے عموماََ بتایا جاتا ہے کہ زیرسمندر انٹرنیٹ کیبل میں کسی خرابی کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔

زیرسمندر انٹرنیٹ کیبلز ایک ایسے انفراسٹرکچر کا حصہ ہیں جو دنیا بھر میں ڈیٹا منتقل کرتا ہے۔

انٹرنیٹ ہماری زندگی کا ناگزیر حصہ بن چکا ہے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ انٹرنیٹ کیبلز آتی کہاں سے ہیں اور انہیں کون کنٹرول کرتا ہے؟

انٹرنیٹ 60ء کی دہائی میں وجود میں آ چکا تھا لیکن 1989ء میں ورلڈ وائیڈ ویب کی ایجاد کے بعد اس نے انقلاب برپا کر دیا۔ تاہم موبائل فونز کے عام ہونے تک انٹرنیٹ بے حد مہنگا ہونے کی وجہ سے ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز تک ہی محدود رہا۔

انٹرنیٹ کیسے کام کرتا ہے؟

جب آپ کسی کو ای میل بھیجتے ہیں تو یہ ڈیٹا مختلف کیبلز یا ریڈیو ویوز (radio waves) کے ذریعے ایک روٹر یا سیل فون ٹاور تک بھیجا جاتا ہے وہاں سے یہ سگنلز کئی فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے لائٹ پلسز  (pulses of light) کی صورت میں انٹرنیٹ ایکسچینج تک جاتے ہیں جو ایک سورٹنگ آفس (sorting office) کی طرح کام کرتا ہے۔ لوکل ایریا نیٹ ورک کے صارفین کا ڈیٹا اِنہی مراکز سے گزر کر دیگر نیٹ ورکس سے منسلک ہوتا ہے۔

لیکن نیٹ ورکس اور ڈیٹا سینٹرز کے ڈیٹا کی منتقلی سمندر کی تہہ میں بچھی سب میرین کیبلز کے ذریعے ہوتی ہے جو ایک لینڈنگ سٹیشن تک پہنچتی ہیں جہاں سے آگے ان کا زمین کے اوپر سفر شروع ہوتا ہے۔

سب میرین کیبل کی تاریخ ڈیڑھ سو سال پرانی ہے۔ تقریباََ 160 سال قبل ٹیلی گراف کی ایجاد کے بعد پہلی ٹرانس اٹلانٹک ٹیلی گراف کیبل امریکا اور برطانیہ کے درمیان 1858ء میں بچھائی گئی تھی۔

بیسویں صدی کے اوائل میں ٹیلی فون ٹیکنالوجی نے ٹیلی گراف کی جگہ لینا شروع کی تو ٹیلی گراف کیلئے بچھائی گئی سب میرین کیبلز کو ٹیلی فون کمیونیکیشن کیلئے استعمال میں لایا گیا تاہم اس پر برٹش پوسٹ آفس اور امریکن ٹیلی فون اینڈ ٹیلیگراف کی اجارہ داری قائم ہو گئی۔

نوے کی دہائی میں ڈاٹ کام ببل (Dot com bubble) کے دوران کئی انٹرنیشنل کنسورشیم ٹیلی کام سیکٹر میں آئے اور انہوں نے سب میرین کیبلز پر سرمایہ کاری شروع کی۔

گزشتہ دو عشروں کے دوران انٹرنیٹ کا استعمال بڑھنے کی وجہ سے نیٹ ورکس کی ڈیمانڈ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اب تک دنیا بھر میں سب میرین کیبلز کی تعداد 406 ہو چکی ہے جن کی مجموعی لمبائی ساڑھے 7 لاکھ میل ہے اور یہ 30 مرتبہ دنیا کا چکر کاٹ سکتی ہیں۔

کچھ کیبلز تو چھوٹی ہیں جیسے آئرلینڈ اور برطانیہ کے درمیان سیل ٹِکس کنیکٹ (CeltixConnect) کیبل جس کی لمبائی محض 81 میل ہے لیکن کچھ کیبلز کافی طویل ہیں جیسے بحرالکاہل سے گزرنے والی 12 ہزار 427 میل لمبی ایشیا امریکا گیٹ وے کیبل۔

ان کیبلز میں استعمال ہونے والے فائبر آپٹکس ایک لاکھ میل فی سیکنڈ کی رفتار سے ڈیٹا ٹرانسفر کرتے ہیں۔ دنیا کا 95 فیصد ڈیٹا فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے ہی منتقل ہوتا ہے کیونکہ انہیں تیز ترین، محفوظ اور کم خرچ سمجھا جاتا ہے۔

گو کہ انٹرنیٹ کیبل کو سمندر میں شارک اور زمین پر چوہوں سے خطرہ ہوتا ہے لیکن سب سے بڑا انسانی خطرہ ہے۔

2011ء میں آرمینیا کا انٹرنیٹ اُس وقت منقطع ہو گیا جب ایک بزرگ خاتون نے غلطی سے زیر زمین انٹرنیٹ کیبل کاٹ دی جو پورے ملک کو انٹرنیٹ فراہم کرتی تھی۔

2016ء میں انگلش چینل میں ایک بحری جہاز نے اپنا لنگر اٹھاتے ہوئے تین انٹرنیٹ کیبلز کاٹ دیں جن سے کئی ممالک میں انٹرنیٹ متاثر ہوا۔

کچھ مخصوص حالات میں انٹرنیٹ کیلئے سیٹیلائٹ کی مدد بھی لی جاتی ہے۔ عموماََ دور دراز علاقے جہاں انسانی آبادی کم ہو اور وہاں تک فائبر آپٹکل کیبل بچھانا انتہائی مہنگا ہو تو اُن علاقوں میں انٹرنیٹ کیلئے سیٹلائٹ کو ترجیح دی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ ڈیٹا کے تحفظ کے پیشِ نظر کئی حکومتیں اور افواج بھی انٹرنیٹ کیلئے سیٹلائٹ پر انحصار کرتی ہیں۔

گوگل کی پیرنٹ کمپنی ایلفابیٹ نے بھی دنیا کے غیرمنسلک حصوں تک انٹرنیٹ پہنچانے کیلئے فضا میں انٹرنیٹ بلونز (internet balloons) چھوڑنے کا منصوبہ بنایا تھا جسے بعد ازاں بند کرنا پڑا۔

آج کی دنیا میں سب میرین کیبلز سٹریٹجک اثاثہ سمجھی جاتی ہیں۔ امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا عروج سلیکون ویلی کی جانب سے اِن سٹریٹجک اثاثوں میں بھاری سرمایہ کاری کی وجہ بنا ہے۔ دنیا کی آدھی سب میرین کیبلز گوگل، فیس بک اور ایمازون  کی زیرملکیت ہیں یا انہوں نے لیز پر لے رکھی ہیں۔

2020ء میں گوگل نے 16 کیبلز میں سرمایہ کاری کی۔ فیس بک 12 کیبلز میں شئیرہولڈر ہے جبکہ مائیکروسافٹ اور ایمازون نے پانچ پانچ کیبلز میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

لیکن حکومتیں زیرآب انٹرنیٹ کیبلز کے حوالے سے سوالات اٹھاتی رہتی ہیں۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکا اور چین کے مابین جاری کشمکش میں انٹرنیٹ کیبلز پر اعتراضات سے ایک نیا محاذ کھل رہا ہے۔

2018ء میں آسٹریلیا نے چینی کمپنی ہواوے کو سولومن آئی لینڈ تک کیبل بچھانے سے یہ کہتے ہوئے روک دیا کہ اس سے چین آسٹریلین نیٹ ورکس تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔

جون 2021ء میں امریکی سکیورٹی اداروں نے فیس بُک اور گوگل کی جانب سے ہانگ کانگ کو امریکا سے ملانے کیلئے بچھائی جانے والی 8 ہزار میل لمبی انٹرنیٹ کیبل پر یہ اعتراض کر دیا کہ اس سے چینی حکومت کو جاسوسی کا موقع مل جائے گا۔

کچھ تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ دنیا بھر میں سب میرین کیبلز بچھانے یا انہیں ٹھیک کرنے کیلئے ہواوے کا بڑھتا ہوا کردار بھی چین کو بین الاقوامی انٹرنیٹ میں خلل انداز ہونے کے قابل بنا سکتا ہے۔

ایسی ایک مثال پہلی جنگ عظیم سے موجود ہے جب جنگ کے دوران ٹیلی گراف کیبل پر اجارہ داری کی وجہ سے برطانیہ نے جرمنی  کے رابطے دنیا بھر سے منقطع کر دیے تھے۔

اسی طرح 70ء کی دہائی میں امریکا نے روس کی زیرسمندر کیبلز کے ذریعے جاسوسی کی تھی۔

ایک ہی روٹ پر کئی سب میرین کیبلز کی وجہ سے ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی ایک کیبل خراب ہو جائے تو بھی انٹرنیٹ منقطع نہیں ہوتا لیکن زیادہ کیبلز کی موجودگی میں لازمی نہیں کہ انٹرنیٹ سپیڈ یا کنیکٹیوٹی بہتر ہو۔

مثال کے طور دنیا کی دوسری بڑی آن لائن مارکیٹ ہونے کے باوجود بھارت کی آدھی آبادی انٹرنیٹ سے محروم ہے۔ یہی حال افریقا کا ہے جہاں 87 کروڑ سے زائد افراد کو انٹرنیٹ میسر نہیں۔

اس کی کئی وجوہات ہیں جیسا کہ ڈیٹا سینٹرز کی کمی، انٹرنیٹ انفراسٹرکچر سے دوری، یا پھر ناقابل برداشت اخراجات۔ ان وجوہات کے ہوتے ہوئے زیرسمندر انٹرنیٹ کیبلز کی تعداد بڑھا بھی دی جائے تو صارفین کو اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔

تاہم ان مارکیٹس کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ آن لائن صارفین کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے جس کے ساتھ تیزرفتار انٹرنیٹ کی ڈیمانڈ بھی بڑھ رہی ہے۔

اس بات کا امکان نہیں کہ بڑی ٹیک کمپنیوں کے مابین سب میرین کیبلز کی دوڑ سست پڑنے والی ہے جہاں پہلے ہی ان کے اربوں ڈالرز دائو پر لگے ہیں۔ سرمایہ کاری کی یہ دوڑ آئندہ سالوں میں ناصرف جاری رہے گی بلکہ مزید تیز ہو گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here