جاپان میں لوگ غیرمعمولی طور پر زیادہ کام کیوں کر رہے ہیں؟

2472

طویل گھنٹوں تک کام کرنا جاپان میں باقاعدہ طرزِ زندگی بن چکا ہے، اکثر اوقات اس کی وجہ سے اموات بھی ہوئی ہیں۔ کام کی زیادتی کی وجہ سے موت کیلئے جاپانی زبان میں ‘کاروشی’ (Karoshi) کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

جاپان میں لوگ غیرمعمولی طور پر زیادہ کام کیوں کر رہے ہیں؟ اور اس مسئلے کا حل کیسے ممکن ہے؟

دنیا میں دیکھا جائے تو جاپان ایسا ملک ہے جہاں ورکنگ آوورز طویل ترین ہیں، کم و بیش ایک چوتھائی کمپنیوں میں ملازمین کو ماہانہ تقریباََ 80 گھنٹے اوورٹائم کرنا پڑتا ہے اور اکثر اُس کا معاوضہ بھی نہیں ملتا۔

جاپان کا کارپوریٹ کلچر نام نہاد تنخواہ داروں یعنی سیلری مین کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔ سیلری مین اُسے سمجھا جاتا ہے جو کمپنی کا وفادار ہو اور اُس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنا سارا کیرئیر ایک ہی کمپنی کے لیے کام کرتے گزار دے۔ طویل گھنٹوں تک دفتری کام کے علاوہ دیگر سرگرمیوں میں بھی متحرک نظر آئے۔ جیسے کہ کولیگر کے ساتھ پارٹی کرنا۔

جاپان میں ملازمین کو کام سے چھٹی شازونادر ہی ملتی ہے، 2017ء کے ایک سروے کے مطابق سالانہ 20 چھٹیوں کے باوجود جاپانی ملازمین کو محض 10 چھٹیاں ملیں، سالانہ چھٹیوں کے باوجود ملازمین کو کام سے رخصت نہ دینے کے حوالے سے جاپان کی شرح دیگر کئی ملکوں سے زیادہ ہے۔

کارپوریٹ کلچر سے واقفیت حاصل کرنے کیلئے خود کو اس کی دیواروں میں قید کرنے کی ضرورت نہیں لیکن جاپان میں رات کے 3 بجے بھی آپ کو سوٹ بوٹ میں ملبوس ہاتھوں میں بریف کیس اٹھائے ملازمین دفاتر کی جانب گامزن نظر آئیں گے۔

جاپانیوں کے ورک ایتھکس (work ethics) کو اُس معاشی کرشمے سے جوڑا جاتا ہے جس کے نیتجے میں یہ ملک ایٹم بم کی تباہی کے باوجود 50ء کی دہائی میں ڈرامائی طور پر دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن کر ابھرا۔

جاپانی کمپنیوں کا اندرونی کلچر کچھ ایسا ہے کہ کسی انفرادی شخص کی ترقی کی بجائے مجموعی طور پر کمپنی کی ترقی اور کامیابی پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ اس کی وضاحت کچھ یوں کی جا سکتی ہے کہ ایک سروے کے دوران 63 فیصد جاپانیوں نے تنخواہ سمیت چھٹی (paid leave) لینے پر شرمندگی کا اظہار کیا۔

لیکن اس سے بھی تشویش ناک بات یہ ہے کہ طویل ترین اوقاتِ کار کے باوجود جی سیون ممالک میں جاپان سب سے کم پروڈکٹیوٹی کا حامل ملک ہے۔

ہم نے آغاز میں “کاروشی” کا ذکر کیا ہے جس کا مطلب ہے کام کی زیادتی کی وجہ سے موت۔ حکومت اسے قانونی تسلیم کرتی ہے، عموماََ طویل اوقاتِ کار ہارٹ اٹیک، سٹروک یا تنائو کی وجہ سے موت کا باعث بنتے ہیں۔

ہر سال جاپان میں کاروشی کے سینکڑوں کیس رپورٹ ہوتے ہیں، گو کہ یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ تمام کیسز رپورٹ نہیں ہو پاتے اور اصل تعداد 10 گنا زیادہ ہے۔

2015ء میں ایڈورٹائزنگ فرم Dentsu کی ایک ملازمہ نے عمارت سے کود کر خودکشی کر لی، تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اوور وَرک کی وجہ سے وہ ڈپریشن کا شکار تھی اور اسے ہر ماہ 100 گھنٹے اوورٹائم کرنا پڑتا تھا۔

اس کیس نے کافی توجہ حاصل کی اور طویل اوقاتِ کار اور بلامعاوضہ اوور ٹائم کو غیرقانونی قرار دینے کیلئے کافی آوازیں بلند ہوئیں۔ کمپنی کو لیبر قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ کیا گیا اور اسکے سی ای او نے استعفیٰ دے دیا۔

ملازمہ کی موت کے بعد Dentsu نے کچھ تبدیلیاں کیں، ایک تبدیلی یہ کی گئی کہ دفتر کی بتیاں رات 10 بجے بجھا دی جاتی ہیں تاکہ ملازمین دفتر چھوڑ دیں۔

اب حکومت اور نجی کمپنیاں ورکنگ آوورز کم کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ حکومت نے سالانہ کم از کم پانچ چھٹیوں کے علاوہ دو ورکنگ ڈیز کے درمیان ریسٹ پیریڈ لازمی قرار دیا ہے۔

2016ء میں جاپان میں مائونٹین ڈے کی نئی چھٹی متعارف کرائی گئی جس کے بعد سالانہ سرکاری چھٹیوں کی تعداد 16 ہو گئی۔

2017ء میں جاپانی حکومت نے پریمیئم فرائیڈیز کا منصوبہ شروع کیا جس کے تحت کمپنیوں کو کہا گیا ہے کہ وہ ہر مہینے کے آخری جمعے کو ملازمین کو 3 بجے چھٹی دے دیں۔ لیکن ایک سروے میں معلوم ہوا کہ پہلے پریمیئم فرائیدے پر صرف 4 فیصد ملازمین نے 3 بجے چھٹی لی۔

یہی وجہ ہے کہ حکومتی کوششوں کے باوجود ایک رکاوٹ برقرار ہے، کوئی بھی ملازم دفتر سے جلدی جانے والا پہلا شخص بننے کو تیار نہیں۔

ایک دوسری وجہ لوگوں پر زیادہ محنت کرنے کا دبائو بھی ہے، جاپانی معیشت بہت بڑی اور خطرات سے گھِری ہوئی ہے۔ اس کے سائز کو برقرار رکھنے کیلئے بھی جاپانیوں کو زیادہ گھنٹوں تک کام کرنا پڑتا ہے۔

جاپان 1968ء سے 2011ء تک 42 سالوں تک دنیا کی دوسری بڑی معیشت رہا ہے، 2011ء میں چین نے اس کی جگہ لے لی۔ جاپان کو افرادی قوت کے بحران کا بھی سامنا ہے۔ یہاں بوڑھوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے جبکہ شرح پیدائش کم ہو رہی ہے جس کا مطلب ہے کہ جاپان کی مجموعی آبادی کم ہو رہی ہے جو آئندہ 50 سالوں میں ایک تہائی رہ جائے گی۔ 2015ء میں جاپان کی آبادی 12 کروڑ 70 لاکھ تھی جو 2065ء میں 8 کروڑ 80 لاکھ رہ جائے گی۔

افرادی قوت کے بحران سے نمٹنے کیلئے جاپانیوں کے سامنے دو راستے ہیں:

پہلا: باہر سے ہنرمند لوگ منگوائے جائیں

دوسرا: روبوٹس پر انحصار مزید بڑھایا جائے

لیکن غیرملکیوں کو قبول کرنے کی جانب جاپان کا رجحان کم ہی رہا ہے۔ دیگر مضبوط معاشی قوتوں کے مقابلے میں جاپان میں غیرملکی ورکرز کی تعداد بالکل تھوڑی ہے۔ یہاں صرف 1.6 فیصد غیرملکی ورکرز کام کرتے ہیں جبکہ جرمنی میں یہ شرح 9.3 فیصد ہے۔ لیکن جاپان یہ خلاء روبوٹس کی مدد سے پُر کر رہا ہے، مہمان نوازی کی صنعت سے لے کر مینوفیکچرنگ انڈسٹری تک روبوٹس استعمال کیے جا رہے ہیں۔

گو کہ ٹیکنالوجی کسی قدر توازن پیدا کر سکتی ہے لیکن جاپان کا افرادی قوت کا مسئلہ پھر بھی برقرار رہے گا اور اس کی معیشت کیلئے خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here