کیا پاکستانیوں کے پاس واقعی 20 ارب ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی موجود ہے؟

1204

حال ہی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ناصر حیات مگوں نے ایف پی سی سی آئی کی کرپٹوکرنسی پر پالیسی رپورٹ کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ بیان دیا کہ “ہماری ریسرچ کے مطابق” پاکستانیوں کے پاس 20 ارب ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی موجود ہے، اس بیان کے بعد مقامی میڈیا اور مالیاتی حلقوں میں کرپٹو کرنسی کے حوالے سے غیرمعمولی دلچسپی دیکھنے میں آئی۔

لیکن اس بیان نے مالیاتی شعبے سے وابستہ کچھ افراد کو ورطہ حیرت میں بھی ڈال دیا کیونکہ سٹیٹ بینک کے پاس بھی فی الوقت لگ بھگ 24 ارب ڈالر موجود ہیں۔

دراصل ایف پی سی سی آئی کے صدر کی “تحقیق” سے مراد Chainalsis کی شائع کردہ وہ رپورٹ تھی جس میں گلوبل کرپٹو اڈوپشن انڈیکس (Global Crypto Adoption Index) میں پاکستان کو بھارت اور ویتنام کے بعد تیسرے نمبر پر رکھا گیا ہے۔

تاہم اِس نمبر سے مراد کرپٹو کرنسی کی وہ ویلیو تھی جو پاکستان نے مالی سال 2021ء میں حاصل کی، یہ بالکل کسی سٹاک ایکسچینج کی ٹریڈڈ ویلیو کی طرح ہے، مثال کے طور پر سال 2021ء میں پاکستان سٹاک ایکسچینج کی ٹریڈڈ ویلیو 30 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی۔

اگرچہ ملک میں کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی اصل تعداد کا تو معلوم نہیں لیکن کچھ ذرائع یہ تعداد اڑھائی لاکھ سے زیادہ بتاتے ہیں۔

دراصل ہوا یہ کہ  ایف پی سی سی آئی کے صدر “ٹریڈڈ ویلیو” کا مفہوم غلط طور پر “اثاثہ جات کی ملکیت” سمجھ بیٹھے اور اسی کو انگریزی روزنامہ ‘دی نیوز’ نے بھی بغیر تصدیق شائع کر دیا، یہ بیان تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔

وہ لوگ جو اب بھی الجھن میں ہیں وہ اسے کچھ یوں سمجھ سکتے ہیں:

مثال کے طور پر آپ نے یکم جولائی کو ایک ہزار ڈالر کے عوض ایک بٹ کوائن خریدا جو ستمبر میں 1300 ڈالر کا ہونے پر آپ نے فروخت کر دیا۔ اس فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کو آپ نے ایک دوسری کرپٹو کرنسی ‘کارڈانو’ (cardano) میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کر لیا اور پھر تین ماہ بعد اسے 12 سو ڈالر میں فروخت کر دیا، لہٰذا ایسی صورت میں اگرچہ 31 دسمبر تک کرپٹو کرنسی کی ملکیت اپنے پاس رکھنے تک اس کی مالیت 1200 ڈالر ہو گی مگر اس کی ٹریڈڈ ویلیو چار گنا زیادہ یعنی 4800 ڈالر ہو گی۔

اگرچہ اس حوالے سے کوئی ٹھوس ڈیٹا موجود نہیں مگر شواہد اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ کرپٹو میں سرمایہ کاری کے حوالے سے پاکستان میں صحت مندانہ فضا موجود ہے۔

اپنی رپورٹ میں ایف پی سی سی آئی نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے تحت کرپٹو ایکسچینج کمیشن کے قیام کی تجویز دی ہے۔

لیکن یہ تجویز قدرے فرسودہ ہے کیونکہ عالمی سطح پر کرپٹو کرنسی میں جو بھی سرگرمی ہو رہی ہے وہ ویب  3.0 پر چلنے والے ڈی سینٹرالائزڈ فنانس پلیٹ فارمز پر منتقل ہو رہی ہے۔ چین اینالسس (Chainalysis) کا ڈیٹا بھی یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت میں کرپٹو کرنسی سے متعلق 59 فیصد سرگرمیاں ڈی سینٹرالائزڈ فنانس پلیٹ فارمز پر ہی ہو رہی ہیں جبکہ پاکستان میں یہ شرح  25 فیصد ہے۔

بلاک چین (blockchain) سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ڈی سینٹرالائزڈ فنانس پلیٹ فارمز میچور ہونے پر کرپٹو ٹرانزیکشنز کی لاگت کافی کم ہو جائے گی اور ان کی شفافیت میں بھی اضافہ  ہو گا۔

ان پلیٹ فارمز کا استعمال انشورنس اور سیونگ سروسز کمپنیاں بھی کر رہی ہیں، جبکہ پاکستان میں صرف ایک سٹارٹ اَپ ہے جو ان پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے سرمایہ کاری حاصل کر سکا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here