کیا سرمایہ کاری اور بچت کیلئے نیشنل سیونگز بہترین آپشن ہے؟

235

منافع کی صورت میں بینک ڈپوزٹ، سونا خریدنے یا رئیل اسٹیٹ کے علاوہ سرمایہ  کاری کے جس طریقہ سے متعلق زیادہ تر مڈل کلاس پاکستانیوں نے سن رکھا ہے وہ قومی بچت یا نیشنل سیونگز ہے، یہ سرکاری ادارہ ملک بھر میں اپنی 376 برانچز  کے ذریعے انفرادی سرمایہ کاروں کو مختلف نوعیت کے بانڈز فروخت کرتا ہے۔

اب تک نیشنل سیونگز میں 3. 4 کھرب روپے کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے، یہ رقم حبیب بنک اور الائیڈ بنک کے مشترکہ ڈیپازٹس کے برابر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ادارے پر سرمایہ کاروں کو کافی اعتماد ہے۔

اس ادارے کا قیام 1873ء میں گورنمنٹ سیونگز بنک کے نام سے عمل میں آیا جس کے ذریعے برطانوی حکومت اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے فنڈز اکٹھے کرتی تھی اور ان کا استعمال جنگ عظیم اول اور دوم میں بھی ہوا۔ 1943 میں اسے نیشنل سیونگز بیورو کا نام دیا گیا جو تقسیم کے بعد بھی جاری رہا۔

جب آپ نیشنل سیونگز میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو آپ کو حکومت پاکستان کی ضمانت فراہم کی جاتی ہے لہٰذا یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ لوگ کیوں اپنا پیسہ نیشنل سیونگز میں رکھوانا پسند کرتے ہیں۔ وہ لوگ جو کسی ایسی جگہ سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں جہاں سے انہیں تواتر کے ساتھ طے شدہ ماہانہ آمدن ملتی رہے تو انہیں نیشنل سیونگز میں انویسٹ کرنے سے متعلق ضرور سوچنا چاہیے۔

لیکن کیا یہ بہترین آپشن ہے؟

کئی لحاظ سے نیشنل سیونگز کے سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری بہترین آپشن ہے مگر کچھ حالات میں دیگر آپشنز پر بھی ضرور غور کیا جانا چاہیے۔

نیشنل سیونگز سرٹیفکیٹس کی طرح خطرے سے پاک سرمایہ کاری کا دوسرا ذریعہ طے شدہ (fixed) آمدنی والے میوچل فنڈز ہیں۔

سرکاری بانڈز میں سرمایہ کاری کرنے والے اسلامک اور کنونشنل میوچل فنڈز کی تعداد دس ہے، ان میں سے دو میوچل فنڈز اسلامک جبکہ بقیہ آٹھ کنونشنل ہیں۔ جیسے کہ ایم سی بی کا پاکستان ساورن فنڈ (Pakistan Sovereign fund)، حبیب بینک کا گورنمنٹ سیکیورٹیز فنڈ اور نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ  کا گورنمنٹ بانڈ فنڈ۔ یا پھر یو بی ایل کا الامین ساورن فنڈ اور میزان بینک کا میزان ساورن فنڈ۔

کون سا سرٹیفکیٹ زیادہ منافع دیتا ہے؟

نیشنل سیونگز کے معاملے میں ہم نے دو انکم سرٹیفکیٹس یعنی بہبود سیونگز اور ریگولر انکم سرٹیفکیٹس  (آر آئی سی) کا جائزہ لیا ہے۔

پاکستان میں کوئی بھی سرکاری بانڈ فنڈ منافع کے حوالے سے بہبود سیونگز سرٹیفکیٹس سے مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اگر آپ کو باقاعدگی کے ساتھ آمدن چاہیے تو بہبود سرٹیفکیٹ اس حوالے سے بہترین ہے۔

گزشتہ دس سالوں کے دوران بہبود سیونگز سرٹیفکیٹس نے اوسطاََ سالانہ 12.3 فیصد منافع دیا ہے، دوسرا نمبر ایم سی بی کے پاکستان ساورن فنڈ کا ہے جس نے گزشتہ 10 سالوں میں اوسطاََ 10.2 فیصد سالانہ منافع دیا ہے جبکہ تیسرا نمبر ریگولر انکم سرٹیفکیٹس کا ہے، دیگر تمام میوچل فنڈز اس سے پیچھے ہیں۔

فکسڈ انکم کے لیے سرمایہ کاری کے کسی بھی دوسرے ذریعے سے حاصل ہونے والی کمائی پر ٹیکس عائد ہے اور یہ ٹیکس منافع دینے والا ادارہ ہی کاٹ لیتا ہے لیکن بہبود سرٹیفکیٹ پر کوئی ٹیکس عائد نہیں۔

لیکن اس کے باوجود بہبود سرٹیفکیٹ میں زیادہ سرمایہ کاری نہیں ہوتی، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر کسی کو بہبود سرٹیفکیٹ خریدنے کی اجازت نہیں، جنہیں اجازت ہے وہ بھی ایک حد تک اس میں پیسہ انویسٹ کر سکتے ہیں۔

2004 میں ابتدائی طور پر بہبود سرٹیفکیٹ صرف بیواؤں، معذوروں یا زائدالعمر افراد کے لیے شروع کیا گیا تھا، یہ لوگ بھی صرف 50 لاکھ تک سرمایہ  کاری کر سکتے ہیں، یا میاں بیوی کی صورت میں ایک کروڑ کی انویسٹمنٹ کر سکتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ 12.3 فیصد کی سالانہ اوسط کو اگر مدنظر رکھا جائے تو وہ جوڑا جس نے بہبود سرٹیفکیٹ میں ایک کروڑ روپے انویسٹ کیے ہوں انہیں اوسطاََ ماہانہ ایک لاکھ  دو ہزار پانچ سو روپے کی آمدن ہو گی۔ پاکستان میں یہ زیادہ تر شہروں میں مڈل سے لوئر مڈل کلاس طبقے کی ماہانہ آمدن ہے۔

ٹیکس ریٹرنز فائل کرنے کے اثرات

تینوں کنونشنل میوچل فنڈز ریگولر انکم سرٹیفکیٹس سے بہتر ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ  کنونشنل میوچل فنڈز سے حاصل ہونے والے منافع پر 15 فیصد ٹیکس عائد ہے، مگر دوسری طرف نیشنل سیونگز سرٹیفکیٹس سے حاصل ہونے والی آمدنی پر نان فائلر کے لیے 30 فیصد اور فائلر کے لیے 15 فیصد ٹیکس عائد ہے۔

ایسے لوگ جو یہ ظاہر کردیں کہ فکسڈ انکم انویسٹمنٹ کی مد میں ان کی سالانہ آمدنی پانچ لاکھ روپے سے کم ہے ان کے لیے ٹیکس ریٹ کم ہے۔ ایسی صورت میں فائلرز کے لیے ٹیکس کی شرح 10 فیصد اور نان فائلرز کے لیے 20 فیصد  ہو جاتی ہے۔

ان ٹیکس ریٹس کو ذہن میں رکھا جائے تو ریگولر انکم سرٹیفکیٹس کا دس سالوں کا بعد از ٹیکس منافع اوسطاََ 6.9 فیصد بنتا ہے  لیکن  اس کے برعکس ایم سی بی کے پاکستان ساورن فنڈ، جس پر 15 فیصد ٹیکس عائد ہے، کا گزشتہ دہائی کا بعد از ٹیکس منافع اوسطاََ 8.6 فیصد بنتا ہے۔

یعنی اگر آپ ریگولر انکم سرٹیفکیٹس کے بجائے ایم س بی کے فنڈ میں سرمایہ کاری کریں گے تو ہی بہبود سرٹیفکیٹ سے زیادہ آمدن حاصل کر پائیں گے۔

دوسری جانب ڈیفنس سیونگز سرٹیفکیٹس زیرو کوپن بانڈز ہونے کی وجہ سے آمدنی کا ذریعہ نہیں ہیں جس کا مطلب ہے کہ جب تک یہ آپ کے پاس ہیں تب تک یہ کوئی منافع نہیں دیتے بلکہ صرف تب ہی منافع دیتے ہیں جب آپ انہیں کیش کرا لیتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here