سانبا بینک برائے فروخت ہے؟ لیکن خریدار کون ہے؟

452

سانبا بینک برائے فروخت ہے اور خریدار رقم ہاتھوں میں لیے قطار میں کھڑے ہیں، لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ چھوٹے سے کمرشل بینک کو خریدنے کے اتنے دعویدار کیوں سامنے آ گئے ہیں؟

2018ء میں بینک الفلاح، میزان بینک اور فیصل بینک کی فروخت کے حوالے سے خبریں سامنے آئیں تھیں لیکن تینوں بینک اب بھی اُسی انتظامیہ کے تحت کام کر رہے ہیں۔

یہ تینوں بینک فروخت کیوں نہیں ہوئے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سٹیٹ بینک ایسی کسی بہت بڑی ٹرانزیکشن پر راضی نہیں ہوا۔

لیکن سامبا کا قابل فروخت ہونا مختلف خریداروں کیلئے الگ قسم کا موقع ہے، خریداروں کی دوڑ میں پاکستان کے دو بڑے بینک شامل ہیں، فاطمہ گروپ نے بھی میدان میں اترنے کا اشارہ دیا ہے اور دلچسپ طور پر ایک فِن ٹیک سٹارٹ اَپ بھی اس مقابلے کا حصہ بننے کا ارادہ ظاہر کر چکا ہے۔ لیکن سامبا بینک کو خریدنے کی ڈیل کس قدر سودمند ہے اور اس میں کون سا کھلاڑی کامیاب ہو گا؟  اس کا احوال آگے چل کر آئے گا۔

یوں تو سامبا کی ابتداء 1955ء میں ہوئی جب سٹی بینک جدہ میں قائم ہوا تاہم سعودی امریکن بینک (سامبا) 1980ء میں اُس قانون میں تبدیلی کی صورت میں قائم ہوا جس کے تحت تمام غیرملکی بینکوں کیلئے ضروری قرار دیا گیا کہ وہ 60 فیصد سعودی ملکیت میں ہوں گے ۔

سامبا نے ترقی کا سفر جاری رکھا، 1984ء میں اس بینک نے یوکے میں قدم رکھ کر خود کو بین الاقوامی سطح تک وسعت دی اور 1999 میں یونائٹڈ سعودی بینک کے ساتھ انضمام کے بعد مشرق وسطیٰ کے سب سے بڑے مالیاتی اداروں میں سے ایک بن گیا۔

2004ء میں سٹی بینک نے اپنے بقیہ شیئرز مقامی سرمایہ کاروں کو فروخت کر دیے، جس سے سامبا فنانشل گروپ مکمل طور پر سعودی ملکیتی ادارہ بن گیا۔ 2007ء میں اس نے کریسنٹ کمرشل بینک کے اکثریتی شیئرز خرید کر پاکستان میں اینٹری دی۔ اُسی سال آر بی ایس (RBS) اور برکلیز جیسے بڑے ناموں نے پاکستانی بینکنگ سیکٹر میں قدم رکھا۔

سامبا بینک کی ترقی کی رفتار کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اس نے تیزی سے آگے بڑھنے کی بجائے چھوٹے یا درمیانے درجے کا ایک مستحکم کمرشل بینک بننے پر توجہ مرکوز رکھی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنا برانچ نیٹ ورک بھی ابھی تک محض 40 برانچوں تک محدود رکھا ہوا ہے اور گزشتہ دس سالوں کے دوران محض 10 نئی برانچیں قائم کی ہیں۔

یہ بھی کوئی تعجب خیز بات نہیں کہ گزشتہ 11 سالوں کے دوران ڈیپازٹس کے حوالے سے سانبا بینک کا مارکیٹ شیئر سب سے کم محض 0.3 فیصد سے 0.5 فیصد کے درمیان رہا تاہم گزشتہ پانچ سالوں میں سالانہ بڑھوتری کی مجموعی شرح بینکنگ انڈسٹری کی 13.9 فیصد سالانہ کے مقابلے میں متاثرکن یعنی 15.9 فیصد رہی۔

سامبا بینک پر سیاسی سایہ نہیں ہے، اور یہ بات کسی بھی بینک کی فروخت کیلئے نیک شگون ہے، مثال کے طور پر سُمٹ بینک پر سابق صدر آصف علی زرداری کیلئے منی لانڈرنگ کرنے کا الزام تھا۔

تاہم ہمارے کچھ سوالات جواب طلب ہیں، پہلا سوال یہ کہ نان پرفارمنگ لونز کی تفصیلات 2012ء کے بعد کی بیلنس شیٹس سے غائب ہیں ، 2012ء تک نان پرفارمنگ لونز کی تفصیلات کو ’ادر انفارمیشن سیکشن‘ میں رکھا گیا تھا لیکن بعد کی سات سالانہ رپورٹس میں یا تو نان پرفارمنگ لونز کی تفصیلات سرے سے شامل ہی نہیں کی گئیں یا پھر اس انداز میں پیش کی گئیں جسے سمجھنا مشکل تھا۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر سامبا مالی طور پر اتنا ہی مستحکم اور منافع بخش ہے تو اسے بیچا کیوں جا رہا ہے؟

اپریل 2021ء میں کارپوریٹ سیکٹر کو قرض دینے والے بڑے سعودی ادارے نیشنل کمرشل بینک نے سامبا فنانشل گروپ کے ساتھ انضمام کیا جس کی وجہ سے این سی بی سعودی عرب کا سب سے بڑا بینک بن گیا۔

انضمام کے محض 8 ماہ بعد سعودی نیشنل کمرشل بینک نے پاکستان میں اپنے آپریشنز بند کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ اسے سامبا بینک سے کچھ بہت زیادہ آمدن نہیں ہو رہی تھی۔

دیکھا جائے تو اس وقت پاکستان میں سٹینڈرڈ چارٹرڈ واحد غیرملکی بینک ہے جو صحیح معنوں میں آپریٹ کر رہا ہے۔ سٹی بینک اور ڈوئچے انتہائی چھوٹے پیمانے پر کام کر رہے ہیں۔

سامبا بینک کا ممکنہ خریدار کون ہو سکتا ہے؟

اس حوالے سے مختلف نام سامنے آ رہے ہیں جن میں پہلا نمبر فاطمہ گروپ کا ہے جو فرٹیلائزر، انرجی، ٹیکسٹائل اور شوگر سیکٹرز میں سرمایہ کاری کرتا ہے۔

پرافٹ کو معلوم ہوا ہے کہ فاطمہ گروپ سامبا بینک کے  84.51 فیصد شئیرز خریدنے کے خواہشمند اُس کنسورشیم کا حصہ ہے جس میں بینک کی موجودہ انتظامیہ یعنی اس کے سی ای او شاہد ستار اور گلف اسلامک انویسٹمنٹس بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ عارف حبیب کارپوریشن کے سی ای او اور فاطمہ فرٹیلائزر کے چیئرمین عارف حبیب مذکورہ کنسوورشیم کی جانب سے سامبا بینک کے شئیرز کی بولی میں فاطمہ گروپ کی نمائندگی کر رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ اس ٹرانزیکشن کو عارف حبیب لمیٹڈ ہی مینیج کرے گا۔

فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی سامبا کے اکثریتی شئیرز خریدنے کی مضبوط امیدوار اس لیے بھی ہے کیونکہ اس کی پشت پر ایک بڑا کاروباری گروپ پے۔

ٹیگ

یہ فن ٹیک سٹارٹ سامبا بینک خریدنے کا دوسرا مضبوط ترین امیدوار ہے۔ اپنے سی ای او طلال احمد گوندل کے نام کے ابتدائی حروف پر مشتمل ٹیگ پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل بینک بننے کی خواہش رکھتا ہے۔

اگرچہ ٹیگ کے پاس سٹیٹ بینک کا ای ایم آئی لائسنس موجود ہے لیکن یہ ای ایم آئی کی شرائط سے آزاد ہو کر کمرشل بینکنگ میں آگے بڑھنے کا خواہاں ہے۔

نیو یارک سے تعلق رکھنے والی وینچر کیپیٹل فرمز لبرٹی سٹی وینچرز اور بنانا کیپیٹل کی معاونت کی وجہ سے ٹیگ سامبا بینک کے شئیرز کی ادائیگی پاکستان سے باہر بھی کر سکتا ہے اور اس پر سٹیٹ بینک کو سرمائے کی ملک سے منتقلی کا اعتراض بھی نہیں ہو گا۔

میزان بینک

ملک کا سب سے بڑا اسلامک بینک بھی سامبا بینک کو خریدنے کی دوڑ میں شامل تھا لیکن اب اس کے سی ای او عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ ان کی ابتدائی پیشکش بہت کم تھی لہٰذا اب وہ اس دوڑ سے باہر ہیں۔

30 ستمبر 2021 تک میزان بینک کے غیر آڈٹ شدہ  ڈپازٹس 1.34 کھرب روپے تھے جبکہ سامبا کے ڈپازٹس  86.7 ارب روپے تھے۔ سامبا کو خرید کر میزان بینک کے ڈیپازٹس میں  محض 6.45 فیصد اضافہ ہوتا جو کہ بہت زیادہ نہیں، شائد اسی وجہ سے سامبا کو خریدنے کے لیے میزان بینک کی ابتدائی پیشکش بہت کم تھی۔

یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ

مارکیٹ ذرائع کے مطابق یونائیٹڈ بینک بھی سامبا بینک کو خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے تاہم اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں ہو سکی۔

لیکن سوال یہ ہے کہ آخر 1.8 کھرب روپے ڈپازٹس کا حامل یو بی ایل جیسا بڑا بینک اپنے سے کئی گنا چھوٹے بینک کو کیوں خریدے گا؟

یو بی ایل نے آخری مرتبہ 2012 میں ایچ ایس بی سی بینک کو خریدنے کی کوشش کی تھی جو کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔

ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سامبا بینک کو خرید کر یو بی ایل کو جتنی سرمایہ کاری اس پر کرنا پڑے گی، اس حساب سے فائدہ نہیں ہو گا۔

ایسا بھی کہا جا رہا ہے کہ عسکری بینک بھی سامبا کے حصول میں دلچسپی رکھتا ہے مگر اس بات کی بھی تصدیق نہیں ہو سکی۔

تو پھر سامبا کو خریدے گا کون؟

فاطمہ گروپ اور ٹیگ نے سامبا بینک خریدنے کیلئے سٹیٹ بینک سے اجازت طلب کی ہے تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ انہیں اجازت مل جائے۔ کیونکہ فاطمہ گروپ کے بینکوں کے ساتھ مسائل یقیناً سٹیٹ بینک کی نظر میں آئیں گے جبکہ ٹیگ کی کریڈبیلٹی بھی دیکھی جائے گی۔

دوسری طرف سامبا اپنی اچھی قیمت تب ہی لگوا سکتا ہے جب متعدد خریداروں کو ضابطے کی ابتدائی کاروائی کی اجازت مل جائے اور وہ اس کی مالی ویلیو کا تعین کر کے بولی لگا سکیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here