امیر ممالک کو تارکین وطن ورکرز کی ضرورت کیوں ہے؟

287

کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کی افرادی قوت میں ہر 20 میں سے ایک ورکر تارکِ وطن ہے؟

یہ لوگ کام کیلئے اپنا ملک چھوڑ کر کسی امیر ملک کا رُخ کرتے ہیں۔ اکثریت کے پاس اُس ملک کی شہریت نہیں ہوتی اور محض وَرک ویزہ پر کام کرتے ہیں۔

انٹرنینشل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق دنیا میں اس وقت تارکین وطن ورکرز کی تعداد 16 کروڑ 90 لاکھ ہے جو عالمی افرادی قوت کا 5 فیصد ہیں۔ ان میں سے 67 فیصد یعنی 11 کروڑ 40 لاکھ تارکینِ وطن امیر ملکوں میں رہائش پذیر ہیں۔

اکنامک گلوبلائزیشن کی وجہ سے تارکین وطن ورکرز کی تعداد میں اس قدر اضافہ ہوا ہے جو انسانی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ جہاں تک تاریخ کا تعلق ہے تو لوگ اپنا ملک چھوڑ کر ہمیشہ روزگار کے سلسلے میں دوسرے ملکوں میں جاتے رہے ہیں۔

زیادہ معاوضے اور بہتر مواقع

اپنا ملک چھوڑ کر دوسرے ملک جا کر کام کرنے کے پیچھے کئی عناصر کارفرما ہوتے ہیں جن میں سب سے اہم وہاں زیادہ معاوضوں کا ہونا ہے۔

دراصل لیبر مارکیٹ کی حرکیات بھی دیگر مارکیٹوں جیسی ہیں، جہاں کسی کو اپنے ہنر اور صلاحیتوں کا بہتر معاوضہ ملے گا وہ وہاں چلا جائے گا۔ چاہے سمندر پار ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ گلوبلائزیشن کی وجہ سے بھی اس رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔

اس کے علاوہ ویزہ سے متعلق رکاوٹوں میں کمی، آبادی میں رونما ہونے والی تبدیلیاں جیسے کہ کچھ ملکوں میں شرح پیدائش میں کمی، بوڑھوں کی تعداد میں اضافہ اور افرادی قوت کی قلت ایسے عناصر ہیں جو تارکین وطن کی تعداد بڑھانے کا سبب رہے ہیں۔

کرنسی ویلیوایشن

کرنسی کی قدر بھی اہم ترین عناصر میں سے ایک ہے جس سے لوگوں کو دوسرے ملکوں میں جا کر کام کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔ جیسا کہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ملکوں سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد مشرق وسطیٰ، امریکا، برطانیہ، سنگاپور اور ملائیشیا جیسے امیر ملکوں کا رخ کرتی ہے۔

زیادہ تر لوگ وہاں بلیو کالر جابز کرتے ہیں چونکہ اُن ملکوں کی کرنسی مضبوط ہے اس لیے تارکین وطن ورکرز کو اپنے ملکوں کی کرنسی سے تبدیلی کی صورت میں زیادہ پیسہ مل جاتا ہے۔ شائد اپنے ملکوں میں رہ کر وہ اتنے پیسے نہ کما پاتے۔

2020ء میں ورکرز نے جن تین ملکوں سے سب سے زیادہ ترسیلات زر ارسال کیں وہ امریکا، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب تھے۔ تینوں امیر ممالک ہیں۔

اسی سال ترسیلات زر وصول کرنے والے پانچ بڑے ملکوں میں بھارت، چین، میکسیکو، فلپائن اور مصر شامل تھے جن کا شمار کم یا متوسط آمدن والے ملکوں میں ہوتا ہے۔ بلکہ بھارت 2008ء کے بعد سے سب سے زیادہ ترسیلات زر وصول کرنے والا ملک ہے۔

عام طور پر تارکینِ وطن ورکرز کم یا متوسط آمدنی والے ملکوں سے امیر اور ترقی یافتہ ملکوں میں جاتے ہیں مگر یہ ضروری نہیں۔ کیونکہ امیر ملکوں سے بھی لوگ کام کے لیے کم یا متوسط آمدنی والے ملکوں کا رُخ کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر جب 1989ء میں دیوار برلن گری اور مشرقی و مغربی جرمنی اکٹھے ہوئے تو برطانیہ سے ایک بڑی تعداد میں کنسٹرکشن ورکرز نے جرمنی کا رخ کیا کیونکہ وہاں ان کی مانگ بڑھ چکی تھی اور کام کے مواقع زیادہ تھے۔

بہتر معاوضوں کے علاوہ مواقع کی کمی اور صلاحیتوں کے مطابق کام نہ ملنے کی وجہ سے بھی لوگ دوسرے ممالک کا رخ کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا یا فلپائن جیسے کم آمدنی والے ملکوں میں زراعت اور مینوفیکچرنگ کافی زیادہ ہوتی ہے لیکن ترقی کی دوڑ میں یہ اب بھی پیچھے ہیں کیونکہ یہ ابھی تک ہائی ٹیک انڈسٹری کو فروغ نہیں دے سکے، اس لیے محدود مواقع کی وجہ سے یہاں کی پڑھی لکھی اور ہنرمند کلاس امیر اور ترقی یافتہ ملکوں میں جا کر اچھا کمانے کو ترجیح دیتی ہے۔

کئی ممالک کا تارکین وطن ورکرز پر انحصار بہت زیادہ ہے۔ یورپ  اور ایشیا کے وہ ممالک جو کم شرح پیدائش کے سبب افرادی قوت کی کمی کا شکار ہیں، وہ تارکین وطن ورکرز کے ذریعے اپنی معیشت چلا رہے ہیں۔

اوورسیز ورکرز جو رقوم اپنے خاندانوں کو بھجواتے ہیں وہ ترسیلات زر کہلاتی ہیں جو ان کے آبائی ملکوں کی معیشت چلانے اور زرمبادلہ ذخائر میں اضافے کیلئے اہم سمجھی جاتی ہیں۔ 2020ء میں عالمی ترسیلات زر کا حجم 540 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔

ترسیلاتِ زر اوورسیز ورکرز کے خاندانوں کیلئے بھی لائف لائن کی حیثیت رکھتی ہیں کیونکہ ان کا مقصد ہی اپنے خاندان کا معیار زندگی بہتر بنانا ہوتا ہے۔

ورکرز کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

یوں تارکین وطن ورکرز ناصرف اپنے آبائی ملک بلکہ اپنے میزبان ملکوں کیلئے بھی اہم اثاثہ کی حیثیت رکھتے ہیں مگر اتنی اہمیت کے حامل ہونے کے باوجود انہیں سنگین مسائل کا سامنا رہتا ہے۔

اگرچہ ان ورکرز کی تنخواہوں، اوقاتِ کار، کام کے ماحول اور رہائش سے متعلق سخت قوانین موجود ہیں مگر کئی ممالک میں ان قوانین پر عمل نہیں کیا جاتا۔ اکثر ملکوں میں تو انہیں بنیادی انسانی حقوق بھی میسر نہیں ہوتے اور یہ انتہائی ناگفتہ بہ حالات کا سامنا کرتے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق قطر میں 20 لاکھ تارکین وطن ورکرز اس ملک کی مجموعی افرادی قوت کا 95 فیصد ہیں جو اس کی معیشت کا پہیہ رواں رکھے ہوئے ہیں۔

تاہم ورلڈ کپ 2022ء کی میزبانی ملنے کے بعد قطر کو اوورسیز ورکرز کے ساتھ سلوک کی وجہ سے عالمی اداروں کی جانب سے سخت پوچھ گچھ کا سامنا کرنا پڑا۔

اسی طرح کئی دوسرے ملکوں میں بھی اوورسیز ورکرز پریشان کن مسائل کا شکار ہیں جن کے جلد حل ہونے کی کوئی صورت نہیں۔ کورونا وبا کے دوران صورت حال مزید بگڑ گئی کیونکہ اکثر ملکوں میں اوورسیز ورکرز کو ہیلتھ انشورنس نہیں دی جاتی۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ انسانی حقوق، افرادی قوت اور تجارتی معاملات کے نگران عالمی ادارے ان تارکین وطن ملازمین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں تاکہ معاشی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے اپنا گھر بار چھوڑنے والے یہ لوگ باعزت طور پر یہ ذمہ داری نبھا سکیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here