’وبا کے دوران 430 ارب کی نئی سرمایہ کاری، 240 ارب روپے کے قرضے جاری کیے گئے‘

اڑھائی سالوں میں قرضوں کی شرح بالحاظ جی ڈی 86 فیصد سے کم کرکے 83.5 کی گئی ہے، گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر کا لیڈرز اِن بزنس سمٹ سے خطاب

137

اسلام آباد: گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) ڈاکٹر رضا باقر نے کہا ہے کہ کاروباروں کو وبا کے منفی معاشی اثرات سے بچانے کیلئے مجموعی طور پر دو کھرب روپے کے قرضے جاری کیے گئے جس میں سے 430 ارب روپے نئی سرمایہ کاری کیلئے جبکہ 240 ارب روپے کے قرضے جاری کیے گئے۔

بدھ کو اسلام آباد میں ’لیڈرز اِن بزنس سمٹ‘ سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے کورونا وبا پر قابو پایا گیا ہے اور دنیا کے مقابلے میں پاکستان میں کورونا کیسز کی رفتار انتہائی کم ہے، وبا کے دوران لوگوں کو تیزی سے نقد امداد فراہم کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کو ملازمین کو نوکریوں سے فارغ نہ کرنے کا کہا اور کمپنیوں اور اداروں کو مالی امداد فراہم کی، کاروباری برادری اور عام عوام کو دو کھرب روپے کے مجموعی قرضے دیئے گئے، 430 ارب روپے نئی سرمایہ کاری کے لئے دیئے گئے جبکہ 240 ارب روپے کے سستے قرضے فراہم کیے۔

رضا باقر کا کہنا تھا کہ اب معیشت بحال ہو چکیی ہے، گزشتہ مالی سال معاشی شرح نمو منفی سے تقریباََ چار فیصد تک پہنچی، اس کا مطلب ہے کہ لوگوں کی آمدن میں چار فیصد اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اڑھائی سالوں میں قرضوں کی شرح بالحاظ جی ڈی 86 فیصد سے کم کرکے 83.5 کی گئی ہے، ترسیلات زر میں جون 2021ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران 27 فیصد اضافہ ہوا، رواں مالی سال بھی اضافے کی شرح برقرار ہے۔

گورنر سٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں دو لاکھ 40 ہزار بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے اکاؤنٹس کھول چکے ہیں اور اس میں دو ارب 30 کروڑ ڈالر آ چکے ہیں، یومیہ ایک ہزار تارکین وطن اکاؤنٹ کھلوا رہے ہیں، پاکستان کی موجودہ شرح مبادلہ مارکیٹ کے مطابق ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here