پی ٹی آئی یا مسلم لیگ (ن): تین سالوں میں زیادہ سڑکیں کس نے بنائیں؟

696

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے شاہراہوں کی بروقت تکمیل کیلئے فنڈز کے اجرا کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معیاری سڑکوں کی تعمیر سے دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان رابطہ، تجارت اور روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔

بدھ کو نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (این ایچ اے) کے زیر انتظام منصوبوں پر پیشرفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس وزیراعظم کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں وفاقی وزراء مراد سعید، اسد عمر، معاون خصوصی شہباز گل، ڈپٹی چیئرمین منصوبہ بندی کمیشن جہانزیب خان، چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور سینئر افسران نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید نے اجلاس کو تقابلی جائزہ پیش کرتےہوئے آگاہ کیا کہ سابق حکومت کے تین سالوں (16-2013ء) میں صرف 645 کلومیٹر سڑکیں تعمیر ہوئیں جبکہ موجودہ حکومت کے تین سالوں میں کل 1753 کلومیٹر طویل سڑکیں مکمل ہو چکی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ منصوبہ بندی کے حوالے سے گزشتہ دور حکومت کے تین سالوں میں صرف 858 کلومیٹر جبکہ موجودہ حکومت کے تین سالوں میں 6118 کلومیٹر لمبائی پر مشتمل سڑکوں کی منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ رواں مالی سال 2021-22ء میں نیشنل ہائی ویز اتھارٹی 27 منصوبے مکمل کر لے گی، بلوچستان میں تین ہزار کلومیٹر سے زیادہ سڑکیں تعمیر کی جا رہی ہیں۔

مراد سعید کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم کے خود انحصاری کے ویژن کے مطابق منصوبے قرضوں کی بجائے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے مکمل کئے جا رہے ہیں، انہوں نے اجلاس کو راولپنڈی تا کھاریاں، میانوالی تا مظفرگڑھ اور حیدرآباد تا سکھر موٹرویز پر پیشرفت سے بھی تفصیلی آگاہ کیا۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ معاشی ترقی میں سڑکوں کا اہم ترین کردار ہے، اچھی سڑکوں کی وجہ سے گاڑیوں کی مرمت اور پٹرولیم مصنوعات کی درآمد کے اخراجات بھی کم ہو جا ئیں گے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مواصلات کے اہم اور بڑے منصوبوں پر روزانہ کی بنیاد پر پیشرفت کا خود جا ئزہ لوں گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ منصوبوں کی بر وقت تکمیل کے لئے فنڈز کا اجرا یقینی بنایا جائے۔

واضح رہے کہ 2 ستمبر کو سیالکوٹ کھاریاں موٹروے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ سابق ادوار میں بننے والی موٹرویز کا ملک کو زیادہ فائدہ نہیں ہوا، سابق حکمرانوں سے تین گنا زیادہ سڑکیں بنا چکے ہیں، سابق حکمران سڑکیں بنانے کے دعوے کرتے تھے اور ان پر ووٹ لیتے تھے، ہم ان سے تین گنا زیادہ سڑکیں بنا چکے ہیں اور یہ سستی بھی بنائی گئی ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ کہ ماضی کے حکمرانوں کی طرح سڑکوں کے کمیشن سے لندن میں فلیٹس نہیں خریدے جائیں گے، موجودہ حکومت کے موٹرویز اور شاہراہوں کے منصوبوں کے بارے میں لوگوں کو بتانا چاہیے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here