وزیراعظم نے سیالکوٹ کھاریاں موٹروے کا سنگ بنیاد رکھ دیا

69 کلومیٹر پر محیط سیالکوٹ کھاریاں موٹروے منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت دو سال کی مدت میں مکمل کیا جائے گا

193
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان سیالکوٹ کھاریاں موٹروے منصوبہ کی تختی کی نقاب کشائی کر رہے ہیں (تصویر: پی آئی ڈی)

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے 69 کلومیٹر پر محیط سیالکوٹ کھاریاں موٹروے کا سنگ بنیاد رکھ دیا، یہ منصوبہ دو سالوں میں مکمل ہو گا۔

جمعرات کو ایک خصوصی تقریب میں وزیراعظم نے منصوبہ کا سنگ بنیاد رکھا، اس موقع پر وزیر اطلاعات و نشریات فواد حسین چوہدری، وزیر مواصلات مراد سعید اور وزارت مواصلات اور نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (این ایچ اے) کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔

وزیراعظم نے سیالکوٹ کھاریاں موٹروے منصوبہ کی تختی کی نقاب کشائی کی۔ 69 کلومیٹر پر محیط سیالکوٹ کھاریاں موٹروے منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت دو سال کی مدت میں مکمل کیا جائے گا۔

سیالکوٹ کھاریاں موٹروے سمبڑیال انٹرچینج سے شروع ہوتی ہے اور سیالکوٹ اور گجرات کے اضلاع اور جلال پور جٹاں، گجرات، لالہ موسی، دولت نگر کے قریب سے گزرتی ہوئی جنڈ شریف کے مقام پر ختم ہوتی ہے۔

اس موٹروے کا اختتام کھاریاں کے جنوب مشرق میں تقریباََ 11 کلومیٹر اور قومی شاہراہ (این 5) سے تقریبا 9 کلومیٹر کے فاصلہ پر ہوتا ہے۔ چار لین کی اس موٹروے پر پانچ انٹرچینج، ایک سروس ایریا اور دو ٹول پلازے تعمیر کیے جائیں گے۔

اس منصوبے کے پی سی وَن کی لاگت 32.103 ارب روپے ہے اور اسے دو سالوں میں مکمل کیا جائے گا، موٹروے کی تعمیر سے عوام کو بنیادی سفری سہولیات کی فراہمی کے ساتھ علاقہ میں تیار ہونے والی مصنوعات کو اندرون و بیرون ملک آسان نقل و حمل میں مدد ملے گی جس سے ملک کی ترقی میں ایک اور سنگ میل کا اضافہ ہو گا۔

اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزاعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سابق ادوار میں بننے والی موٹرویز کا ملک کو زیادہ فائدہ نہیں ہوا، سابق حکمرانوں سے تین گنا زیادہ سڑکیں بنا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منصوبوں کا آغاز ایک نئی سوچ ہے، ترقیاتی فنڈز سکولوں، ہسپتالوں اور دیگر منصوبوں پر خرچ کیے جاتے ہیں لیکن فنڈز محدود ہونے کی وجہ سے ترقی بھی محدود ہوتی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ سیالکوٹ کھاریاں موٹروے انتہائی اہم منصوبہ ہے کیونکہ اس علاقہ میں صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کی بہت گنجائش ہے، گوجرانوالہ، گجرات، وزیر آباد اور سیالکوٹ میں صنعتوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے، صنعتی سرگرمیوں سے ہی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، جب تک آمدنی میں اضافہ نہیں ہو گا قرضے نہیں اتار سکتے۔

وزیراعظم نے کہا کہ زیادہ آبادی کی وجہ سے اس علاقے کی اہمیت زیادہ ہے اور یہ موٹروے صنعتی علاقوں سے گزرے گی، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے پر زور دے رہی ہے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، اس میں بھی رکاوٹیں دور کر رہے ہیں، رکاوٹوں کی وجہ سے ان کو فروغ نہیں ملتا۔

عمران خان نے کہا کہ سیالکوٹ کھاریاں موٹروے کی تعمیر سے سفر 100 کلومیٹر کم ہو جائے گا، اس سے اضافی ایندھن اور گاڑیوں کی مرمت کی مد میں خرچ ہونے والی رقم کی بھی بچت ہو گی کیونکہ ہم پٹرولیم مصنوعات درآمد کرتے ہیں اور ان پر قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ موٹروے پر ٹریفک کا دباؤ زیادہ ہوتا ہے، ماضی میں جو موٹرویز بنائی گئیں ان کا ملک کو زیادہ فائدہ نہیں ہوا، یہاں پر موٹروے پہلے بننی چاہیے تھی، دوسری طرف سڑک کو دو رویہ بھی بنایا جا سکتا تھا، اس سلسلے میں ہونے والے اب تک کے نقصان کا اندازہ بھی لگایا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ دو سالوں میں سیالکوٹ کھاریاں موٹروے مکمل ہو جائے گی، یہ ایک فعال منصوبہ ہے، اس سے پیسے کی بھی بچت ہو گی اور یہ علاقے ترقی کریں گے اور صنعتوں کو بھی موٹروے سے منسلک کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے ترقیاتی فنڈز کی بچت ہو گی اور سرکاری ترقیاتی فنڈز دوسرے ترقیاتی منصوبوں کے لیے استعمال کیے جا سکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسابقتی بولی کا نظام شروع کرنے کی وجہ سے قومی خزانے کو 26 فیصد بچت ہوئی ہے، یہ بھی ایک بہت مثبت قدم ہے، جو بھی منصوبہ لگنا چاہیے اس کے بارے میں پہلے سوچنا چاہیے کہ اس سے ملک کو کتنا فائدہ ہوگا۔

عمران خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سوات موٹروے کا منصوبہ بہت کامیاب رہا اور اس پر ہماری حکومت کو فخر ہے، عید کی چھٹیوں کے دوران سیاحت کے لیے جانے والوں کی تعداد بڑھنے کی وجہ سے 27 لاکھ گاڑیوں نے اس موٹروے سے سفر کیا، اس سے معاشی آمدنی بھی بڑھی ہے۔ سرکاری اور نجی شراکت کے تحت سڑکوں کی تعمیر کے لیے سرمایہ کاری تب آتی ہے جب ٹریفک کا دباؤ زیادہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ سیاحت بہت بڑا شعبہ ہے جس پر ماضی میں توجہ نہیں دی گئی، سوات موٹروے سے دیر، چترال اور گلگت تک موٹروے بننے سے سیاحت کو فروغ ملے گا، بیرون ملک سے بھی سیاح آئیں گے اور آمدنی میں بھی اضافہ ہو گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (این ایچ اے) نے بہت تھوڑے وقت میں زیادہ کام کیا ہے، سابق حکمران سڑکیں بنانے کے دعوے کرتے تھے اور ان پر ووٹ لیتے تھے، ہم ان سے تین گنا زیادہ سڑکیں بنا چکے ہیں اور یہ سستی بھی بنائی گئی ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ماضی کے حکمرانوں کی طرح سڑکوں کے کمیشن سے لندن میں فلیٹس نہیں خریدے جائیں گے، موجودہ حکومت کے موٹرویز اور شاہراہوں کے منصوبوں کے بارے میں لوگوں کو بتانا چاہیے۔

وزیراعظم نے پبلک پرائیویٹ پارٹرشپ کے تحت سیالکوٹ-کھاریاں موٹروے منصوبہ شروع کرنے پر وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید اور این ایچ اے کے حکام کو خراج تحسین پیش کیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here